التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

نبی اور رسول میں فرق

وَ رَسُوْلاً اِلٰی بَنِیْ ٓ اِسْرَآ ئِ یْلَ: رسول اور نبی میں فرق یہ بیان کیا جاتا ہے کہ رسول وہ ہے جو صاحب کتاب و شریعت ہو اور نبی وہ ہے جو ...
وَ رَسُوْلاً اِلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ اَنِّیْ قَدْ جِئْتُکُمْ بِاٰ یَةٍ مِّن رَّبِّکُمْ اَنِّیْ اَخْلُقُ لَکُمْ مِنَ الطِّیْنِ کَھَیْئَةِ الطَّیْرِ فَاَنْفُخُ فِیْہِ فَیَکُوْنُ طَیْرًم ا بِاذْنِ اللّٰہِ  وَ اُبْرِیُ الْاَکْمَہَ وَالْاَبْرَصَ وَ اُحْیِ الْمَوْتٰی بِاِذْنِ اللّٰہِ وَ اُنَبِّئُکُمْ بِمَا تَاکُلُوْنَ وَمَا تَدَّخِرُوْنَ فِیْ بُیُوْتِکُمْ  اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَةً لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ مُوْمِنِیْنَ (49) وَمُصَدِّقًا لِمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰةِ وَلِاُحِلَّ لَکُمْ بَعْضَ الَّذِیْ حَرَّمَ عَلَیْکُمْ وَجِئْتُکُمْ بِاٰیَةٍ مِّن رَّبِّکُمْ  فَاتَّقُوْا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوْنِ (50)
ترجمہ:
اوراسے رسول بنا کر بھیجے گا طرف بنی اسرائیل کے ( کہ کہے گا) میں لایا ہوں تمہارے پاس نشانی تمہارے ربّ کی طرف سے میں بناتا ہوں تمہارے سامنے مٹی سے ایک پرندے کا ڈھانچہ پس اس میں پھونکتا ہوں تو وہ اللہ کے حکم سے پرندہ ہوجائے گا اورتندرست کرتا ہوں نابینا اورمبروص کو زندہ کرتا ہوں مردوں کو باذنِ خدا اورتمہیں خبر دے سکتا ہوں جو کچھ تم کھا تے ہواورجو کچھ ذخیرہ بناتے ہو اپنے گھروں میں تحقیق اس میں تمہارے لئے نشانی ہے اگر تم ایمان لانے والے ہوo اورتصدیق کرنے والاہوں اس کی جو میرے سامنے ہے تورات سے اور تاکہ حلال کروں تمہار ے لئے بعض چیزیں جو تم پر حرام کردی گئی ہیں اور لایا ہوں میں تمہارے پاس نشانی تمہارے ربّ کی طرف سے پس اللہ سے ڈرواورمیری اطاعت کروo

 نبی اور رسول میں فرق

وَ رَسُوْلاً اِلٰی بَنِیْ ٓ اِسْرَآ ئِ یْلَ: رسول اور نبی میں فرق یہ بیان کیا جاتا ہے کہ رسول وہ ہے جو صاحب کتاب و شریعت ہو اور نبی وہ ہے جو تبلیغ احکام خداوندی پر مامور ہو خواہ صاحب کتاب ہو یا نہ ہو۔
بنا بریں عہدہ رسالت کو نبوت سے خاص و عام مطلق کی نسبت ہے اور صاحب میزان نے یہ بیان کیا ہے کہ نبوت اور رسالت دو جدا جدا منصب ہیں نہ ان کا یکجا ہونا ضروری ہے اور نہ ان کا الگ الگ رہنا لازمی ہے یعنی ہو سکتا ہے کہ ایک شخص نبی ہو اور رسول نہ ہو اسی طرح یہ بھی ہو سکتاہے کہ رسول ہو اور نبی نہ ہو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نبی بھی اور رسول بھی پس ان دونوں کے درمیان نسبت عام و خاص من وجہ کی ہو گی۔

نبوت و رسالت

نبوت احکامِ الٰہیہ کی عمومی تبلیغ کا عہدہ ہے اور رسالت ایک خصوصی سفارت کا منصب ہے کہ اس کا رد کرنا ہلاکت کا موجب ہو اور قبول کر لینا نعمت و رحمت کا باعث ہو یعنی نبی وہ انسان ہے جو لوگوں پر دین خد اکی ترجمانی کےلئے مبعوث ہو اور رسول وہ انسان ہے جو بعض ایسے خصوصی احکام کےلئے مبعوث ہو جن کی تردید عذاب الٰہی کا پیغام اور قبول انعام خداوندی کا مژدہ ہو اور قرآن مجید میں انبیا کے قصص سے رسالت کا مفہوم یہی کچھ سمجھا جاتا ہے چنانچہ حضرت نوحؑ حضرت ہود ؑ حضرت صالحؑ اور حضرت شعیب ؑ وغیرہ جس قدر رسول بن کر آئے ان کے واقعات اس معنی کے شاہد ہیں جو ہم بیان کر چکے ہیں ۔
پس ضروری نہیں کہ جو شخص ایک قوم کی طرف رسول ہو وہ اس قوم کا نبی بھی ہو لیکن یہ ہو سکتا ہے کہ ایک شخص ایک قوم کےلئے رسول بھی ہو اور نبی بھی اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس کی نبوت عامہ ہو یعنی بہت سی قوموں کےلئے ہو لیکن رسالت اس کی صرف ایک یا بعض اقوام کےلئے محدود ہو جیسے کہ حضرت موسیٰؑ اور حضرت عیسیٰؑ یہ دونوں نبی نبوت عامہ کے عہدہ دار تھے لیکن رسالت ان کی صرف بنی اسرائیل تک محدود تھی اور قرآن مجید میں اس معنی کی تائیدات کافی موجود ہیں۔
حضرت موسیٰؑ فرعون کی طرف رسول تھے لیکن جادو گر ایمان لائے اور ان کا ایمان مقبول بھی ہو ا حالانکہ بنی اسرائیل سے نہ تھے اسی طرح حضرت عیسیٰؑ بنی اسرائیل کی طرف رسول تھے حالانکہ ان پر ایمان لانے والے بہت سے لوگ مثلاً حبشہ نجران اور روم وغیرہ بنی اسرائیل سے نہ تھے اور قرآن مجید میں نصاریٰ کا جہاں بھی ذکر ہوا ہے خواہ مدح کی صورت میں یا مذمت کی صورت میں صرف بنی اسرائیل کے نصاریٰ کےلئے اس کا اختصاص نہیں بلکہ تمام دین نصاریٰ رکھنے والوں کو شامل ہے پس معلوم ہوا کہ حضرت موسیٰؑ اور حضرت عیسیٰؑ ہر دو کی رسالت اگرچہ محدود تھی لیکن ان کی نبوت پوری دنیا کیلئے تھی۔
اَخْلُقُ لَکُمْ: روایات آئمہ علیہم السلام میں ہے کہ حضرت عیسیٰؑ نے جو پرندہ بنا کر اس میں نفخ روح کیا تھا وہ چمگادڑ تھا جیسا کہ بحارالانوار میں صادقین علیہما السلام سے منقول ہے حضرت عیسیٰؑ کے معجزات میں سے احیائے موتٰی اور خلقِ طیر چونکہ ایسے معجزے تھے کہ ان کو دیکھ کر لوگوں کے گمراہ ہونے کا ڈر تھا اس لئے ان کے ذکر کے بعد فوراً باذنِ اللہ کا اضافہ کیا گیا ہے تاکہ لوگ حضرت عیسیٰؑ کو خدا مان کر مشرک نہ ہو جائیں اور سمجھ لیں کہ یہ کام صرف اللہ ہی کر سکتا ہے یا کروا سکتا ہے۔
وَ اُ نَبِّئُکُمْ: بروایت تفسیر قمی حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ حضرت عیسیٰؑ بنی اسرائیل کو فرماتے تھے میں اللہ کا رسول ہوں مٹی سے پرندے کا بوتہ بنا کر اس میں پھونکتاہوں وہ اللہ کے حکم سے جیتا جاگتا پرندہ بن جاتا ہے اور نابینا و مبروص کو شفایاب بھی کر سکتا ہوں تو اس کے جواب میں وہ کہتے تھے کہ یہ سب کچھ ہمیں تو جادو معلوم ہوتا ہے ہمیں کوئی ایسی چیز دکھائیے جسے ہم مان جائیں کہ آپ ؑ سچے ہیں؟ تو آپ ؑ نے فرمایا اگر میں تمہیں یہ بتلا دوں کہ تم نے کیا کھایا اور کیا بچا کر گھر میںذخیرہ کیا تو پھر میری صداقت مان لو گے؟ کہنے لگے جی ہاں تب آپ ؑ فرماتے تھے کہ تو نے فلاں فلاں چیز کھائی ہے فلاں چیز پی ہے اورفلاں چیز جمع کی ہے پس بعض لوگ تسلیم کرتے ہوئے ایمان لاتے تھے لیکن بعض پھر بھی راہ کفر اختیار کرلیتے تھے۔
وَاُحْیِ الْمَوْتٰی: حضرت عیسیٰؑ کے اصحاب نے آپ ؑ سے مردہ کے زندہ کرنے کی درخواست کی تو آپ ؑ حضرت سام بن نوحؑ کی قبر پر تشریف لائے اور فرمایا قُمْ بِاِذْنِ اللّٰہ پس قبر شگافتہ ہوئی اورپھر وہی کلمہ فرمایا تو مردہ میں حرکت پیدا ہوئی پھر سہ بارہ فرمایاتو سام بن نوحؑ باہر آگئے آپ ؑ نے فرمایاکہ رہنا چاہتے ہویاواپس جانا چاہتے ہو؟ تو اس نے جواب دیا اے روح اللہ! میں واپس جانا چاہتا ہوں کیونکہ موت کی سوزش اورتکلیف اس وقت تک میرے اندر موجود ہے۔
ایک شخص سے حضرت عیسیٰؑ کی بڑی محبت تھی اورآپ ؑ اکثر اس کے ہاں جایا کرتے تھے ایک مرتبہ آپ ؑ کافی عرصہ کے بعد جب اس کو ملنے گئے تو اس کی ماں نے آپ ؑکاسلام کیا آپ ؑ نے اپنے دوست کے متعلق دریافت کیا تو اس نے جواب دیا کہ وہ مرچکا ہے آپ ؑ نے فرمایا کہ تو اسے زندہ دیکھنا چاہتی ہے تو اس نے جواب دیا ہاں آپ ؑ نے کل کا وعدہ کیا اورچلے گئے دوسرے روز اس کی ماں کو ساتھ لے کر اس کی قبر پر پہنچے اوردعا مانگی پس وہ زندہ ہوا اورماں بیٹا رورو کر ایک دوسرے کے گلے ملے پس حضرت عیسیٰؑ نے اس سے پوچھاکہ کیا تو اپنی ماں کے پاس دنیا میں زندہ رہنا چاہتا ہے اس نے عرض کیا جی ہاں پس آپ ؑ نے اسے اپنی ماں کے حوالہ کیا اوروہ بیس برس زندہ رہا اس نے شادی بھی کی اور اولاد بھی ہوئی (البرہان)
وَمُصَدِّقًا: اس کامقصد یہ ہے کہ حضرت عیسیٰؑ تو رات کے مصدِّق تھے لیکن وہ تورات جو دراصل حضرت موسیٰؑ پر نازل ہوئی تھی نہ کہ یہ تورات جس کو تحریف کے ظالم ہاتھوں نے اپنے اصلی مقام سے ہٹا دیا اورنیز اس کا یہ مطلب نہ سمجھنا چاہئے کہ حضرت عیسیٰؑ تو رات کے غیر محر ّف ہونے کی تصدیق فرمانے والے تھے جس طرح کے قرآن مجید تورات وانجیل ہر دو کامصدِّق ہے لیکن تورات وانجیل اصلی کا نہ کہ موجودہ تورات وانجیل کے غیر محر ّف ہونے کا مصدِّق ہے؟
 وَ لِاُحِلَّ لَکُمْ: یہودیوں کی سرکشیوں کی وجہ سے جو چیزیں ان پر حرام کردی گئی تھیں انہی کی تحلیل کے متعلق ارشاد ہے اس کلام سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰؑ تورات کے احکام کے امضاءکرنے والے تھے صرف بعض احکام شاقہ کے ناسخ تھے، پس مقصد یہ ہوا کہ میں تورات کے اوامر ونواہی کی تصدیق کرنے والا ہوں البتہ بعض وہ احکام جن کی حرمت تم پر لازم کردی گئی تھی ان کو منسوخ کرنے ان کی جگہ حلّیت کا حکم لایا ہوں۔

اِنَّ اللّٰہَ رَبِّیْ وَ رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْہُ ھٰذَا صِرَاط مُسْتَقِیْم  51) فَلَمَّا اَحَسَّ عِیْسٰی مِنْھُمُ الْکُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِیْٓ اِلٰی اللّٰہِ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ ا للّٰہِ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَاشْھَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ (52) رَبَّنَآ اٰمَنَّا بِمَآ اَنْزَلْتَ وَ اتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ فَاکْتُبْنَا مَعَ الشّٰھِدِیْنَ (53) وَمَکَرُوْا وَ مَکَرُاللّٰہَ  وَاللّٰہُ خَیْرُ الْمٰکِرِیْنَ (54)ع
ترجمہ:
تحقیق اللہ میرا اور تمہارا ربّ ہے پس اسی کی عبادت کرو یہ سیدھا راستہ ہےo پس جب محسوس کیا (حضرت) عیسیٰؑ نے ان سے کفر فرمایا میرے انصار کون ہوں گے طرف اللہ کے ؟ تو حواریوں نے جواب دیا کہ ہم اللہ کے انصارہیں ہم اللہ پر ایمان لائے اور آپ ؑ گواہ ہوں کہ ہم مسلمان ہیںo اے ہمارے پروردگار! ہم ایمان لائے اس پر جو تو نے نازل فرمائی اور اطاعت قبول کی رسول کی پس ہمیں درج فر ما شہادت دینے والوں کے ساتھo اور انہوں نے تدبیر کی اور خدا نے بھی تدبیر کی اور خدا اچھی تدبیر کرنے والاہےo

اِنَّ اللّٰہَ رَبِّیْ: چونکہ اس سے پہلے احیائے موتٰی اورخلق طیر وغیرہ کا ذکر تھا مبادا لوگ ان باتوں کو دیکھ کر خدا نہ کہہ دیں لہذا حضرت عیسیٰؑ نے اپنے مذکورہ ادّعا کے بعد اللہ کی ربوبیت کا اعتراف کرتے ہوئے اس کی عبادت کاحکم دے دیا اوراسی کو صراط مستقیم سے تعبیر فرمادیا گویا حضرت عیسیٰؑ کو بذریعہ وحی علم تھا کہ لوگ ایساکہیں گے لہٰذا پہلے سے ہی ان کے عذر کو ختم کر دیا اورحجت تمام کردی۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ حضرت داد ؑ اورحضرت عیسیٰؑ کے درمیان چار سوسال کا فاصلہ تھی اورانجیل میں صرف پندو نصائح تھے اورحضرت موسیٰؑ کی شریعت میں جوباتیں شاق تھیں اس میں ان کی تخفیف تھی اس کے علاوہ انجیل میں قصاص حدود اورمیراث وغیرہ کے احکام نہیں تھے (بلکہ یہ احکام وہی تھے جو تورات میں مندرج تھے)
فَلَمَّا اَحَسَّ: چونکہ جب حضرت مریم ؑ کو فرزند کی بشارت دی گئی تو اس میں حضرت عیسیٰؑ کی بہت سی خصوصیات کا ذکر کردیا گیا لہذا یہاں تتمہ کے طور پر حضرت عیسیٰؑ کے قصہ میں سے آخری جملہ کو ذکر فرمادیا تاکہ اختصار بھی رہے اورافادیت میں بھی کمی اورتشنگی باقی نہ ہو۔
قَالَ مَنْ اَنْصَارِیْ: جب کوئی قائد کسی تحریک کو جاری کرتا ہے اوراس کے پر چار میں شب وروز کی محنت وکاوش کو عمل میں لاتا ہے تو اسے اپنی تحریک کوجاری اورباقی رکھنے کے لئے ایک خصو صی گروہ کا انتخاب کرنا پڑتا ہے جن کے دل میں درد ہو اورجن پر اعتماد ہو کہ یہ لوگ اس کو آگے چلائیں گے چنانچہ دعوتِ اسلام میں بیعت عقبہ اوربیعت شجرہ اسی دینی تحریک کی ہمہ گیری کے لئے ایک منظم جماعت کی تشکیل کا پروگرام تھا، پس اسی قاعدہ کے ماتحت جب حضرت عیسیٰؑ نے اپنا تبلیغی پروگرام شروع کیا معجزات دکھائے اورشب وروز اپنی انتھک کوششوں سے لوگوں کو کسی حد تک اپنی تحریک سے مانوس کرلیا اوردیکھا کہ بہت سے لوگ کچھ اعلانیہ اورکچھ خفیہ طور پر میری ان تبلیغی سرگرمیوں کو ختم کرنے کے درپے ہیں اورمیری ایذارسانی پر تلے ہوئے ہیں اورممکن ہے کہ وہ اپنے اس ناپاک ارادہ میں کامیاب ہوجائیں تو ایسا نہ ہو کہ میرے بعد ترویج دین کا سلسلہ بالکل ختم ہوجائے لہذا انہوں نے ایک منظم جماعت کی تشکیل کا پروگرام مرتب فرمایا اورمنافق لوگوں کے اعمال وکردار سے بدنیتی اورکفر پر آمادگی کو بھانپ کر اپنے خصو صی انصار اورمخلص جانثار علیحد ہ معلوم کرنے کے لئے فرمایا:
مَنْ اَنْصَارِیْ: یعنی کوئی ہے میرا ہمدرد جومیرے اس دین کی ترویج میں خلوص سے آگے بڑھنے والاہو؟ تب حواریوں کی جماعت نے آپ ؑ کی آواز پر صدائے لبیک بلند کی۔
 اَلْحَوَارِیُّوْنَ: اصل اس کی حور ہے جس کا معنی سفیدی ہے لیکن اس کا استعمال کسی انسان کے خواص پر ہوتا ہے اورقرآن میں صرف حضرت عیسیٰؑ کے خواص پر اس لفظ کا استعمال ہے۔
 وَمَکَرُوْا وَ مَکَرَ اللّٰہَ: ان کے مکروتدبیرسے مراد ہے ایذارسانی کے درپے ہونا اوراللہ کے مکروتدبیر سے مراد ہے حضرت عیسیٰؑ کو بچالینا اورآسمان پر اٹھا لینااوریہ واضح رہے کہ نصاریٰ نجران کے مقابلہ میں حضرت عیسیٰؑ کے قصہ کی جس حد تک ضرورت تھی اتنا ہی بیان فرمایا اسی لئے پورا قصہ نہیں دہرایا گیا۔
امام رضاعلیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ ؑ سے حوارییّن کی وجہ تسمیہ دریافت کی گئی؟ تو آپ ؑ نے فرمایاکہ لوگوں کے نزدیک تو ان کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ وہ دھوبی تھے اورکپڑوں سے میل اتارتے تھے اس لئے ان کو حواری کہا جاتا ہے کیونکہ خبُز حوار سے مشتق ہے یعنی خالص سفید روٹی اورہمارے نزدیک ان کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ وہ خود بھی گناہوں کی میل کچیل سے پاک تھے اورلوگوں کو بھی بذریعہ وعظ ونصیحت گناہوں کی میل سے بچاتے تھے۔
کتاب توحید میں آپ ؑ سے مروی ہے کہ ان سب میں سے افضل و اعلم لوقا تھا۔

ایک تبصرہ شائع کریں