اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰی عِنْدَ اللّٰہِ
کَمَثَلِ اٰدَمَ خَلَقَہمِنْ تُرَابٍ
ثُمَّ قَالَ لَہ کُنْ فَیَکُوْنُ (59) اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ فَلاَ تَکُنْ مِّنَ
الْمُمْتَرِیْنَ (60) فَمَنْ حَآجَّکَ فِیْہِ مِنْم بَعْدِ مَا جَآئَکَ مِنَ
الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآئَنَا وَ اَبْنَآئَکُمْ وَنِسَآئَنَا
وَنِسَآئَکُمْ وَاَنْفُسَنَا وَاَنْفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَھِلْ فَنَجْعَلْ
لَّعْنَتَ اللّٰہِ عَلَی الْکٰذِبِیْنَ (61) اِنَّ ھٰذَا لَھُوَ الْقَصَصُ
الّحَقُّ وَمَا مِنْ اِلٰہٍ الِاَّ اللّٰہُ وَ اِنَّ اللّٰہَ لَھُوَ الْعَزِیْزُ
الْحَکِیْمُ(62) فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمم بِالْمُفْسِدِیْنَ
(63)ع
ترجمہ:
تحقیق عیسیٰؑ کی مثال اللہ کے نزدیک آدم ؑ
جیسی ہے کہ اس کو بھی پیدا کیا مٹی سے پھر فرمایا اس کو ہوجا پس وہ ہوگیاo حق تیرے ربّ کی طرف سے ہے
پس آپ شک کرنے والوں سے نہ بنیںo اگر جھگڑیں وہ اس بارے میں بعد اس کے کہ تیرے پاس
علم آچکا ہے تو فرمادیجئے آﺅ
بلالیں ہم اپنے بیٹوں کو اورتم اپنے بیٹوں کو ہم اپنی عورتوں کو اورتم اپنی عورتوں
کو اورہم اپنے نفسوں کو اورتم اپنے نفسوں کو پھر دعا مانگیں اورمقرر کریں اللہ کی
لعنت جھوٹوں پرo تحقیق یہ (جو سابق میں عیسیٰؑ کے متعلق ذکر ہوا) بیان حق ہے
اورکوئی بھی معبود نہیں سوائے خداکے اورتحقیق اللہ ہی غالب حکمت والاہےo پس اگر وہ روگردانی کریں تو
خدافسادیوں کو جاننے والاہےo
نصاریٰ نجران کے قول کی استدلالی تردید
اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰی: اس کے شانِ نزول کے
متعلق وارد ہے کہ وفد نجران کے دو معتمد ا ٓدمی جو اُن کے پادری تھے ایک کا نام
سید اور دوسرے کا نام عاقب تھاوہ حضرت رسالتمآب کے پاس آئے اور حضرت عیسیٰؑ کے
متعلق بحث کا آغاز ہوا تو ان دونوں نے احتجاج کے طور پر یہ بات کہی کہ ہر انسان
کےلئے باپ ضروری ہوا کرتا ہے آپ عیسیٰؑ کے متعلق بتائیں کیونکہ ان کا باپ تو ہے
نہیں گویا وہ حضرت عیسیٰؑ کی الوہیت ثابت کرنا چاہتے تھے پس یہ آیت اتری۔
اس بیان سے حضرت عیسیٰؑ کی الوہیت کی نفی پر
دو دلیلیں مستفاد ہوتی ہیں:
(۱) حضرت عیسیٰؑ کو خدا نے
خلق فرمایا ہے اور جو مخلوق ہو خواہ باپ کے بغیر ہی پیدا ہو وہ خدا نہیں ہو سکتا
(۲) حضرت عیسیٰؑ کی شانِ
خلقت حضرت آدم ؑ کی شان سے زیادہ نہیں ہے کیونکہ یہ صرف باپ کے بغیر پیداہوئے اور
حضرت آدم ؑ بغیر ماں باپ دونوں کے پیدا ہوئے تھے اگر باپ کے بغیر پیدا ہو جانا
الوہیت کا موجب ہے تو اس بارہ میں حضرت آدمؑ کو فوقیت حاصل ہے پس ان کو بدرجہ
اَولیٰ خدا کہنا چاہیے حالانکہ نصرانی اس کی خدائی کے قائل نہیں تو پس انصاف کا
تقاضا یہ ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کے متعلق بھی اس غلط رویہ کو ترک کردیں
کُنْ فَیَکُوْنُ: ظاہری بیان کے لحاظ سے
درست تو اس طرح ہوتا کہ کہا جاتا کُنْ فَکَانَ لیکن ظاہراً اس کو حکایت حال ماضی
قرار دے کر یَکُوْنَ استعمال کیا گیا ہے۔
مقصد یہ ہے کہ جب بھی کسی شےکی ایجاد
کاارادہ فرماتا ہے تو اس کے ارشادکُنْ سے شئے فَیَکُوْنُ کی منزل تک پہنچ جاتی ہے
پس حضرت آدمؑ کو پیداکرنے کےلئے بھی اس نے ارشاد کُنْ کیا اور وہ فَیَکُوْنُ کی
منزل تک پہنچ گئے۔
حضرت آدم ؑ کی مثال دے کر حضرت عیسیٰؑ کی
بغیر باپ کی پیدائش کے متعلق نصرانیوں کے شبہ کا حل کرنا مطلوب ہے کہ خالق حکیم
کسی شئے کی تخلیق میں اسباب و علل اور موادکا محتاج نہیں اور نہ مرورِ زمانہ اور
تخلل وقت کا حاجت مند ہے۔
جس طرح وہ حضرت آدم ؑ کو تدریجی طریق سے
مستثنیٰ قرار دے کر فوریت تکونیہ سے خلق فرما سکتا ہے وہ حضرت عیسیٰؑ کو بھی اس
طرح پیدا کرنے پر قادر ہے اور اس نے ایسا ہی کیا ہے پس عیسیٰؑ اس کا بندہ ہے خدا
کا نہیں۔