التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

نقدی کا وجود

نقدی کا وجود

نقدی کا وجود
چونکہ ا نسان مدنی الطبع ہے اورامور زندگی میں باہمی تعاون اورلین دین کا محتاج ہے بنابریں چیزوں کا تبادلہ اس کا جزوزندگی ہے مثلاً ایک شخص کو گندم کی ضرورت ہے لیکن پاس موجود نہیں اوربجائے گندم کے اس کے پاس اپنی ضرورت سے زائد کپڑاموجود ہے اوردوسرے شخص کو لباس کی ضرورت ہے لیکن بجائے کپڑے کے اس کے پاس گندم فالتوموجود ہے پس دونوں کےلئے ضروری ہے کہ اپنے پاس موجود ہ فالتو چیز کا دوسرے کے پاس موجودہ زائد شئے سے حسب ضرورت تبادلہ کرلیں لیکن مشکل یہ ہے کہ کپڑے کی معین مقدار کے مقابلہ میں کس قدر گندم ہونی چاہیے؟ اورہر جنس کا دوسری جنس سے بوقت حاجت جب تبادلہ ہوگا یہی مشکل پیدا ہوجائے گی؟ پس اس مشکل کو آسان کرنے کے لئے ایک تیسری چیز کی ایجاد کی گئی جس سے ہر جنس کا اندازہ صحیح ہو سکے اوربوقت تبادلہ اجناس اسی کی طرف رجوع کیا جائے اوروہ ہے نقدی پس اس میں شک نہیں کہ نقدی کاوجود خود مقصود تمدن نہیں بلکہ مقصود بالذات ہے باہمی تعاون اورلین دین میں آسانی اوراس کاذریعہ ہے نقدی۔
پس عقل وفطرت انسان کو نقدی کے اپنے پاس رکھنے کی اجازت اس حد تک دیتی ہے جہاں تک اس کی ضرورت زندگی کا تعلق ہے اوروہ نقدی جوانسان کی ضروریات سے وافر ہوتو بجائے بے کار جمع کرنے کے اس پر ضروری ہے کہ محتاج انسانوں کی خبر گیر ی کرے اورہر انسان کے کام آنے والی نقدی صرف وہی ہے جس سے وہ خود فائدہ اٹھا سکے، لہذا جس حد تک اسے دنیا میں ضرورت ہے بےشک اس سے دنیاوی مفاد حاصل کرے اورجس قدر اس کے پاس دنیا وی ضروریات سے وافر ہو اس سے دار آخرت کی تعمیر کرے اوروہ اس طرح ہو سکتی ہے کہ فقراومحتاج لوگوں کی دست گیری کرے اوروہ روپیہ جو اس کی دنیا کی ضرورتوں سے بچ گیا اورآخرت کےلئے اس کو خرچ نہ کیا بلکہ خزانہ میں جمع کرکے چلاگیا تو وہ روپیہ بروز محشر اس کے لئے وبال وعذاب کا موجب ہوجائے گا؟ اسی بناپر خداوند کریم نے قرآن مجید میں فی سبیل اللہ خرچ کرنے کی تاکید فرمائی ہے اوردوسرے سے ناجائز پیسہ بطور سود وصول کرنے سے منع فرمایا ہے تاکہ انسان اپنے فطری وعقلی تقاضوں کے ماتحت نقدی کو صرف جائز طریق پر استعمال کرنے کی عادت اختیار کرے اور ناجائز طور پر تحصیل زر سے اجتناب کرے۔
بعض عارف لوگوں نے نقدی کو خزانہ میں جمع کرنے کی مثال یوں دی ہے کہ جس طرح معین شدہ علاقائی مجسٹریٹ کو نظر بند کردیا جائے اورپھر اس علاقہ کے لوگو ں کو جھگڑا کے فیصلہ کا حکم دیا جائے کہ فلاں تعینات شدہ مجسٹریٹ کی طرف رجوع کرکے فیصلہ حاصل کرو حالانکہ بصورت نظر بندی ان کا اس کی طرف رجوع کرنا اوراس کا ان کے مابین فیصلہ کرنا محال ہے؟ اسی طرح پیسہ چونکہ لوگوں کی ضروریات کی کفالت کے لئے ہے تو اس کی ذخیرہ اندوزی مجسڑیٹ کی نظر بندی کی مثل ہے اوربوقت ضرورت لوگوں کو فطرت کی طرف سے رجوع کرنے کا حکم ایسا ہے جیسا کہ مقید مجسٹر یٹ کی طرف طلب فیصلہ کےلئے رجوع کرنے کا حکم دیا جائے بنابریں انسان کا فطری تقاضا یہی ہے کہ پیسہ کو بجائے نظر بند کرنے کے آزاد رکھا جائے اورتمام انسانوں کو اس کی طرف رجوع کا موقعہ دیا جائے تاکہ انسانی زندگی کا سفینہ شور شوں کے طوفانی تلاطم و گرداب میں پھنس کر غرق نہ ہوجائے۔


ایک تبصرہ شائع کریں