التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

اسماعیل وہاجرہ ﷥کی ہجرت ، زمزم کا ظاہر ہونا، وصیت ابراہیمی

اسماعیل وہاجرہ ﷥کی ہجرتاسماعیل وہاجرہ ﷥کی ہجرت ، زمزم کا ظاہر ہونا، وصیت ابراہیمی

اسماعیل وہاجرہ کی ہجرت
تفاسیرمعتبرہ میں حضرت امام جعفر صادق سے مروی ہے کہ حضرت ابراہیم علاقہ شام میں سکونت پزیر تھے، جب جناب ہاجرہ کے شکم سے حضرت اسماعیل کا تولد ہوا تو حضرت ابراہیم کی زوجہ حضرت سارہ بہت مغموم ہوئیں کیونکہ اُن کے ہاں اولاد نہیں تھی پس وہ حضرت ابراہیم کو جناب ہاجرہ کے معاملہ میں تکلیف دیتی تھیں-
 سورہ صافّات کی تفسیر میں تفسیر مجمع البیان میں بروایت عیاشی حضرت امام جعفر صادق سے مروی ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ حضرت اسماعیل حضرت اسحق سے کچھ بڑے تھے ایک دفعہ تین برس کی عمر میں حضرت اسحق باپ کی گود میں تھے کہ حضرت اسماعیل آگئے اُنہوں نے حضرت اسحق کو باپ کی گود سے دھکیل کر خوداُن کی جگہ لے لی اورحضرت سارہ یہ ماجرا دیکھ رہی تھیں پس اُن سے رہانہ گیا اورحضرت ابراہیم سے عرض کیا کہ میرے لئے چونکہ یہ بات قابل برداشت نہیں ہے لہذا جناب ہاجرہ اور حضرت اسماعیل کو یہاں سے نکال دیجئے، پس آپ ان کو مکہ کی طرف لے گئے، مفصل واقعہ سورہ صافّات کی تفسیرمیں ملاحظہ ہو-[1]
 بہر کیف حضرت سارہ کا رویّہ حضرت اسماعیل کی ولادت کے بعد جناب  ہاجرہ کے متعلق بہت سخت تھا، چنانچہ وہ حضرت ابراہیم کو بھی غمزدہ کرتی تھیں تو حضرت ابراہیم نے اللہ تعالی ٰکی بار گاہ میں اس امر کی شکایت کی، پس وحی ہوئی کہ عورت ٹیڑ ھی پسلی کی مانند ہے اگر اس کو اپنی حالت پر رہنے دیا جائے تو انسان کو نفع پہنچاتی ہے اوراگر اس کو سیدھا کرنا چاہیں تو وہ ٹوٹ جائے گی اورحکم ہوا کہ آپ اسماعیل اورہاجرہ کو یہاں سے کسی اورمقام پر لے جائیں، حضرت ابراہیم نے عرض کیا کہ کہاں لے جاوٴں ؟ توارشاد ہوا میرے حرم اورجائے امن اوراُس مقام کی طرف لے جایئے جو زمین کے ٹکڑوں میں سے خلقت کے لحاظ سے پہلا بُقعہ ہے اوروہ مکہ ہے-
 پس جبرائیل براق لے کر اُترے اورحضرت ابراہیم وحضرت اسماعیل وجناب ہاجرہ کو سوار کیا اوروہاں سے روانہ ہوئے، پس اثنا ئے راہ  جہاں کہیں آباد اورسرسبز وشاداب مقام آتا تھا تو جبرائیل سے دریافت فرماتے تھے کہ کیا یہی جگہ ہے؟تو جبرائیل جواب دیتے تھے کہ نہیں بلکہ آگے ہے، یہاں تک کہ مکہ کی سر زمین پر پہنچ کر مقام کعبہ پر اُتارا اورحضرت ابراہیم اپنی بیوی حضرت سارہ سے وعدہ کرکے آئے تھے کہ میں وہاں سواری سے اُترے بغیر واپس آوٴں گا، وہاں ایک درخت تھا جناب ہاجرہکے پاس ایک چادر تھی اُس کو درخت پر پھیلاکر سایہ بنایا اورحضرت ابراہیم نے اُن کو وہاں بٹھاکر واپس اپنی زوجہ حضرت سارہ کی طرف پلٹنے کا ارادہ فرمایا تو جناب ہاجرہ نے عرض کیا کہ آپ ہمیں ایسے مقام پر چھوڑے جاتے ہیں جہاں نہ انسانوں کی آبادی ہے اورنہ پانی وزراعت وغیرہ ہے؟ حضرت ابراہیم نے فرمایا مجھے اپنے ربّ کا یہی حکم ہے کہ تمہیں اسی مقام پر چھوڑوں، پس یہ کہہ کر آپ واپس ہوئے-
 جب ذی طویٰ کی پہاڑی پر پہنچے تو مڑ کر اپنی بیوی جناب ہاجرہ اور اپنے فرزند حضرت اسماعیل کو دیکھا اور اللہ سے دعامانگی رَبِّ اِنِّیْ اَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ الخ میرے اللہ میں اپنی ذرّیت کو ایک غیر آبادوادی میں چھوڑ کر جارہاہوں اورپھر چلے گئے اورجناب ہاجرہ رہ گئی، جب سورج بلند ہوا تو حضرت اسماعیل کو پیاس لگی جناب ہاجرہ نے پانی کی تلاش میں وادی میں اِدھر اُدھر پھرنا شروع کیا یہاں تک کہ مقام سعی پر پہنچی (جہاں حاجی لوگ طواف بیت اللہ کے بعد صفاومروہ کے درمیان دوڑتے ہیں ) اوربی بی نے آواز بلند کی کہ آیا اس وادی میں کوئی انسان ہے؟ لیکن انسان کا وہاں نام ونشان تک نہ تھا، اتنے میں حضرت اسماعیلنظروں سے اوجھل ہوگئے پس فورًا کوہِ صفا پر چڑھ گئیں اِدھر اُدھر دیکھا تو وادی میں سراب کی چمک معلوم ہوئی سمجھا کہ پانی ہے پس فورا ًوہاں سے اُتر کر وادی میں آئیں اوردوڑیں یہاں تک کہ کوہِ مروہ تک پہنچیں پھر حضرت اسماعیل نظر سے غائب ہوگئے تو کوہِ مروہ پر چڑھیں اورصفاکی طرف جب نگاہ کی تو سراب کی چمک کو پانی سمجھا پس اُتر کردوڑتی ہوئی صفا تک پہنچیں پس اسی تلاش میں کوہِ صفا سے مروہ تک اورمروہ سے صفا تک بی بی نے سات چکر لگائے، ساتویں بار جب کوہِ مروہ پر چڑھیں اوراپنے فرزند حضرت اسماعیل کی طرف نگاہ اُٹھائی تو دیکھا کہ حضرت اسماعیل کے قدموں کے مقام سے پانی جاری ہے، پس واپس آئیں اوربیٹھ کر پانی کے گرد مٹی کا بند لگانا شروع کردیا اوراس کو تالاب کی صورت میں محدود کرلیا زَم زَم اسی لئے اس کا نام مشہور ہوگیا کیونکہ اس کا معنی روکنا ہوتا ہے اورجناب ہاجرہ نے چونکہ اس کو جاری ہونے سے روکا تھا پس وہ زمزم کے نام سے موسوم ہو ا-
قبیلہ جرہم اس وقت مقام ذوالمجاز اورعرفات میں اُترا ہوا تھا جب پانی یہاں ظاہر ہوا تو جانوراورپرندے اس مقام پر جمع ہوئے، قبیلہ والوں نے جب پرندوں کا اس طرف رُخ دیکھا تو سمجھاکہ اس طرف پانی ہوگا پس وہ یہاں آگئے، کیا دیکھا کہ ایک عورت ہے اورایک بچہ ہے جنہوں نے ڈیرہ لگایا ہے درخت پر سایہ کےلئے چادر لٹکائی ہوئی ہے اورپانی انہی کی بدولت یہاں ظاہر ہوا ہے تو انہوں نےکیفیت دریافت کی، جناب ہاجرہ نے فرمایاکہ میں خلیلِ خدا حضرت ابراہیم کی اُمّ ولد (زوجہ) ہو ں اوریہ اُنہی کا بچہ ہے اورخدانے ان کو ہمارے یہاں ٹھہرانےکا حکم فرمایاہے، اُنہوں نے عرض کیا اگر اجازت ہو تو ہم بھی آپ کی ہمسائیگی میں آباد ہوجائیں؟ جناب ہاجرہ نے فرمایا جب تک مجھے حضرت ابراہیم اجازت نہ دیں میں کچھ نہیں کہہ سکتی، جب تیسرے روز حضرت ابراہیم دیکھنے کےلئے پلٹے تو بی بی نے عرض کیا کہ یہاں ایک قبیلہ جرہم قریب میں آباد ہے اگر آپ کی اجازت ہوتو وہ ہمارے ہمسایہ ہوجائیں، آپ نے اجازت دی اورچلے گئے، پس جناب ہاجرہ نے جرہم کو اپنے قرب وجوار میں بسنے کی اجازت دی اوروہ آکر یہاں آباد ہوئے، جناب ہاجرہ اورحضرت اسماعیل کو ان کی آبادی کی وجہ سے مانوسیت ہوگئی، جب حضرت ابرہیم دوسری دفعہ تشریف لائے تو لوگوں کی کثیر آبادی کو دیکھ کر بہت مسرور ہوئے، قبیلہ جرہم میں سے ہر ایک آدمی نے حضرت اسماعیل کو کسی نے ایک کسی نے دوبکریاں ہبہ کی تھیں جس سے دونوں ماں بیٹے کا گزارا تھا-
 حضرت اسماعیل جب جوان ہوئے تو خداوند کریم نے حضرت ابراہیم کو کعبہ کی تعمیر کا حکم فرمایا،حضرت ابراہیم نے عرض کیا کہ کس مقام پرکعبہ بناوٴں؟ تو ارشاد ہوا کہ اس مقام پر جہاں حضرت آدم پر قُبہ نوراُترا تھا، جس کی وجہ سے تمام حرم منور رہتا تھا اوروہ قُبہ طوفانِ نوح کے زمانہ تک اسی مقام پر قائم رہا،جب طوفان سے دنیاغرق ہوئی تو خدانے اس قُبہ کوا ٹھا لیا اورسوائے زمین کعبہ کے باقی تمام زمین پر پانی پھر گیا تھا، اسی وجہ سے کعبہ کو بیت العتیق بھی کہا جاتا ہے کیونکہ عتیق کا معنی ہے محفوظ، پس حضر ت جبرائیل نے آکر حضرت ابراہیم کو اس مقام کے نشانات بتلائے اورانہوں نے کعبہ کی تعمیر شروع کی الخ
اقول: حضرت ابراہیم،حضرت اسماعیل اورجناب ہاجرہ کی خبر گیری کے لئے متعدد مرتبہ تشریف لاتے رہے لیکن جب جناب ہاجرہ کا انتقال ہوا اورحضرت اسماعیل نے شادی کی اس بارذرا دیر کے بعد آئے تھے لہذا گزشتہ روایات اوراس روایت میں کوئی منافات نہیں ہے-
حضرت  امام جعفر صادق سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ زمین کعبہ نے فخر کرتےہوئےکہاکہ مجھ جیسا کون ہوسکتا ہے؟ حالانکہ خدانے میری پشت پر کعبہ بنایا، ہر جانب سے لوگ میری زیارت کو آتےہیں اورمیں اللہ کا حرم اور جائے امن ہوں؟ پس خدا نے وحی فرمائی کہ خاموش رہ اورٹھہر جاکیونکہ تیری فضیلت زمین کربلا کے مقابلہ میں ایسی ہے جس طرح نوکِ سوزن کو سمندر میں ڈبونے کے بعد جو نسبت اس کی تری کو سمندر کے پانی سے ہوتی ہے اور(اے زمین کعبہ) اگر زمین کربلا نہ ہوتی تو تجھے یہ فضیلت حاصل نہ ہوتی اوراگر وہ ہستی نہ ہوتی جو زمین کربلا کی مدفون ہے تو نہ میں تجھے پیدا کرتا اورنہ اس گھر کو پیدا کرتا جس پر تجھے فخر ہے پس آرام کر اورتواضع اختیار کر- [2]




[1] تفسیر انوار النجف فی اسرار المصحف ج۱۲
[2] سفینتہ البحار، كامل الزيارات ص ۲۷۰، اصول الستہ عشر ص۱۶
وَ مَنْ يَرْغَبُ عَنْ مِّلَّةِ إِبْرَاهِيمَ إِلاَّ مَنْ سَفِهَ نَفْسَهُ وَلَقَدِ اصْطَفَيْنَاهُ فِی الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِی الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِيْنَ (130) إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَلٰمِيْنَ (131) وَوَصّٰى بِهَا إِبْرَاهِيْمُ بَنِيْهِ وَيَعْقُوبُ يَا بَنِیَّ إِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰى لَكُمُ الدِّيْنَ فَلَا تَمُوْتُنَّ إِلَّا وَأَنتُمْ مُّسْلِمُوْنَ (132) أَمْ كُنتُمْ شُهَدَآءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِيْهِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِن بَعْدِی قَالُوْا نَعْبُدُ إِلٰهَكَ وَإِلٰهَ آبَائِكَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحٰقَ إِلَهًا وَّاحِدًا وَّنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُوْنَ (133)
ترجمہ:
اورنہیں منہ پھیر تاملت ابراہیمی سے مگر وہ شخص جو اپنے نفس سے بے خبر ہو اورتحقیق ہم نے اس کو چن لیا دنیا میں اورتحقیق وہ قیامت میں بھی صالحین کے گروہ میں ہوں گے(130) جب کہ کہااس کو اس کے ربّ نے کہ اطاعت قبول کرتو عرض کیا کہ میں نے اطاعت قبول کرلی ہے عالمین کے ربّ کی(131) اور وصیت فرمائی اسی ملت کی ابراہیم نے اپنی اولاد کو اور یعقوب نے بھی کہ اے بیٹے تحقیق اللہ نے چن لیا ہے تمہارے لئے دین) اسلام ( پس تمہیں موت نہ آئے مگر اس صورت میں کہ تم مسلمان ہو(132)  کیا تم حاضر تھےجب قریب ہوئی یعقوب کی موت جب انہوں نے اپنی اولاد سے فرمایا تھا کہ کس کی عبادت کرو گے میرے بعد تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ عبادت کریں گے تیرے معبود کی اور تیرے آبا ابراہیم ، اسماعیل اور اسحٰق کے معبود کی جو یکتا و تنہا ہےاور ہم صرف اسی کےاطاعت گزار ہوں گے(133)

تفسیر رکوع ۱۶
وَ مَنْ یَّرْغَبْ: ملت ابراہیمی تکمیل نفوسِ انسانیہ کا ایسا مکمل کورس ہے جس سے اعراض کرنا کسی صاحب عقل سلیم کے لئے جائز نہیں، پس بنی آدم کے لئے ملت ابراہیمی کی پیروی کی اس آیت مجیدہ میں دعوت عامہ ہے-
 جس طرح سابقاًحضرت آدم کے ذکر سے عموماً اولادِ آدم کو تحریک اطاعت وعبادت کی تھی اسی طرح اس مقام پر بنی اسرائیل کو بالخصوص متوجہ کیا گیا ہے کہ اپنے باپ کی ملت کو چھوڑ کر کس طرف جاتے ہو حالانکہ وہ مصطفی بھی ہے اورصالحین سے بھی ہے؟ اورجناب رسالتمآب کی طرف خطاب کا رخ کرکے تاقیامت مسلمانوں کو بھی پیغام ہدایت ہے کہ خبر دار ملت ابراہیمی سے اعراض نہ کرنا اورمن جملہ ان کے مقام ابراہیم کو مصلٰی قرار دینا بھی ہے-
اِلَّامَنْ سَفِہَ نَفْسَہُ:سَفِہَ“ کے معنی ہلاکت بھی ہوا ہے اوربیوقوفی وبے خبری بھی ہے، یعنی ملت ابراہیمی سے وہی روگردان ہوسکتا ہے جو اپنے نفس کو ہلاکت میں ڈالنا چاہے، یعنی عذاب خداوندی میں مبتلاکرنا چاہے یا اپنے نفس کو بیوقوف بنائے یااپنے نفس کی قدر سے جاہل ہو اورمَنْ عَرِفَ نَفْسَہُ فَقَدْ عَرِفَ رَبَّہُ[1] کے ماتحت معنی یہ ہوگا کہ ملت ابراہیمی کو جس میں معرفت خداکی دعوت ہے وہی ترک کرسکتا ہے جو اپنے نفس کو نہ پہچانتاہو-
 وَصّٰی بِھَا اِبْرَاھِیْمُ الخ :تمام لوگوں کے لیے بالعموم اور اولادِ ابراہیم اور اولادِ یعقوب کے لیے بالخصوص پھر تاکیدی پیغام ہے کہ ملت اسلام کی پیروی کرنا تمہارے آباوٴ اجداد حضرت ابراہیم و حضرت یعقوب کی تمہیں وصیت ہے اور تمہارا اس پر عمل کرنا واجب و لازم ہے-
ملت اسلام ہی ملت ابراہیمی ہے جس کے قوانین و ضوابط و جملہ احکام مطابق عقل سلیم ہیں، ان سے انکار اور روگردانی کرنا بیوقوفی ہے، حضرت ابراہیم خداوند کے برگزیدہ بندے مصطفی اور صالحین سے تھے، ان کا طریقہ ہر شخص کے لئے واجب الاتباع ہے خصوصا ان کی اولاد کے لئے اس کا ترک کرنا باعث شرم ہے باوجود اس سب کچھ کے اپنی اولاد کو انہوں نے آخری دم تک اس کی وصیت بھی فرمائی تھی اور وصیت پر عمل کرنا واجب ہوا کرتا ہے-
وَ اِلٰہَ اٰبَائِکَ: جب حضرت یعقوب نے اپنی اولاد کو جمع کر کے دریافت فرمایا کس کی عبادت کرو گے؟ تو اُنہوں جواب دیا تھا کہ آپ کے  آباو اجداد کے معبود کی اطاعت کریں گے  اور دین اسلام پر رہیں گے اور اُنہوں نے حضرت یعقوب کے آبا وا جداد سے مراد حضرت ابراہیم ، اسماعیل اور اسحٰق لیے تھے-
یہ واضح رہے کہ ”آبَا“جمع ہے” اَبْ“ کی اور اس کا معنی باپ ہواکرتا ہے، حضرت ابراہیم حضرت یعقوب کے دادا تھے اور حضرت اسماعیل اُن کے چچا تھے اور حضرت اسحق والد تھے، پس قرآن کی اس اصطلاح سے معلوم ہواکہ ”اَبْ“کا لفظ دادا ،چچا اور باپ ہر ایک پر بولا جاسکتا ہے-
لہذا چونکہ مذہب امامیہ کا اعتقاد ہے کہ نبی و امام کے والدین کافر نہیں ہو سکتے، پس جس جس مقام پر حضرت ابراہیم کا” اَبْ“ آذر بتایا گیا ہے جو کہ مشرک اور بت پرست تھا اس سے چچا مراد ہے اور آذرحضرت ابراہیم کا نسب میں چچا تھا اور اُن کے باپ کا نام تارخ تھا-
  
تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُم مَّا كَسَبْتُمْ وَلَا تُسْأَلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ (134) وَقَالُوْا كُونُوْا هُوْدًا أَوْ نَصَارىٰ تَهْتَدُوْا قُلْ بَلْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيْمَ حَنِيْفًا وَّمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ (135) قُوْلُوْا آمَنَّا بِاللّٰهِ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ إِلٰى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمٰعِيلَ وَإِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ وَالْأسْبَاطِ وَمَا أُوتِیَ مُوْسٰى وَعِيْسٰى وَمَا أُوْتِیَ النَّبِيُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُوْنَ (136) فَإِنْ آمَنُواْ بِمِثْلِ مَا آمَنتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا وَّإِنْ تَوَلَّوْاْ فَإِنَّمَا هُمْ فِی شِقَاقٍ فَسَيَكْفِيْكَهُمُ اللّٰهُ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (137)
ترجمہ:
یہ گروہ تھا جو گزر گیا ان کا کمایا ان کے لئے اور تمہارا کمایا تمہارے لئے ہے اور ان کے کئے کا سوال تم سے نہ ہو گا(134)  اور وہ کہتے ہیں کہ یہودی ہو جاوٴ یا نصرانی تب ہدایت پاوٴگے فرما دیجیے بلکہ ہم تو ملت ابراہیمی کی پیروی کریں گے جو راہ ِحق پر تھے اور مشرک نہیں تھے(135) ان کو کہو کہ ہم اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور اس چیز پر جو ہماری طرف اتری اور جو اتری حضرت ابراہیم، حضرت اسماعیل، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب اور ان کی صالح اولاد پر اور اس چیز پر جو دے گئے حضرت موسیٰ و حضرت عیسیٰ اور اس چیز پر جو عطا کی گئی تمام نبیوں کو اپنے ربّ سے ہم ان میں سے کسی میں فرق نہیں جانتے اور ہم اسی کے اطاعت گزار ہیں(136) پس اگر یہ لوگ اسی طرح ایمان لائیں جس طرح تم ایمان لائے ہو تو تحقیق وہ ہدایت پر ہوں گے اور اگر اس سے رو گردانی کریں تو یقیناً وہ باطل پر ہیں پس اللہ تیری ان سے کفایت کرے گا اور وہ سننے جاننے والا ہے(137)



تِلْکَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ :  اس آیت میں اُن لوگوں کے عقیدہ کی تردید کی ہے جو اپنے باپ دادا کے کارنامہ پر فخر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اُن کا عمل ہمارے لیے کافی ہے، اس آیت میں صاف طور پر فرماتا ہے کہ ہر انسان اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے، اور تفسیر بیضاوی میں جناب رسالتمآب سے مروی ہے کہ ایسا نہ ہو کہ بروز محشر باقی لوگ اپنے اعمال کو ساتھ لائیں اور تم اپنے انساب کا سہارالے آوٴ؟
قَالُوْا  کُوْنُوْا ھُوْدًا اَوْ نَصٰرٰی : یعنی یہودی کہتے تھے کہ یہودی ہو جاوٴ اور نصاریٰ کہتے تھے کہ نصرانی ہو جاوٴ یعنی ان میں سے ہر ایک گروہ اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کرتاتھا ،پس حکم ہوا کہ اُن کو ملت ابراہیم کی دعوت دو اور کہو کہ ہم تو اسی کی ملت پر ہیں اور وہ تمام باطل ادیان سے دُور اور حق پر ثابت تھے-  اور آیت کے شانِ نزول کے متعلق مجمع البیان میں مروی ہے کہ ابن صوریا نے جناب رسالتمآب کی خدمت میں عرض کیا کہ ہدایت کا راستہ یہی ہے جس پر ہم ہیں؟ آپ بھی ہمارے دین پر آجائیں اور نصرانیوں نے بھی آپ کو ایسے ہی الفاظ کہے تھے تب یہ آیت نازل ہوئی-
لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْھُمْ : یعنی جس قدر انبیا﷨خدا نے بھیجے ہیں ہم ان میں یہ فرق نہیں جانتے کہ کس کو نبی مانیں اور کس کی نبوت کا انکار کریں؟ بلکہ ہماری نظروں میں سب برحق نبی تھے-
فَاِنْ اٰمَنُوْا : تفسیر مجمع البیان میں ہے کہ جب اس سے پہلی آیت اُتری اور آنحضور نے یہودیوں اور نصرانیوں کے سامنے پڑھی تو یہودیوں نے حضرت عیسیٰ کا ذکر سن کر انکار اور کفر کیا اور نصرانیوں نے کہا کہ ہم عیسیٰ کو باقی انبیا﷨کی طرح نہیں جانتے بلکہ وہ تو اللہ کافرزند تھا، تب یہ آیت اُتری،  پس اُن کے عقائد فاسدہ کی اصلاح کے لیے اور ان کے مقولہ کی تردید کےلیے ارشاد ہوا کہ اگر ایمان اس طرح رکھیں کہ سب نبیوں کی نبوت برحق ہے اور ایمان لانے میں فرق نہ کریں اور  نیز سب کو خدا کا بندہ سمجھیں تب تو درست ہے ورنہ ان کی باتیں سب فضول ہیں اور اُن کے پاس سوائے جھگڑے اور باطل پرستی کے اور کچھ نہیں، اور رسول اکرم کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ گھبرائیں نہیں خدا آپ کو ان کی شرارتوں سے بچانے کے لیے کافی ہے وہ ان کی باتوں کو بھی سنتا ہے اور ان کے ضمائر کو بھی جانتا ہے-
صِبْغَةَ اللّٰهِ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبْغَةً وَّنَحْنُ لَهُ عٰبِدُوْنَ (138)قُلْ أَتُحَآجُّونَنَا فِی اللّٰهِ وَهُوَ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ وَلَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُخْلِصُوْنَ (139) أَمْ تَقُوْلُوْنَ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمٰعِيْلَ وَإِسْحٰقَ وَ يَعْقُوْبَ وَالْأسْبَاطَ كَانُوْا هُوْدًا أَوْ نَصَارىٰ قُلْ ءَأَنتُمْ أَعْلَمُ أَمِ اللّٰهُ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن كَتَمَ شَهَادَةً عِنْدَهُ مِنَ اللّٰهِ وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ (140) تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُم مَّا كَسَبْتُمْ وَلاَ تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ (141)
ترجمہ:
دین خدا کی اطاعت کرو اور کس کا دین بہتر ہے اللہ کے دین سے اور ہم تو اسی کے عبادت گزار ہیں(138)  کہہ دیجیے کیا تم اللہ کے بارے میں ہم سے جھگڑتے ہو حالانکہ وہ ہمارا اور تمہارا ربّ ہے اور ہمارے عمل  ہمارے لیے اور تمہارے عمل تمہارے لیے ہیں اور ہم اسی کے خاص عبادت گزار ہیں(139)  کیا تم کہتے ہو کہ حضرت ابراہیم اور  حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب اور ان کی اولاد یہودی یا نصرانی تھے کہہ دیجیے کیا تم زیادہ علم رکھتے ہو یا اللہ اور کون زیادہ ظالم ہے اس سے جو چھپائے اپنی سچی گواہی کو اللہ سے اور خدا نہیں غافل اس چیز سے جو تم عمل کرتے ہو(140)  وہ ایک جماعت تھی جو گزر گئی ان کے لیے ان کا کمایا اور تمہارے لیے وہ جو تم نے کمایا اور تم سے سوال نہ ہوگا اس چیز کا جو وہ کیا کرتے تھے(141)

نَحْنُ لَہُ مُخْلِصُوْنَ: وافی میں باب الاخلاص کافی سے مروی ہے کہ حضرت امیرالمومنین نے فرمایا کہ اس شخص کے لیے طوبیٰ ہے جو عبادت اور دعا میں اخلاص کرے، ہر آنکھوں کو لبھانے والی چیز میں اس کا دل راغب نہ ہو، سنی سنائی باتوں سے اللہ کے ذکر کو بھلا نہ دے اور غیر کو اگر کوئی نعمت عطاہو تو غمزدہ نہ ہو-
حضرت امام جعفر صادق سے مروی ہے کہ خالص عمل وہ ہے جس سے تجھے دوسرے کی تکلیف مطلب نہ ہو بلکہ صرف اللہ کی رضا مندی ہی مقصود ہی خاطر ہو -
اَمْ تَقُوْلُوْنَ: یہودیوں کا نظریہ تھا کہ حضرت ابراہیم،حضرت اسماعیل، حضرت یعقوب ، حضرت اسحاق اور ان کی اولاد سب دین یہود پر تھے اور نصرانی ان بزرگوں کے متعلق یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ وہ دین نصاریٰ پر تھے پس خداوند کریم نے اس آیت میں ہر دو کے نظریوں کی تردید فرمائی ہے کہ ان بزرگوں پر اتہام کیوں لگاتے ہو؟ کیا تم کو ان کے دین کا زیادہ علم ہے یا اللہ کو زیادہ علم ہے؟
 اور گزشتہ کتب میں صاف طور پر جناب رسالتمآب کے اوصاف مذکور ہیں اور دین اسلام کی حقانیت ان کتابوں میں موجود ہے تو پھر کیسے کہتے ہو کہ یہ بزرگوار یہودیت یا نصرانیت کے پیرو تھے؟ اور کلمہ حق جو کتب سماویہ میں موجود ہے اس کو کیوں چھپاتے ہو؟ اور ظالم ترین ہے وہ شخص جو حق کی گواہی پر پردہ دے-




[1] بحارالانوار ج ۲ ص۳۲

ایک تبصرہ شائع کریں