یاعلیؑ مدد
سوال: ہر وقت، ہر مقام پر حاضروناظر ہونا خداوند کریم کی ذات سے
مخصوص ہے اور اس میں کسی اورکو شریک کرنا کفر وشرک ہے لہذا شیعوں کا یاعلیؑ مدد
اور یاعباس ؑادرکنی کہنا وغیرہ ناجائز وشرک ہے؟
جواب(۱): خدا سے جو صفت اختصاص رکھتی ہے ہمارا اعتقاد ہے کہ واقعی
اس میں کسی کو شریک ماننا ناجائز اورکفر ہے لیکن جہاں تک محمد وآلِ محمد کے علوم کا تعلق ہے جو خداوند نے ان کو عطا فرمائے ہیں اورکائنات عالم میں جس
حد تک اُن کی رسائی ہے جس کو شیعی عقیدہ درست قرار دیتاہے آیا خداوند کا اختصاص
انہی حدود سے ہے اور بس؟ تو یہ ناخدا شناسی ہے بلکہ یہ عقیدہ دامنِ علم و قدرتِ
خداوندی پر بدنما داغ ہے جس سے انسان حیطہ اسلام سے کوسوں دور ہو جاتا ہے کیونکہ
خدا واجب ہے اوراس کے علم اوراس کی قدرت کی کوئی حد نہیں اورمحمد وآلِ محمد ممکن ہیں ان کا علم وقدرت محدود ہے خواہ ہم اپنے ناقص دماغ سے ان کی حدود
معین کرنے سے قاصر ہیں لیکن ہمارے ان کی حدود معین نہ کرسکنے سے یہ لازم نہیں آتا
کہ واقعی طور پر ان کے علم وقدرت کی کوئی حد نہیں-
جواب(۲): روح جب عناصر کے شکنجہ میں پھنسا ہوا ہوتا ہے اس کے تصرفات
کافی حد تک پابند عناصر ہوتے ہیں لیکن جب قفس عنصری کی تاروں کو توڑکر آزادی کی
وادی میں قدم رکھتا ہے تو اس کے اختیارات میں وسعت پیدا ہو جاتی ہے مثلاًنیند
اورموت کسی حد تک ایک دوسرے سے ملتی جلتی دوچیزیں ہیں عالم خواب میں روحِ انسانی
کچھ تھوڑا سا آزاد ہوجاتا ہے اورموت (مرجانے) کے بعد بالکل آزاد ہوتا ہے، عالم خواب کی تھوڑی سی آزادی حاصل ہوتے ہی اپنے بستر
پر لپٹ کر گوظاہر ی جسمانی آنکھیں بند ہوتی ہیں لیکن روح اسی جسم ظاہری جیسا ایک
مثالی جسم لے کر بہت دوردراز کے سفر کرنے پر موفق ہوتا ہے، اُس مثالی جسم کی آنکھیں یہ آنکھیں نہیں جو جسم ظاہری
کی جزوہوکر بستر پر موجود ہیں، اِسی طرح مثالی جسم کے ہاتھ پاوٴں اِس ظاہری جسم کے
ہاتھ پاوٴںسے الگ الگ ہیں حتی کہ مثالی جسم کے تمام اعضا اِس واقعی اورظاہری جسم
کے تمام اعضا سے الگ ہوتے ہیں کیونکہ یہ تو ایک جگہ موجودہیں اور وہ اُسی وقت
مثالی جسم کی معیت میں اطراف عالم کی سیر میں مصروف ہوتے ہیں لیکن اُن کا ہر فعل
اِن کا فعل کہا جاتا ہے اوراُن کی تمام سیروتفریح اِن کی طرف منسوب کی جاتی ہے
مثلاً خواب میں دیکھنے والا بیدار ہو کر خواب کی تعبیر حاصل کرنے کے لئے بیان کرتا
ہے کہ میں خواب میں فلاں جگہ گیا یہ دیکھا وہ دیکھا فلاں سے ملا اُس نے مجھے یہ
کہا وہ کہا فلاں زیارت کی فلاں خوشی دیکھی فلاں مصیبت میں مبتلا ہوا وغیرہ، اب یہ
نہیں کہتا کہ میرے مثالی جسم نے یہ مناظر دیکھے یا مصائب جھیلے بلکہ اِسی ظاہری
جسم کی طرف وہ سب کچھ منسوب کرتا ہے جو اُس کو عالم خواب میں مثالی جسم کے ساتھ
پیش آیا اورسننے والاکوئی ہوش مند اِس کو غلط بیانی سے بھی تعبیر نہیں کرتا
اورکوئی موحد اس پر کفر وشرک کا فتوی بھی نہیں لگاتاکہ حاضر ناظر ہونا تو اللہ کا خاصہ
ہے تو کس طرح ہر جگہ حاضروناظر ہوگیا؟ سویا یہاں تھا اورایک ہی وقت میں پہنچ وہاں
گیا؟ اور طرہ یہ کہ فتویٰ لگانے والے خود بھی انہی حالات سے دوچار ہوتے ہیں اور
لطف یہ کہ ظاہری جسم کی آنکھیں بند ہیں اورمثالی جسم کی آنکھیں کھلی ہیں اِس کے پاوٴں
ساکن ہیں اوراُس کے متحرک ہیں اِس کے ہاتھ ایک جگہ پڑے ہیں اور وہ ہل چل رہے ہیں وعلی ھٰذالقیاس
بیان کے وقت یہ بند آنکھیں
کہتی ہیں کہ وہ کھلی ہوئی آنکھیں ہم تھیں، یہ خاموش زبان کہتی ہے کہ اُس عین
خاموشی کے وقت بول میں رہی تھی اوریہ سب ساکن اعضا کہتے ہیں کہ بعینہ اسی سکون کے
عالم میں وہاں متحرک ہم تھے تو گویا حاضر وناظر ہونا تو بجائے خود اجتماعِ ضد ین کا ہر جگہ مسئلہ درپیش ہے اوراسے
محال کوئی نہیں
کہتا؟نیز عالم خواب میں بعض اوقات مثالی جسم مصائب سے دوچار ہوتا ہے تو یہ حقیقی
جسم نیند کی حالت میں تڑپ جاتا ہے بلکہ زبان سے واویلا کرنا شروع کردیتا ہے یاوہ
مثالی جسم مناظر عجبیہ دیکھتا ہے تو یہ بستر پر سویا ہوا جسم مسکرا دیتا ہے
حالانکہ اس پر نیند طاری رہتی ہے، اب اگر سوال کیا جائے کہ تو ہنس کیوں رہاتھا یا
روکیوں رہاتھا تو جواب دیتا ہے کہ میں فلاں مقام پرکسی منظر عجیب کو دیکھ کو ہنسا
تھا یا فلاں مقام پرکسی مصیبت میں پھنس کررویا تھا-
بہر کیف یہاں ایک ہی روح ہے
جو ایک ہی وقت میں دونوں جسموں سے تعلق رکھتی ہے ایک یہاں خاموش سویاہوا ہے دوسرا
وہاں سیر کررہاہے وہ عجیب منظر دیکھ کر وہاں ہنستا ہے تو یہ سویا ہوا یہاں ہنستا
ہے، مصیبت سے گھبرا کر ایک ہی وقت میں وہ وہاں روتا ہے تو یہ یہاں واویلا کرتا ہے،
اسی طرح باقی تمام افعال سمجھ لیجئے پس ایک ہی وقت میں یہاں بھی حاضر وہاں بھی
حاضر، زبان سے دونوں مقاموں پر بولتا ہے آنکھوں سے ہر دومقام پر روتا ہے منہ سے
دونوں مقاموں پر ہنستا ہے اوریہ ایک ایسی تلخ حقیقت ہے کہ کسی کو مجالِ انکار نہیں
اگر دونوں جگہ پر حاضر وناظر نہیں تو بتائیے نظار ہ تو وہاں تھا یہ یہاں کیوں
ہنساہے؟ مصیبت تو وہاں تھی یہ یہاں کیوں چلّایا ہے؟ ہم کلام تو وہاں تھا یہ یہاں
کیوں بولاہے؟ کیا اب یہاں فتویٰ لگانے کی جراٴت ہے کہ جوشخص ایک انسان کے دومختلف مقامات یا زیادہ پر ایک
ہی وقت میں حاضر وناظر ہونے کا اعتقاد رکھے وہ مشرک ہے؟
اعتراض: اگر کوئی کہے کہ وہ جسم مثالی ایک فرضی جسم ہے اس کی کوئی
حقیقت نہیں اور درحقیقت جسم صرف یہی ایک ہے اور روح بھی صرف اسی ایک میں موجود ہے
اوریہ ایک وقت میں صرف ایک ہی مقام پر ہے؟
پاسخ: بے شک وہ ایک مثالی جسم ہے اوریہ جسم حقیقی ہے، لیکن بات
تو یہ ہے کہ روح کا تعلق ایک ہی وقت میں دونو ں سے ہے یا نہیں؟ اگر وہ فرضی ہے اور
روح کا تعلق اُس سے نہیں تو بتائیے کہ اُس کے اثرات اِس پر کیسے طاری ہوگئے؟ اُس
کے رونے سے اُسی وقت اِس کی زبان سے فریاد کیوں نکلی؟ اُس کے ہنسنے سے یہ کیسے
ہنسا؟ اور اگر انکار ہی پر مصرّ ہوں اورکہیں کہ اِس جسم پر اُس مثالی جسم کے کوئی
اثرات نہیں، یہ نہ روتاہے نہ ہنستاہے بلکہ یہ سب واقعات اُسی مثالی جسم سے تعلق
رکھتے ہیں تو میں عرض کروں گا کہ اگر حقیقت کچھ نہیں ہوتی تو بصورتِ وجوب غسل
واقعہ کا تعلق تو اُس مثالی جسم سے ہوتا ہے اورمنی کا خروج بھی اُسی سے ہوتا ہے
فرمایئے اِس پر غسل کیوں واجب ہوگیا اور اِس کے کپڑے کیوں نجس ہوگئے؟
اگر ایک مسلمان عالم خواب
میں حضرت رسالتمآب ﷺکی زیارت کا شرف حاصل کررہا ہو اور اُسی اثنا میں کوئی باہر سے آکر اِس جسم کو
بیدار کردے تو وہ چونکہ اِس جسم ظاہر ی کا مدبر ہے خواہ وہاں کتنا ہی پر لطف وقت
گزر رہاہو اُسی آن میں وہ سب پر کیف حالات چھوڑ کر فریضہ تدبیر سنبھالنے کےلئے
یہاں آپہنچے گا اورفوراًہی جگانے والے پر خفا ہوگا کہ تو نے ایسا کیوں کیا؟ اور
اِسی ظاہری جسم کی زبان سے کہے گا کہ میں نے اِنہی آنکھوں سے زیارت کی اِس زبان سے
سلام عرض کیا وغیرہ اوربیدار ہونے پر اِس کو اُس پر کیف منظر کے ترک کرنے کا افسوس
حد سے زیادہ ہوگا حتی کہ اگر جگانے والاکمزور ہوگا تو اُسے پیٹنے سے بھی گریز نہ
کرے گا، اب اگر واقعات کا تعلق صرف اُسی فرضی جسم سے ہے تو افسوس یا خوشی کیوں ہے؟
بہر کیف یہ روح کی اُس تھوڑی
سی آزادی کا نتیجہ ہے کہ ایک ہی وقت میں دومقاموں پر حاضر ہوتا ہے نیز یہ حالات
صرف مومن ومسلمان سے مختص نہیں بلکہ کافر ومشرک بھی اس قسم کے حالات سے دوچار ہوتے
رہتے ہیں، پس اگر کافرکی روح ایک وقت میں دومقاموں پر حاضر ہوسکتی ہے اور اس کے
متعلق یہ عقیدہ رکھنا شرک نہیں تو کسی اور کے متعلق یہ عقیدہ رکھنا شرک کیوں ہوگا؟
مومن کے خواب کے متعلق
احادیث میں وارد ہے کہ نبوت کے اجزا میں سے ایک جز ہے چنانچہ صحیح بخاری [1] میں ہے:
عن انس بن مالک
اِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ قَالَ الرُّویَا الحَسَنَةُ مِنَ الرَّجُلِ الصَّالِحِ جُزء
مِّن سِتَّةٍ وَّ اَربَعِینَ جُزءً مِّنَ النُّبُوَّةِ
ترجمہ: انس بن مالک سے
مروی ہے کہ رسالتمآبﷺ نے فرمایا کہ نیک مرد کا اچھا خواب نبوت کی چھیالیسویں جز ہوا کرتاہے-
عن عبادة بن
الصامت عَنِ النَّبِیِّ قَالَ رُویَا المُومِنِ جُزء مِّن سِتَّةٍ وَّ اَربَعِینَ
جُزءً مِّنَ النُّبُوَّةِ
ترجمہ: عبادہ بن صا مت نے
رسالتمآبﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا مومن کا خواب نبوت کی
چھیالیسویں جز ہوتا ہے- [2]
عن ابی ھریرة اِنَّ
رَسُولَ اللّٰہِ قَالَ رُویَا المُومِنِ جُزء مِّن سِتَّةٍ وَّاَربَعِینَ جُزءً
مِّنَ النُّبُوَّةِ
عن ابی سعید
الخدری اِنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللّٰہِ یَقُولُ الرُّویَا الصَّالِحَةُ جُزء مِّن
سِتَّةٍ وَّاَربَعِینَ جُزءً مِّنَ النُّبُوَّةِ
ترجمہ: ابوسعید
خدری سے مروی ہے کہ میں نے رسالتمآب ﷺکو فرماتے سنا کہ اچھا خواب نبوت کی جزوں میں چھیالیسویں جز ہے- [4]
بہر کیف ہر چہار روایات کا
مطلب واحد ہے یعنی ایک صالح مومن کی روح جب قید ِعناصر سے معمولی آزاد ہو جس کی
بدولت وہ بیک وقت دومقاموں پر حاضر ہوسکتی ہے اس سے روحِ نبوت باوجودیکہ محبوسِ
قید ِعناصرہو چھیالیس گنا زیادہ طاقت رکھتی ہے جب عام روحِ نبوت کی یہ طاقت ہے تو
پھر وہ نبوت جس کے زیر فرمان ایک لاکھ ایک کم چوبیس ہزار نبوتوں کی دنیا آباد ہو
اس کی طاقت کا کو ن اندازہ کرسکتا ہے؟
میں نے تفسیر ہذا کی جلداوّل
یعنی مقدمہ [5] میں اس امر کی وضاحت کی ہے کہ گزشتہ انبیا سرکارِ رسالتمآب
ﷺکے مقابلہ میں جزوی حیثیت رکھتے تھے اوریہ ان کے مقابلہ میں
کلی حیثیت کے حامل ہیں وہ محدود قوم اورمحدود علاقہ پر مامور بہ نبوت تھے اوراِن
کی نبوت عالمی نبوت ہے، تو اس سے یہ چیز خود بخود ثابت ہو جاتی ہے کہ اُن کا صحیح
جانشین گزشتہ نبیوں سے افضل ہوگا کیونکہ بادشاہ کا قائم مقام اس کی تمام رعایا کا
حاکم ہوا کرتا ہے یہ اوربات ہے کہ ہم اس کے صحیح جانشین کے انتخاب میں خطاکر جائیں
اورایسے شخص کو منتخب کربیٹھیں جو اُن صفات کا حامل نہ ہو؟ پس صحیح بخاری کی
روایات کی تطبیق سے معلوم ہوا کہ اگر مومن کی روح عالم خواب میں دومقاموں پر پہنچ
سکتی ہے تو نبی عالم بیداری میں چھیالیس جگہ حاضر ہوسکتا ہے اور یہ عام نبی کی حالت
ہے اورخاتم الانبیاﷺ کا ایک مختصر وقت میں متعدد مقامات میں حاضر ہونا شب ِمعراج کی حقیقت سے واضح
ہے اورپھر جو اُن کا صحیح قائم مقام ہواس کے لئے متعدد مقامات پر حاضر ہو سکنے کا اشکال ہی فضول ہے-
پس اگر یہی حاضر وناظر ہو نا
خدا کے ساتھ مخصوص ہے تو یہ عقیدہ یقینا ناخدا شناسی ہے اوراگر خدا کی ذات کو اس
سے اَجل واَرفع قرار دے کر کہا جائے کہ خدا اتنی طاقت اپنی خاص مخلوق کو بھی دے
سکتا ہے تو یہ اس کی عظمت وقدرت کی دلیل ہے اوروہ خدا جو اپنے خاص بندوں کو اس قدر
طاقت دے سکتا ہے جس سے ہمارے ناقص عقول عاجز ہیں تو ہمارے وہم وگمان کی رسائی اس
کی اپنی ذات تک کیسے ہوسکتی ہے؟
جواب(۳): علم مسمریزم کے عامل اپنے معمول کے ذریعہ سے عجیب وغریب
باتیں ظاہر کرتے ہیں، ایک عامل علم مسمریزم کی طاقت سے ایک نابالغ معمول کو بے ہوش
کرکے سلادیتا ہے اورایسا معلوم ہوتا ہے کہ اب اس میں کوئی حس وحرکت نہیں اب
پوچھتاہے تو کون؟ وہ کہتا ہے میں معمول، پھر پوچھتا ہے میں کون؟ وہ جواب دیتا ہے
تو عامل، پھر عامل ایک شخص کے سرپر ہاتھ رکھ کر معمول سے دریافت کرتا ہے تو معمول
جس نے اِس سے پہلے نہ اُس شخص کو دیکھا نہ سنا عامل کے سوال کے بعد اُس شخص کا نام
بتلاتا ہے اُس کے باپ کا نام لیتا ہے اُس کے شہر کا پتہ بیان کرتا ہے اوراس کا
سوال بیان کرکے اُس کے نتیجہ کی خبر بھی دے دیتا ہے اوریہ سب چیزیں عام طور پر
درست بھی ہوا کرتی ہیں جیسا کہ عام مشہور ہے، پھر عامل دوسرے شخص کے سرپر ہاتھ
رکھتا ہے تو وہی معمول اُس شخص کے تفصیلی حالات بیان کرتا ہے اورمجمع میں سے جس جس
کے متعلق عامل سوال کرتا جائے وہ بیان کرتا جاتا ہے حالانکہ یہ لوگ دور دور کے
بسنے والے ہوتے ہیں جن سے معمول ظاہری طور پر قطعا ًناآشناہوا کرتا ہے اب بتائیے
کہ عامل معمول میں یہ طاقت بھر سکتا ہے تو کیاخالق کائنات اپنے مخصوص بندوں کو اتنی یا اس سے زیادہ طاقت
عطاکرنے سے عاجز ہے؟
جواب(۴): معراجِ جسمانی مسلمانوں کا مسلمہ عقیدہ ہے جناب رسالتمآبﷺ رات کے ایک مختصر حصہ میں تمام ملا اعلیٰ کی سیر کرکے واپس بھی آگئے اوراِس
تھوڑے سے وقت میں آپ نے جو تفصیلی مناظر ملاحظہ فرمائے اُن کی لمبی فہرست ہے،
ملائکہ سے گفتگو ہوئی، بیت المعمور پر نماز پڑھی، جنت کو دیکھا، دوزخ کو دیکھا،
عرش کی سیر کی، حجاباتِ قدرت دیکھے، نا معلوم کیا کیا دیکھا؟ اورپھر پلٹ بھی آئے،
تو جو خداوندجسم عنصری کی پابندی کے ساتھ اپنے رسول کو اتنی طاقت دے سکتا ہے تو کیا
وہ خداوند اِس پابندی کے ہٹ جانے کے بعد صرف روحِ رسالت کو اتنی طاقت نہیں دے
سکتا کہ چشم زدن میں پورے عالم کا معائنہ فرمالے؟
سوال : مرجانے کے بعد کسی کو پکارناعبث ہے کیونکہ وہ نہ سن سکتا
ہے اور نہ کچھ کر سکتا ہے؟
جواب(۱): نماز کے تشہد میں تمام مسلمان اَلسَّلامُ
عَلَیکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَ رَحمَةُ اللّٰہِ وَ بَرَکَاتُہ پڑھتے
ہیں حالانکہ اُن کے رحلت فرماجانے کا علم ہے تو کیا نماز کے وقت وہ حاضر وناظرہیں
اورباقی حالات میں اُن کی یہ خصوصیت مفقود ہوتی ہے؟
اگر کسی کا بھائی یافرزند
مرجاتا ہے تو قبر پرجاکر قبر سے خطاب کیا جاتاہے کہ بھائی جان! میں تیرے بعد
تنہاہوں تیرے بچے یتیم ہیں یابیٹا ! تیرے بعد باپ کا کوئی سہارا نہیں میں تیری قبر
پر آیاہوں میرے ساتھ کلام کرو، حالانکہ علم ہوتا ہے کہ یہ جواب نہ دیں گے اور اِن
خطابات کو کوئی شخص شرک وکفر سے تعبیر نہیں کرتا کیونکہ یہ خطابات صرف اظہارِ محبت
کےلئے ہوتے ہیں، پس جب عام عزیزوں کی قبروں سے خطاب کیا جاسکتا ہے تو اولیاءُاللہ
کی قبروں کے سامنے اظہارِ عقیدت سے کیا مانع ہے کہ ان کو خطاب کر کے اپنی مشکلات
کا ذکر کیا جائے جبکہ مقصود اُن کو بارگاہِ خدامیں وسیلہ بناناہو؟
پس نتیجہ یہ نکلا کہ نہ گھر
میں اُن کو پکار نا ممنوع ہے اور نہ اُن کی قبروں پر جا کر اُن کو خطاب کرنا عبث
ہے کیونکہ مقصود ہر دو صورتوں میں اُن کو وسیلہ بنانا ہے اور اللہ تعالیٰ سے ہی
طلب ِحاجات کی جاتی ہے پس اِیَّاکَ
نَستَعِین سے اِس فعل کی کوئی منافات نہیں ہے-