al-Jumu`ah -- سورة الجمعة (62)
- یہ سورہ مدینہ ہے سورہ الصف کے بعد بازل ہوا
- اس کی آیات کی تعداد بسم اللہ سمیت بارہ ہے
- خوا ص القرآن سے منقول ہے کہ جوشخص سورہ جمعہ کی روز مرہ تلاوت کرتا رہے تو وہ ہر خوفناک و خطرناک چیز سے امن میں رہےگا اورہر قسم کی مصیبت اس سے دور رہے گی (نبوی)
- حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ جو شخص دن کو بوقت صبح اور رات کو سرشام یہ سورہ تلاوت کرتا رہے وہ وسوسہ شیطانی سے محفوظ رہے گااور اس دن ر ات میں ہونے والے والی اس کی لغزشیں معاف کی جائیں گی (برہان)
فضائل جمعہ
حضرت رسالتمآب نے فرمایا اللہ نے ایام میں سے جمعہ کو مہینوں میں سے ماہ رمضان کوراتوں میں سے شیعہ قدر کو انبیاء میں سے مجھ کو اور اوصیاء میں سے حضرت علی کو چن لیا ہے اور اس کو تمام اوصیاء پر فضیلت بخشی ہے الحدیث معصوم سےمروی ہے کہ بعض اوقا ت انسان دعا مانگتا ہے تو اس کی قبولیت جمعہ تک کے لئے ملتوی کر دی جاتی ہے حضور ﷺنے فرمایا کی جمعہ دنو ں کا سردار ہے یہ دن عید الفطر وعید قرنان سے افضل ہے اسی دن میں حضرت آدم پیدا ہوئے اور اسی دن میں انہوں نے وفات پائی اس دن میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اس میں ہر دعا مستجاب ہوتی ہے بشر طیکہ ناجائز نہ ہو اور ملک مقرب سے لے کرشجر و حجر تک ہر شئی اس دن خوفزدہ ہوتی ہے کہ کہیں قیامت قائم نہ ہو جائے حضر ت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ جمعہ کے دن و رات میں اللہ کے نیک بندے تہلیل تسبیح ثنائے پروردگار اور دورد شریف کو ورد زبان قرار دیا کرتے ہیں۔
آپ نے فرمایا کہ جمعہ کے دن حوارالحین دریچہ جنت سے جھانک کر پوچھتی ہیں کہ وہ کون لوگ ہیں جو اللہ سے ہماری خواہش رکھتے ہیں جناب بتول معظمہ سے مروی ہے کہ حضور ﷺنے فرمایا غروب شمس کی گھڑی میں مومن کی دعا مستجاب ہوتی ہے تفسیر درمنثور میں استجابت دعا کا وقت کا ذکر کیا گیاہے اور ایک روایت میں یوم عرفہ کے برابر کہا گیا ہے
بِسْمِ اللّهِ
الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
﷽ اللہ کے نام سے جو رحمن ورحیم ہے (شروع کرتا ہوں)
يُسَبِّحُ
لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ الْعَزِيزِ
الْحَكِيمِ (1)
تسبیح کرتا ہے اللہ کی جو بھی آسمانوں اور زمین میں ہے (وہ اللہ) ملک قدوس عزیز حکیم ہے ﴿١﴾
رکوع نمبر 11 یسبح اللہ مقصد یہ ہے کہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق ذی روح یا غیر روح تکوینی طور پر اپنے خالق کی تسبیح کرتی ہے اور اللہ کی حکمت شاملہ اور صنعت کاملہ پر کائنات کا ہر ذرہ بے چون و چرا اپنے زبان حال سے تنز یہ پروردگار میں رطب اللسان ہے اور بعض سورتوں میں سبح اور بعض میں یسبح اس معنی کو ظاہر کرتاہے کہ وہ اللہ ماضی و مستقبل کے تمام زمانوں میں حمد و ستائش کا سزاوار ہے
هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي
الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ
وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ
مُّبِينٍ (2)
وہ وہ ہے جس نے مکہ والوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان پر اس کی آیات کو تلاوت کرتا ہے اور ان کو اچھے اخلاق سکھاتا ہے اور ان کو کتاب و شریعت کی تعلیم دیتا ہے اور تحقیق وہ لوگ اس سے پہلے کھلی ہوئی گمراہی میں تھے ﴿٢﴾
الامیین یہ امی کی جمع ہے اور چونکہ مکہ کو ام القری کہاجاتاہے لہذا مکہ میں بسنے والوں کو امی کہا گیا ہے اور حضرت رسالتمآب ﷺ کو نبی امی بھی اسی وجہ سے کہا جاتاہے اور بعض لوگ امی کا معنی ان پڑھ بھی لیتے ہیں یعنی یہ لفظ ام کی طرف منسوب ہے پس جس طر ح ماں کے شکم سے باہر آنے کے وقت بچہ کچھ نہیں جانتا ہوتا اسی طرح وہ لوگ گویا مادر زاد حالت پر علم سے بالکل کورے تھے جن کی طرف رسول کو بھیجا گیا اور رسول اللہ بھی انہی میں سے ایک تھے یعنی ظاہری طور پر کسی سکول یا کالج میں انہوں نےداخلہ نہیں لیاتھا اور نہ کسی ماہر استاد کے سامنے زانورے تلمذ تہ کیا تھا لیکن باوجود اس کے ان کی زبان وحی ترجمان سے علوم اولین و آخرین کے سمندر امنڈ پڑتے تھے او ر زبان کو جنش دیتے تو حکمت کے دریا بہا دیتے تھے اور یہ اس امر کی دلیل ہے کہ آپ خدا کی جانب سے رسول بن کر آئے تھے اور اسی کی جانب سے کتاب و حکمت کے مبلغ بن کر آئے تھے چنانچہ ایک دفعہ ایک شخص نے امام محمد باقر علیہ السلام سے عرض کی کہ اے فرزند رسول یہ لوگ رسول اللہ کو امی کیوں کہتے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ وہ اس سے کیا مراد لیتے ہیں ؟ تو اس نے عرض کی ان کا عقیدہ یہ ہے کہ آپ لکھنا نہیں جانتے تھے آپ نےفرمایا خدا ان پر لعنت کرے وہ جھوٹ بکتے ہیں اللہ تو اپنی کتاب میں فرماتا ہے کہ میں نے امی لوگوں میں اپنا رسول بھیجا جو ان کی کتاب و حکمت کی تعلیم دیتاہے اگر وہ خود تعلیم یافتہ نہیں تھے تو لوگوں کوکیسے تعلیم دیتے تھے ؟ اور خدا کی قسم حضر ت مریم کریم ﷺ بہتر یا تہتر زبانوں میں لکھ پڑھ سکتے تھے (گویا اس زمانہ میں مروج زبانیں اسی قدر ہی تھیں ) اور آپ کا لقب امی اس لئے ہے کہ آپ اہل مکہ میں تھے اور مکہ کو ام القری کہا جاتاہے
وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا
يَلْحَقُوا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (3)
اور دوسرے انہی میں سے ہیں جو ابھی ان سے نہیں ملے اور وہ غالب حکمت والا ہے ﴿٣﴾
لما یلحقوابھم یعنی قیامت تک آنے والے مسلمان خواہ عرب ہوں یا عجم سب کے سب انہی میں سے ہیں جن کی تعلیم کے لئے حضرت رسالتمآبﷺ تشریف لائے کیونکہ حضور تا قیامت ہرانسان کے لئے کتاب و حکمت کے مبلغ تھے اور تفسیر مجمع البیان میں ہے کہ رسول اللہ نے یہ آیت پڑھی تو کسی نے پوچھ لیا کہ اس سے کون لوگ مراد ہیں تو آپ نے سلمان کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر فرمایا لو کان الایمان فی الثریا لنا لتہ رجال من ھولاء یعنی اگر ایمان ثریا کی بلندیوں تک پہنچ جائے تو ایرانی لوگ وہاں تک پہنچ کر بھی ایمان کو حاصل کر لیں گے اور اس حدیث شریف میں اطراف عالم تک اسلام کے پھیلنے کی پیشین گوئی ہے جوحرف بحرف صحیح ثابت ہوئی۔
ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاء وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ (4)
یہ اللہ کا فضل ہے وہ دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے ﴿٤﴾
ذالک فضل اللہ تفسیر مجمع البیان میں مروی ہے کہ ایک دفعہ غربا ء طبقہ نے خدمت نبوی عرض کی کہ دولت مند لوگ صدقہ و خیرات کرتے ہیں اور ہم اس ثواب سے محروم ہیں وہ حج کرتے ہیں اور ہم نہیں کر سکتے وہ غلام آزاد کر ا سکتے ہیں اورہم اس ثواب سے بھی قاصر ہیں آپ نے فرمایا جو شخص ایک سو مرتبہ اللہ اکبر کہے اس کا ثواب غلام سے زیادہ ہے چنانچہ غرباء نے یہ عمل شروع کیا تو امراء نے بھی ان تسبیحات کاورد شروع کر دیا اس کے بعد غرباء طبقہ نے عرض کی کہ حضور ﷺ ! اس میں تو امرا ء بھی ہمارے ساتھ شریک ہیں تو آپ نے قرآن مجید کی یہی آیت تلاوت فرمائی کہ یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دیدے تفسیر برہان میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آسمان کے فرشتے جب زمین پر چند آدمیوں کو محمد وآل محمد کے ذکر میں مشغول ہیں تو دوسرے فرشتے یہی آیت پڑھتے ہیں کہ یہ اللہ کا فضل ہے وہ جسے چاہے دیدے اور حضرت ام سلمہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم سے سنا آپ نے فرمایا کہ جب کوئی قوم زمین پر محمد وآل محمد کےفضائل میں مشغول ہوتو آسمان سے فرشتے اترتے ہیں اور ان میں شمولیت کرتے ہیں جب اختتام مجلس کے بعد وہ واپس جاتے ہیں تو آسمانی فرشتے ان سے دریافت کرتے ہیں کہ یہ خوشبو کیسی ہے جو ہم تمہارے وجود سے محسوس کر رہے ہیں تو یہ جواب دیتے ہیں کہ ہم محمد وآل محمد کے فضائل کی کسی مجلس میں زمین پر شریک ہوئے تھے اور یہ ان لوگوں کی خوشبو کااثر ہے جوشریک مجلس ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہمیں بھی اس مکان پر لے چلو تو ان کوجواب دیا جاتاہے کہ اب تو مجلس متفرق ہو گئی (برہان)
مَثَلُ الَّذِينَ حُمِّلُوا التَّوْرَاةَ ثُمَّ
لَمْ يَحْمِلُوهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا بِئْسَ مَثَلُ
الْقَوْمِ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِ اللَّهِ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ
الظَّالِمِينَ (5)
مثال ان لوگوں کی جن کو تورات دی گئی پھر انہوں نے اس پر عمل نہ کیا مثل اس گدھے کے ہے جو کتابیں اُٹھائے ہوئے ہو بُری مثال ہے اس قوم کی جنہوں نے اللہ کی نشانیوں کو جھُٹلایا اور اللہ ہدایت کی توفیق نہیں دیتا ظالم لوگوں کو ﴿٥﴾
عالم بے عمل
قُلْ يَا أَيُّهَا
الَّذِينَ هَادُوا إِن زَعَمْتُمْ أَنَّكُمْ أَوْلِيَاء لِلَّهِ مِن دُونِ
النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ (6)
کہہ دیجئے اے یہودیو! اگر تمہارا گمان ہے کہ تم اللہ کے دوست ہو نہ کہ دوسرے لوگ تو تم موت کی خواہش کرو (اور جنت میں چلے جاؤ) اگر سچے ہو ﴿٦﴾
یایھا الذین ھادوا چونکہ یہودیوں کا دعوی تھا کہ ہم حق پر ہیں اور یقینا جنت میں جائیں گے تو ان کو چیلنج کیاگیاہے کہ اگر تمہار ا یہ دعوی صحیح ہے توجنت آرام و آسائش کا گھر ہے تمہیں اس دکھ او ر تکلیف کے گھر (دنیا) سے نکل کر اسی گھر کی طرف جانا چاہئیے جس میں آرام ہے پس موت کی خواہش کرو اور جنت میں جاؤ لیکن وہ ایسا ہرگز نہ کریں گے
وَلَا يَتَمَنَّوْنَهُ أَبَدًا بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ وَاللَّهُ عَلِيمٌ
بِالظَّالِمِينَ (7)
اور وہ یہ خواہش نہ کریں گے بالکل بوجہ اس کے جو کرتوت کرچکے ہیں اور خدا ظالم لوگوں کو خوب جانتا ہے ﴿٧﴾
قُلْ إِنَّ الْمَوْتَ
الَّذِي تَفِرُّونَ مِنْهُ فَإِنَّهُ مُلَاقِيكُمْ ثُمَّ تُرَدُّونَ إِلَى عَالِمِ
الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ (8)
کہہ دیجئے تحقیق وہ موت سے جس تم بھاگتے ہو وہ یقیناً تم سے ملاقات کرے گی پھر پلٹائے جاؤ گے اس ذات کی طرف جو غیب و شہادت کے جاننے والا ہے پس تم کو خبر دے گا (سزا دے گا) اس کو جو تم عمل کرتے ہو ﴿٨﴾
يَا
أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِي لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ
فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن
كُنتُمْ تَعْلَمُونَ (9)
اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن نماز کی اذان ہوجائے تو اللہ کے ذکر (نماز جمعہ) کی طرف دوڑ کر آؤ اور خرید و فروخت چھوڑ دو یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم دانا ہو ﴿٩﴾
فَإِذَا قُضِيَتِ
الصَّلَاةُ فَانتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِن فَضْلِ اللَّهِ
وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (10)
پس جب نماز ہوچکے تو زمین پر پھیل جاؤ اور اللہ کا رزق تلاش کرو اور اللہ کا ذکر زیادہ کیا کرو تاکہ تم فلاح پاؤ ﴿١٠﴾
وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا
قُلْ مَا عِندَ اللَّهِ خَيْرٌ مِّنَ اللَّهْوِ وَمِنَ التِّجَارَةِ وَاللَّهُ
خَيْرُ الرَّازِقِينَ (11)
اور جب (یہ لوگ) تجارت کو دیکھتے ہیں یا لہو (طبل کی آواز سنتے ہیں) اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں اور تجھے بحالتِ قیام چھوڑ جاتے ہیں کہہ دیجئے جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ لہو اور تجارت سے بہتر ہے اور اللہ بہترین رزق دینے والا ہے ﴿١١﴾
رکوع نمبر 12
من یوم الجمعہ لفظ جمعہ میں تین طرح کا تلفظ وارد ہے جمعہ جمعہ جمعہ یعنی میم پر ضمہ جزم اور فتحہ تینوں حرکات پڑھی گئی ہیں اور اس کی جمع جمع اور جمعات آتی ہے اور کہتے ہیں کہ پہلے جمعہ کا نام عروبہ تھا اور کعب بن لوی پہلا شخص ہے جس نے اس کا نام جمعہ رکھا اور خطبہ میں ام بعد کی اصطلاح کاموجد بھی کعب بن لوی تھا اور ایک روایت میں ہے کہ انصار نے ایک میٹنگ اپنے ہاں ایک خاص مجلس مشاورت کا انعقاد کیا اور یہ مسئلہ زیر بحث آیا کہ یہودیوں نے اپنے اجتماع کا ہفتہ وار ایک دن مقرر کیا ہو اہے اسی طرح نصاری نے بھی اپنے لئے ہفتہ میں ایک دن مقر ر کر رکھا ہے جس میں وہ ایک جگہ جمع ہو کر اجتماعی امور پر تبادلہ خیالات کر سکتے ہیں لہذا ہمارے لئے بھی ایک دن ضرور ہونا چاہئیے جس میں ہم سب سر جوڑ کر اکٹھے مل بیٹھیں تاکہ ہمارا قومی و ملی وقار قائم ہو چنانچہ انہوں نے عروبہ کادن تجویز کیا اور ان کا پہلا اجتماع اور سعد بن زرارہ کے ہاں ہوا اور اس مجلس میں عروبہ کے بجائے اس کا نام جمعہ تجویزکیا گیا اور اسعد بن زرارہ نے ان کی ضیافت میں ایک بکر ی ذبح کی جوصبح و شام ان کے لئے کافی ہوئی کیونکہ اس وقت ان کی تعد اد کم تھی اوراسلام کی تاریخ میں یہ پہلا جمعہ تھا اور تفسیر مجمع البیان میں ہے کہ حضرت نبی کریم ﷺ نے جو پہلا جمعہ پڑھا وہ مسجد بنی سالم میں ادا کیا گیا کیونکہ آپ مکہ سے ہجرت کر کے 12 ربیع الاول بروز سوموار چاشت کے وقت مقام قبا پر پہنچے جہاں عمرو بن عوف کی اولاد کاڈیرہ تھا پس وہاں ان کے لئے مسجد کی بنیاد بھی رکھی جسے مسجد قبا کہاجاتاہے اورجمعہ تک وہاں قیام فرمایا اور جمعہ کے روز وہاں سے کوچ فرمایا اور نماز جمعہ کے وقت بنی سالم کے ڈیرہ پر پہنچے جو ایک وادی میں تھا پس وہاں آپ نے نمازجمعہ ادا فرمائی اور یہ پہلی نماز جمعہ تھی جوحضورﷺ نے اپنے صحابہ کوپڑھائی اس کے بعد انہوں نے اسی جگہ کو مسجد کےلئے وقف کر دیا اور مسجد بنالی گئی اورنماز جمعہ سے پہلے آپ نے ایک خطبہ ارشاد فرمایا جسمیں خوف خدا اور دعوت تقوی اور دیگر اسلامی بنیادی مسائل کو ایک جامع انداز سے واضح فرمایا پس جمعہ نماز سے پہلے خطبے ضروری قرار دئیے گئے حضورﷺ کا خطبہ تفسیر مجمع البیان میں مکمل موجود ہے جس کے نقل کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں۔
”الحمد للہ احمدہ واستعینہ واستغفرہ واستہدیہ واؤمن بہ ولا اکفرہ، واعادی من یکفرہ، واشہد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ وان محمدا عبدہ ورسولہ، ارسلہ بالہدی والنور والموعظۃ علی فترۃ من الرسل وقلۃ من العلم وضلالۃ من الناس وانقطاع من الزمان ودنو من الساعۃ وقرب من الاجل، من یطع اللہ ورسولہ فقد رشد، ومن یعصہما فقد غوی وفرط وضل ضلالاً بعیداً، واوصیکم بتقوی اللہ فان اخیر ما اوصی بہ المسلم المسلم ان یحضہ علی الآخرۃ وان یامرہ بتقوی اللہ فاحذروا ما حذرکم اللہ من نفسہ ولا افضل من ذلک نصیحۃ ولا افضل من ذلک ذکراً، وان تقوی اللہ لمن عمل بہ علی وجل ومخافۃ من ربہ عون صدق علی ما تبغون من امر الآخرۃ، ومن یصلح الذی بینہ وبین اللہ من امرہ فی السر والعلانیۃ لا ینوی بذلک الا وجہ اللہ یکن لہ ذکراً فی عاجل امرہ وذخراً فیما بعد الموت حین یفتقر المرء الی ما قدم وما کان من سوی ذلک یود لو ان بینہا وبینہ امداً بعیداً، ویحذرکم اللہ من نفسہ، واللہ رؤوف بالعباد، والذی صدق قولہ وانجز وعدہ لا خلف لذلک فانہ یقول عز وجل ما یبدل القول لدی وما انا بظلام للعبید، فاتقوا اللہ فی عاجل امرکم وآجلہ، فی السر والعلانیۃ فانہ من یتق اللہ یکفر عنہ سیئاتہ ویعظم لہ اجراً ومن یتق اللہ فقد فاز فوزاً عظیماً، وان تقوی اللہ یوقی مقتہ، ویوقی عقوبتہ، ویوقی سخطہ، وان تقوی اللہ یبیض الوجوہ، ویرضی الرب، ویرفع درجۃ، خذوا بحظکم ولا تفرطوا فی جنب اللہ، قد علمکم اللہ کتابہ، ونہج لکم سبیلہ لیعلم الذین صدقوا ویعلم الکاذبین، فاحسنوا کما احسن اللہ الیکم، وعادوا اعداءہ، وجاہدوا فی اللہ حق جہادہ، ہو اجتباکم وسماکم المسلمین لیہلک من ہلک عن بینۃ ویحیا من حی عن بینۃ ولا قوۃ الا باللہ، فاکثروا ذکر اللہ واعملوا لما بعد الیوم فانہ من یصلح ما بینہ وبین اللہ یکفہ اللہ ما بینہ وبین الناس ذلک بان اللہ یقضی علی الناس ولا یقضون علیہ ویملک من الناس ولا یملکون منہ، اللہ اکبر ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم“
شان نزول
تفسیر مجمع البیان میں جابر بن عبد اللہ انصاری سے مروی ہے کہ ایک دفعہ ہم جناب رسول اللہ کی اقتداء میں نماز جمعہ پڑھ رہے تھے کہ ایک قافلہ تجارت ان پہنچا پس اعلان ہوتے ہی مسجد میں کھڑے ہوئے نمازی سب دوڑ گئے اور رسول اللہ کے پیچھے صرف بارہ آدمی بچ گئے جن میں سے ایک میں بھی تھا بعض کہتے ہیں کہ مدینہ میں ایک مرتبہ قحط پڑ گیا تو وحیہ بن خلیفہ کلبی شام سے مال تجارت لایا اور جنت البقیع میں اس نے دکان لگا لی اس وقت حضور ﷺ خطبہ پڑھ رہے تھے پس چند آدمیوں کے علاوہ سب دوڑ گئے کیونکہ ان کویہ ڈر تھا کہ اگر دیر سے گئے تو ضروریات زندگی کی خرید سے محروم ہو جائیں گئے تو حضورﷺ نے باقیماندہ صحابہ سے فرمایا اگر تم بھی دوڑ جاتے اور میرے ساتھ کوئی باقی نہ رہتا تو اس وادی پراللہ کا عذاب نازل ہوتا اور آگ بھڑ ک اٹھتی وحیہ بن خلیفہ کلبی شام سے تمام ضروریات زندگی کا سامان لایا کرتا تھا مثلا آٹا گندم وغیرہ اور بازا ر مدینہ میں اس کی دوکان کے لئے ایک جگہ مخصوص تھی پس آتے ہی وہ طبل بجایا کرتا تھا اور لوگ دھڑا دھڑا اس کے پاس پہنچ جایا کرتے تھے چنانچہ اس کے اسلام لانے سےپہلے کا واقعہ ہے کہ وہ مدینہ میں آیا اور حسب دستور طبل بجا کر اعلان کیا وہ اتفاق سے جمعہ کا دن تھا اور حضورﷺ خطبہ جمعہ ارشاد فرما رہے تھے پس آواز سنتے ہی سب لوگ خطبہ چھوڑ کردوڑ گئے صرف بارہ مرد اور ایک عورت بچ گئے آپ نے فرمایا اگر یہ بھی چلے جاتے تو ان لوگوں پر بحکم خدا آسمان سے پتھر برستے اور ایک روایت میں ہے کہ تین دفعہ ایسا اتفاق ہواکہ شام سے مال تجارت آیا اور لوگ جمعہ چھوڑ کر بھاگ گئے
فاسعو ا الی ذکر اللہ یعنی جمعہ کی نماز ہو جانے کے بعد اللہ کے ذکر یعنی نماز جمعہ کی طرف دوڑ کرآؤ اور مقصد یہ ہے کہ باقی تمام دنیاوی کا م چھوڑ کر عبادت کی طرف رغبت کرو اسی لئے جمعہ کے دن اذان کے بعد سفر کرنا حرام قرار دیاگیا ہے اور ذرواالبیع کے حکم سے صاف واضح ہے کہ خریدو فروخت بھی اذان جمعہ کے بعد تا اختتام نما ز جمعہ ممنوع اورحرام ہے تفسیر برہان میں تفسیر قمی سے منقول ہے کہ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ کے ذکر کی طرف سعی کرنے کامقصد یہ ہے کہ اس کی تیاری کرو یعنی مونچھیں کٹواؤ بغلوں کے بال صاف کرو ناخن اتراواؤ اور غسل کر کے عمدہ لباس زیب تن کروا ور خوشبو لگا کر نماز کے لئے چلو
جمعہ کی وجہ تسمیہ
تفسیر برہان میں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ جمعہ کوجمعہ اس لئے کہاگیاہے کہ اس روز اللہ نےمیثاق کے وقت حضرت محمد مصطفی اور حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کے لئے تمام ارواح کو جمع کیا تھا اوردوسری روایت میں ہے کہ محمد وآل محمد کی ولایت کے اقرار کے لئے اللہ نے تمام مخلوق کو اس دن اکٹھا کیا تھا اور مجمع البیان کی سابق روایت میں جہاں یہ کہا گیا ہے کہ جمعہ کا نام عروبہ تھا اورکعب بن لوی نے اس کا نام جمعہ رکھاتھا یا یہ کہ ہجرت پیغمبر سے پہلے انصار نے ایک خصوصی اجتماع میں اس کا نام عروبہ سے جمعہ بدل دیا تھا اس روایت کے ساتھ اس کی مفاخات نہیں ہے کیونکہ ہو سکتاہے کہ جب روز ازل میثاق لیا گیا اگرچہ ضبط اوقات سے پہلے کی بات ہے لیکن کہاجاسکتاہے کہ اگر ضبط اوقات ہوتا تو وہ میثاق جمعہ کے دن پڑتا اوراسی اجتماع کی وجہ سے ہی اس کو جمعہ کا نام دیا گیاہے اگرچہ ظاہری دنیا میں اس کا تسمیہ کعب بن لوی یا انصار کی طرف منسوب ہے
فضائل جمعہ
وسائل الشیعہ میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ جس شخص کو جمعہ کا دن نصیب ہو اسے اس دن عبادت کے علاوہ اور کوئی کام نہ کرنا چاہییے کیونکہ یہ بندوں کی بخشش اور نزول رحمت کا دن ہے
حضرت امیرالمومنین علیہ السلام نے ایک دن جمعہ کے خطبہ میں فرمایا کہ جمعہ کے دن میں ایک ساعت ایسی ہے کہ اس میں ہر جائز دعا منقول ہوتی ہے آپ نے ایک حدیث فرمایا جو جمعہ کی رات کومرے و ہ فشار قبر سے محفوظ ہوتا ہے اور جمعہ کے دن میں مرے تو عذاب جہنم سے آزاد ہوتا ہے امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا اگر کوئی شخص کسی نیک کام کا ارادہ رکھتا ہو مثلا صدقہ و خیرات وغیرہ تو وہ جمعہ کےدن کرےکیونکہ اس دن اس کا عمل دوگنا شمار ہو گا
امام محمد باقر علیہ السلام نےفرمایا کہ جمعہ کے دن ظہر و عصر کے درمیانی وقفہ میں ہوگا
حضور ﷺ نے فرمایا جمعہ کے دن رات کے چوبیس گھنٹوں میں سے ہر گھنٹہ میں چھ لاکھ گنہگاروں کو جہنم سے آزادی کا پروانہ ملتا ہے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ ہفتہ کا دن ہمارا اتوار ہمارے شیعوں کا سوموار ہمارے دشمنوں کا منگل بنو امیہ کے لئے بدھ وار دوا پینے کے لئے خمیس قضاء حوائج کے لئے اور جمعہ کا دن خوشبو و پاکیزگی کے لئے ہے اور یہ مسلمانوں کی عید ہے اور عید الفطر وعید قربان سے افضل ہے اور یوم عید غدیز خم تمام عیدوں سے افضل ہے جو جلد ذی الحجہ کا روز ہے اور قائم آل محمد ﷺ کا خروج جمعہ کے دن ہو گا اور قیامت بھی اسی دن قائم ہو گی اور اس دن میں درود سے افضل اور کوئی عمل نہیں ہے
تفسیر درمنثور میں ہے کہ جمعہ کےدن آسمان و زمین کی خلقت ہوئی اسی دن جنت و نار کو خلق کیا گیا اسی روز حضرت آد م پید ا ہوئے اسی دن جنت میں گئے اور اس سے باہر آئے اور اسی دن قیامت قائم ہو گی
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ شب جمعہ میں لاتعداد فرشتے زمین پر اترتے ہیں جن کے ہاتھوں میں سونے کا قلم اور چاندی کے ورق ہوتے ہیں اور وہ ہفتہ کی رات تک محمد وآل محمد پر درود بھیجنے والوں کا درود سلام ہی لکھتے ہیں پس آپ نے راوی حدیث سے فرمایا کہ جمعہ کے شب و روز میں درود و سلام زیادہ پڑھا کرو اور سنت یہ ہے کہ ہر روز ایک سو مرتبہ اور جمعہ کے دن ایک ہزار مرتبہ درود شریف پڑھا جائے اور آپ نے فرمایا جو شخص جمعہ کے دن ایک سو مرتبہ درود شریف پڑھے تو اس خدا اس کی سوحاجات پوری کرے گا جن میں سے تیس دنیاوی ہوں گی (باقی اخروی) اور ایک روایت میں امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ شب جمعہ خدا کی جانب سے ندا ہوتی ہے کیا کوئی تائب ہے جس کی توبہ قبول کی جائے کیا کوئی استغفار کرنے والا ہے تاکہ اس کےگناہ بخشے جائیں کیا کوئی سائل ہے ؟ جس کو دیا جائے (فرشتے یہ دعا کرتے ہیں) اے اللہ دینے والوں کو عطا کر او ربخل کرنے والوں کے مال تلف کرو
آداب جمعہ
حجامت بنوانا غسل کرنا عمدہ لباس پہننا اور خوشبو لگا نا جمعہ کے مستحبات میں سے ہیں اور غسل جمعہ کے متعلق بعض احادیث میں لفظ وجوب بھی وارد ہے جس کو علماء استحباب موکد پر محمول فرماتے ہیں اگر جمعہ کے دن پانی نہ ملنے یا غسل سے معذوری کا خطرہ ہو تو برو ز خمیس بھی غسل جمعہ کیا جاسکتا ہے اور اگر کسی وجہ سے غسل جمعہ ترک ہو جائے تو اس کی قضا ہفتہ کے دن تک ہو سکتی ہے غسل جمعہ کا وقت طلوع آفتاب کے بعد ہے اور جس قدر زوال کے قریب ہو افضل ہے
مسئلہ جمعہ کے دن بیس رکعت نافلہ مستحب ہے چنانچہ اس کی ترکیب حضرت امام رضاعلیہ السلام سے مرو ی ہے آپ نے فرمایا چھ رکعت طلوع آفتاب کے بعد پھر چھ رکعت جب سورج بلند ہو جائے پھر اس کے بعد چھ رکعت زوال سے پہلے اور پھر دو رکعت زوال کے بعد یہ کل بیس رکعت ہو نگی الحدیث (وسائل)
مسئلہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ امام جمعہ کو چاہیے کہ سردی اور گرمی میں خطبہ جمعہ کے لئے عمامہ پہن کر آئے او ر کندھوں پر چادر یمنی ڈال لے اور دوسری روایت میں ہے کہ بوقت خطبہ عصا پر سہارارکھے
مسئلہ وسائل میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ قلیب نامی ایک بدوی شخص حضرت رسالتمآب ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کی یا رسول اللہ میں کئی دفعہ حج کے لئے تیار ہوا ہوں لیکن اتفاق سے جا نہیں سکا آپ نے فرمایا اے قلیب جمعہ کی نماز میں لازمی طور پر حاضر ہوا کرو کیونکہ مساکین کی یہی حج ہے
مسئلہ وسائل میں حضرت رسالتمآبﷺ سے مروی ہے کہ عمامہ کے ساتھ دو رکعت بغیر عمامہ کے چار رکعت سے افضل ہے اور شہید اول سے ذکری میں مرو ی ہے کہ شلوار پہنے ہوئے نماز کی ایک رکعت بغیر شلوار کی چار رکعتوں سےافضل ہے اور اسی قسم کی روایت عمامہ کے متعلق بھی وارد ہے (اقول) جب عان نماز میں عمامہ و شلوار کو اہمیت دی گئی ہے تو نماز جمعہ کے لئے ان کی اہمیت اور زیادہ ہوگی لہذا غفلت نہ کرنی چاہئیے )
مسئلہ وسائل الشیعہ میں متفعہ مفید سے منقول ہے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ جمعہ کے دن اور رات میں صدقہ ایکہزار کے برابر ہوتاہے اسی طرح جمعہ کےدن یا رات میں درود شریف ایک ہزار نیکی کے برابر ہے اور درود پڑھنے والے کے ایک ہزار گناہ معاف ہوں گے اور ایک ہزار درجات بلند ہوں گے اور اس کا نور تاقیامت اہل سمادات کے لئے چمکتا رہے گا اور ملائکہ آسمانی اس کے لئے مغفرت کی دعا کرتے رہیں گے اور وہ فرشتہ جو قبر پیغمبر پر موکل ہے وہ بھی اس کے لئے قیامت تک دعائے بخشش کرتا رہے گا
مسئلہ جمعہ کےدن یا رات کو مرد کا اپنی منکوحہ کے ساتھ ہم بستر ہونا بھی مستجب ہے
مسئلہ امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ جمعہ کے دن طلوع آفتاب سے پہلے قبرستان میں جانا مستجب ہے آ پ نے فرمایا اہل قبور میں سے جو سختی میں ہو گا اس کو آسائش مل جائے گی اور جو آدمی ان کی زیارت کے لئے جاتاہے ان کوپتہ ہوتاہے او ر وہ خوش ہوتےہیں اور جب آدمی قبرستان سے واپس آتاہے تو وہ غمزدہ بھی ہوتے ہیں اور طلوع آفتاب کے بعد روحیں منتشر ہو جاتی ہیں
مسئلہ جمعہ کے دن طلوع فجر کے بعد تا اختتام نماز جمعہ سفر مکروہ ہے
مسئلہ جمعہ کے روز شعر خوانی مکروہ ہے اور وسائل میں کافی احادیث اس بارے میں منقول ہیں
مسئلہ جمعہ کےدن اہل خانہ کو گوشت یامیوہ جات (یعنی عمد ہ غذا ) مہیا کرنا مستجب ہے تاکہ ان کے دلوں میں خوشی پیدا ہو
مسئلہ جمعہ کے دن جس طرح ہر قسم کی نیکی کی جزا دوگنی ہوا کرتی ہے اسی طرح اس روز میں ہر برائی کی سزا بھی دوگنی ہو جاتی ہے جس طرح کہ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے (وسائل)
مسئلہ حضرت رسالتمآبﷺ سےمروی ہے کہ پانچ چیزیں برص کی موجب ہیں جمعہ اور بدھ کے دن نورہ لگانا وضو یا غسل سورج سے گرم شدہ پانی سے کرنا جنابت کی حالت میں کھانا ایام حیض میں عورت سے مجامعت کرنا شکم پری کے باوجود کھانا
مسئلہ جمعہ کے روز ناخن کترانا اور مونچھوں کے بال کٹوانا مستجب ہےاور حجامت کے وقت یہ دعا پڑھے بسم اللہ علی سنتہ محمد وآل محمد
نماز جمعہ
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے کہ جمعہ سے جمعہ تک کل 35 نمازیں فرض ہیں اور کسی نماز میں جماعت فرض نہیں سوائے ایک نماز جمعہ کے اور نو آدمیوں سے اس کا وجوب ساقط ہے بچہ بوڑھا مسافر بیمار نابینا عورت غلام جس کا گھر دو فرسخ سے دور ہو
امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا جو قدم نماز جمعہ کی طرف چل کر جائے گا اس پر آتش جہنم حرام ہے
امام محمد باقر علیہ السلام نےفرمایا جو شخص بغیر علت کے متواتر تین جمعے چھوڑ د ے اس کےدل پر مہر لگ جاتی ہے اور دوسری روایت میں اس کو منافق سے تعبیر کیاگیا ہے
حضرت رسالتمآبﷺ نے فرمایا جو شخص نماز جمعہ کو میری موجودگی میں یا میری وفات کے بعد ترک کرے اس کو معمولی سمجھ کر یا اس کا انکار کرتے ہوئے تو خد ا ایسے لوگوں کو اتفاق کی دولت سے محروم کرےگا اور ان سے برکت کو چھین لے گا ایسے لوگوں کی نہ نماز ہے نہ روزہ اور نہ حج ہے نہ زکوۃ حتی کہ اس کی کوئی نیکی مقبول نہیں جب تک تائب نہ ہو
حضرت رسالتمآب ﷺنے فرمایا جب پانچ آدمی اکٹھے ہو جائیں اور ان میں ایک پیشماز ہوتو نماز جمعہ پڑھیں
امام محمد باقر علیہالسلام نےفرمایا کہ جب سات آدمی ہو جائیں تو جمعہ واجب ہے اور پانچ سے کم کے لئے جمعہ جائز نہیں ہے پس جب سات ہو جائیں اور ان کو خطرہ کوئی نہ ہو تو نماز جمعہ پڑھیں
ایک روایت میں ہے ایک سائل نے سوال کیاکہ کیا بستی والوں پر بھی جمعہ واجب ہوتا ہے تو آپ نے فرمایا کہ ہاں البتہ اگر پیشنماز میسر نہ ہو تو چار رکعت پڑھ لیا کریں
آپ نے فرمایا جب جمعہ قائم ہوتو دو فرسخ تک رہنے والوں پر اس میں حاضر ہونا واجب ہے
حضرت امیر علیہالسلام نے فرمایا جوشخص نماز جمعہ کو جاتے ہوئےمر جائے اس کی جنت کا میں ضامن ہو ں
کیا وجوب نماز جمعہ میں سلطان عادل کا وجود ضروری ہے
زراہ سے مروی ہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے نماز جمعہ کے لئے ہمیں اس قدر تاکید کی کہ میں نے سمجھا شاید خود ہی پڑھائیں گے لہذا عرض گذار ہوا کہ ہم نماز جمعہ کے لئے حاضر ہوں گے تو آپ نے فرمایا میرا یہ مطلب نہیں کہ میں پڑھاؤں گا بلکہ میں تم کو تاکید کر رہا ہو ں کہ اپنے ہاں اس کو قائم کیا کرو ایک روایت میں ہے امام محمد باقر علیہ السلام نے راوی حدیث سے فرمایا کہ تم اللہ کی جانب سے واجب کئے جانے والے ایک فریضہ کو ترک کرنے کی سزا میں ہلاک ہوجاؤ گے تو راوی نے عرض کی پھر ہم کیا کریں ؟ آپ نے فرمایا نماز جمعہ پڑھا کرو وجوب نماز جمعہ کی احادیث نقل کر نے کے بعد شیخ محمد بن حسن المعروف شیخ حرعاملی اعلی اللہ مقامہ تحریر فرماتے ہیں کہ نماز جمعہ کے وجوب پران احادیث متواترہ کی دلالت قائم ہے جن کا عموم و اطلاق وجود سلطان عادل کی شرط کی نفی کرتاہے البتہ جن احادیث میں لفظ امام وارد ہے اس سے مراد امام جماعت ہے (کیونکہ نماز جمعہ بغیر امام جماعت کے ہو نہیں سکتی) امام جماعت کے لئے بھی شرط ہے کہ وہ خطبے پڑھنے میں آزاد ہو اور اسے کسی کا خوف نہ ہو لہذا اس جگہ امام سے مراد عام ہے معصوم ہو یا امام جماعت ہو اور علماء لغت بھی یہی کہتے ہیں آگے چل کر فرماتے ہیں کہ ان احادیث میں امام کا اطلاق ایسا ہی ہے جس طرح نماز جنازہ استسقا اور نماز آیات وغیرہ میں جہاں جہاں نماز میں اقتدار کا بیان ہوتا ہے بہر کیف ان احادیث سے یہ ثابت ہوتاہے کہ نماز جمعہ میں جماعت شرط ہے اور وہ امام کے بغیر نہیں ہو سکتی یعنی پیشنماز کے بغیر نہیں ہو سکتی
بہر کیف زمان غبت میں نماز جمعہ باقی شرائط کی موجودگی میں بنیت وجوب پڑھی جائے گی اور شہید ثانی اعلی اللہ مقامہ کی تحقیق کے مطابق اگر اس کے وجوب عینی کی نفی پر علماء امامیہ کا اجماع قائم نہ ہونا تو وجوب عینی کاقول زیادہ قوی تھا لیکن اب کم از کم اس کو واجب تحییری کہنا چاہئیے یعنی نماز ظہر اورنماز جمعہ میں اختیار ہے اگرچہ نماز ظہر کے بجائے نماز جمعہ کا پڑھنا افضل ہے اورنماز جمعہ با شرائط ادا ہو جائے تواحتیاطا نماز ظہر پڑھنے کی کوئی ضرروت نہیں ہے
نماز جمعہ کاطریقہ
مسئلہ نماز جمعہ کا وقت وہی ہے جو عموما نماز ظہر کا وقت فضیلت ہوا کرتاہے اس وقت کے گذر جانے کے بعد نماز جمعہ نہیں پڑھی جائے گی بلکہ نماز ظہر ادا ہو گی
مسئلہ نماز جمعہ کم ازکم پانچ آدمیوں کی موجودگی میں اداہو گی جب کہ پانچواں پیشنماز ہو اور اسکو خطبہ پڑھنے میں کوئی خوف نہ ہو پہلے امام جماعت دو خطبے پڑھے گا جن میں حمد و ثناء نے پروردگار وعظ و نصیحت آئمہ پر درود اور دعا اور آخر میں قرآن مجید کی مختصر جامع آیت ہو گی پہلا خطبہ ہم نقل کر چکے ہیں اور دوسرا خطبہ ہماری کتاب نماز امامیہ میں درج کیا جاچکا ہے
مسئلہ دونو خطبوں کے درمیان امام جماعت بیٹھ جائے اور اس اثناء میں حاضرین درود شریف پڑھ لیں
مسئلہ نماز جمعہ دورکعت ہوتی ہے کیونکہ دو خطبے باقی رکعتوں کے قائمقام سمجھے جاتے ہیں
مسئلہ حاضرین جماعت پر واجب ہے کہ دونوں خطبے کان لگا کر سنیں اور اس دوران آپس میں کلام نہ کریں
مسئلہ بہتر ہے کہ امام جماعت پہلی رکعت میں حمد کے بعد سورہ جمعہ اور دوسری میں سورہ منافقین پڑھے اگر یاد نہ ہوں تو چوتھی سورہ پڑھے جائز ہے
مسئلہ نماز جمعہ میں جہر واجب ہے اور اگر ظہر پرھی جائے توپہلی دو رکعتوں کی قرات میں جہر مستجب ہے
پس جب نماز ہو چکے تو زمین پر پھیل جاؤ اور اللہ کا رزق تلاش کرواور اللہ کا ذکر زیادہ کیا کرو تاکہ تم فلاح پاؤ ⬥
اور جب (یہ لوگ ) تجارت کو دیکھتے ہیں یالہو (طبل کی آواز سنتے ہیں ) اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں اور تجھے بحالت قیام چھوڑ جاتےہیں کہہ دیجئے جوکچھ اللہ کے پاس ہے وہ لہو اور تجارت سے بہتر ہے اور اللہ بہترین رزق دینے والا ہے ⬥
فاذا قضیت تفسیر مجمع البیان میں ہے کہ حضور نےفرمایا جمعہ کے بعد منتشر ہونےکاحکم طلب دنیاکے لئے نہیں بلکہ عیادت مریض نماز جنازہ اور مومن بھائی کی ملاقات کے لئے ہے اور بعضوں نے طلب فضل سے مراد طلب علم لیا ہے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ جن ضروریات زندگی کے پورا کرنے کا اللہ نے وعدہ کیاہے میں ان کی تلاش کے لئے بھی سفر کرتاہوں تاکہ اللہ کے نزدیک حلال کی تلاش کرنیوالوں میں میرا شمار ہو اس کے بعد آپ نے یہی آیت مجیدہ پڑھی اورفرمایا اگر کوئی شخص گھر کی چار دیواری کے اندر دروازہ بند کر کے بیٹھ جائے اور کہے کہ میرا رزق خود بخود یہا ں اترے گا تو اس کا شمار ان تین لوگوں میں سے ہے جن کی دعا مستجاب نہیں ہوتی عمرو بن زید راوی حدیث نےدریافت کیاکہ وہ تین لوگ کون کون سے ہیں ؟ آپ نے فرمایا وہ یہ ہیں جس شخص کی عورت نافرمان ہو او ر اس پر بددعا کرے تو یہ قبول نہ ہوگی کیونکہ اس کو اللہ نے اختیاردے رکھا ہے کہ اگر نافرمان ہوتو طلاق دے کر اس سے گلو خلاصی حاصل کر لے اگر کسی شخص کاکسی دوسرے پر کوئی حق ہو اور وہ اس کا انکار کر دے تو اس پر اس کی بددعا کاکوئی اثر نہ ہو گا کیونکہ اللہ نے اس کے لکھوا لینے کا حکم دیاہے اوراس نے عمدا اس سے پہلو تہی کی ہے کسی شخص کے پاس کھانے کے لئے کچھ ہو اور گھر کی چار دیواری میں بند ہو کر بیٹھ جائے اس بھروسے سے کہ یہ ختم ہو گا تو اللہ اور بھیج دے گا ایسے شخص کی طلب رزق کے لئے دعا مستجاب نہ ہو گی
واذکرو اللہ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہا ں ذکر سے مراد فکر ہے جس طرح حدیث میں ہے کہ ایک گھنٹہ کا فکر ایک سال کی عبادت سے افضل ہے اور بعض نے کہاہے مقصد یہ ہے کہ بازار میں پہنچ کرکاروباری حالت میں بھی اللہ کو نہ بھلایا کرو بلکہ اس کاذکر ورد زبان رکھا کرو اور حضورﷺ نے فرمایا کہ جوشخص بازارمیں لوگوں کی کاروباری مشغولیت اور غفلت کے وقت اللہ کا ذکر کرے گا اس کے نامہ اعمال میں ایک ہزار نیکی درج ہو گی اور اس کی اس طرح بخشش ہو گی جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو گی
وترکو ک قائما عبداللہ بن مسعود سے دریافت کیا گیا کہ کیا حضور ﷺ کھڑے ہو کر جمعہ کا خطبہ پڑھا کرتے تھے تو اس نے یہی آیت پڑھی اور کہا ترکوک قائما سے صاف ظاہر ہے کہ آپ کو وہ لوگ خطبہ پڑھنے چھوڑ کرچلے جاتے تھے چنانچہ اسی بناء پر فاسعو االی ذکر اللہ میں سے ذکر سے مراد بھی خطبہ جمعہ لیاگیا ہے کیونکہ وہ حمد و ثنائے پروردگار پرمشتمل ہوا کرتاہے اورجابر بن سمرہ سے منقول ہے کہ میں نے حضورﷺ کوکھڑے ہو کر خطبہ پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اگر کوئی شخص یہ کہے کہ آپ بیٹھ کر خطبہ جمعہ پڑھتے تھے تو جھوٹ کہتاہے
ماعنداللہ یعنی خطبہ کے سننے اور وعظ و نصیحت حاصل کرنے اور جم کر نماز جمعہ ادا کرنے کا جو ثواب اللہ کے پاس محفوظ ہے وہ اس دنیاوی منفعت سے بدر جہا بہترہے اور اس کا انجام نہایت خوشگوار ہے
واللہ خیرالرزقین یعنی اگر تم لوگ خطبہ اور نماز جمعہ کو ترک نہ کرو تب بھی خدا تمہارے رزق کا بندوبست کر دےگا حضر ت ابوذرسے منقول ہے کہ جناب رسالتمآب ﷺ نے فرمایا اگر کوئی شخص جمعہ کے دن غسل کر کے اور عمدہ لباس پہن کر تیل خوشبو لگا کر آئے تو اس کے ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے بلکہ مزید تین دنو ں کے بھی گناہ بخشے جاتے ہیں بشرطیکہ اس کےگناہوں میں دوآدمیوں کےدرمیان پھوٹ ڈالنے کا گناہ شامل نہ ہو ایک روایت میں حضور ﷺ نےفرمایا کہ اللہ تعالی ہر جمعہ کے دن چھ لاکھ آدمیوں کا آتش جہنم سے آزاد کرتا ہے جن پرجہنم واجب ہو چکی ہوتی ہے (تفسیر مجمع البیان )
تفسیر برہان میں بروایت ابن شہر آشوب حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ جب وحیہ کلبی شام سے مال تجارت لایا او ر اس نے طبل بجابجا کرلوگو ں کا اپنے آنے کی اطلاع دی تو حضور ﷺ کو بحالت خطبہ چھوڑ کر لوگ دوڑ گئے اور صرف آٹھ آدمی باقی رہ گئے حضر ت علی امام حسن امام حسین جناب فاطمہ الزہرا سلیمان ابوذر مقداد اور یہ دیکھ کر حضور ﷺ نے فرمایا اگر یہ آٹھ آدمی بھی نہ ہوتے تو پورے مدینہ پر آگ برستی اورقوم لوط کے عذاب کی طرح ان لوگوں پر آسمان سے پتھر برسائے جاتے پس ان لوگوں کے متعلق یہ آیت اتری رجال لاتلھیھم تجارۃ الخ