التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

تاویل قرآن

تاویل قرآن کا لغوی معنی ہے پلٹانا لیکن یہاں مراد ہے معنی کی بازگشت اور باز گشت سے مراد اس طرح نہیں جس طرح کہا جاتا ہے کہ غلام کی بازگشت آقا اور ۔۔۔

تاویل قرآن

تاویل قرآن کا لغوی معنی ہے پلٹانا لیکن یہاں مراد ہے معنی کی بازگشت اور باز گشت سے مراد اس طرح نہیں جس طرح کہا جاتا ہے کہ غلام کی بازگشت آقا اور عدد کی باز گشت واحد ہے؟ بلکہ یہاں بازگشت سے مراد رجوع خاص ہے اور تاویل قرآن سے مراد وہ حقیقی و خارجی واقعہ یا مصلحت جس پر کلام کا اعتماد ہو اور وہ اس کلام کا سچا مصداق ہو چنانچہ قرآن مجید میں تاویل کے متعدد استعمالات پر عبور کرنے سے اس حقیقت کا صحیح انکشاف ہو سکتا ہے:
(۱)   کیل و وزن کی درستی و استقامت کے امر کے بعد فرماتا ہے ذٰلِکَ خَیْروَاَحْسَنُ تَاوِیْلا یعنی کیل و وزن کی صحت و استقامت کی تاویل بہت خوب ہے اور اس سے مراد تمدنی و اجتماعی خوشحالی ہے۔
(۲)   کافروں کے بارے میں فرماتا ہے کیا وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ باتیں افتراہیں؟ پھر فرماتا ہے کہ انہوں نے ایسی شئے کی تکذیب کی ہے جس کے علم کا ان کو احاطہ نہیں ہے اور نہ اس کی تاویل ان کے پاس پہنچی ہے یعنی قیامت کی خبروں کو انہوں نے جھٹلایا تھا اور رسول اکرم کی طرف نسبت افتراکی دی تھی پس خدا وند کریم نے قیامت کے دن میں واقع ہونے والے امور کو جو قرآنی خبروں کے مصداق ہیں تاویل کا نام دیا ہے۔
(۳)   حضرت خضر ؑ کے کشتی کو توڑنے لڑکے کو قتل کرنے دیوار بنانے اور پھر حضرت موسیٰؑ کے سوال کرنے کے بعد ان کا کہنا ہے کہ میں آپ ؑ کو ان چیزوں کی تاویل بتلاتا ہوں تو ان مصالح واقعیہ کو اُن امور کی تاویل کہا گیا جو حضرت خضر ؑ سے صدور پذیر ہوئے تھے۔
(۴)   حضرت یوسف ؑ کے قصہ میں تعبیر خواب کو متعدد مقامات پر تاویل سے یاد کیا گیا۔
ان سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ تاویل سے مراد وہ حقائق خارجیہ اور مصالح واقعیہ ہیں جن پر آیات قرآنیہ کے معارف علوم شرائع احکام جملہ قصص اور حکایات کا مدار واعتماد ہے، اور اس کا ماحصل اور خلاصہ یوں سمجھئے کہ قرآن کے معانی اور جملہ مضامین میں جہاں تک عام انسانی عقول کی رسائی ہے یہ قرآن کا جسم ظاہری ہے اور اس کے پس پردہ ایسے حقائق ا ور دقائق اور مصالح وحکم موجود ہیں جو روحِ قرآن ہیں اور اسی کو امّ الکتاب کتاب حکیم اور کتاب مکنون کے الفاظ سے بھی تعبیر کیا گیا ہے۔
قرآن مجید کے تمام معارف و احکام کی باز گشت اور جائے اعتماد وہی ہیں وہ نہ الفاظ ہیں نہ معانی و مضامین ظاہر یہ کی قسم سے ہیں اسی لئے ان تک نہ افہام عامہ کی رسائی ہے اور نہ عقول بشریہ اُن تک پہنچ سکتے ہیں اسی بناپر فرماتا ہے:
اِنَّہُ لَقُرْاٰن کَرِیْم فِیْ کِتَابٍ مَّکْنُوْنٍ لا یَمَسُّہ اِلَّا الْمُطَھَّرُوْنَ اس کو مس نہ کر سکنے کا مطلب ہے کہ اس کے حقائق واقعیہ اور معارفِ باطنیہ جو الفاظ مبیّنہ اور مضامین متعیّنہ کا مآل و مرجع ہیں ان تک سوائے نفسوسِ قدسیہ اور ذواتِ مطہرّہ کے کسی کی رسائی نہیں اور آیة تطہیر اِنَّمَا یرُیْدُ اللّٰہُ سے ان ذواتِ مقدسہ کی تعین بھی فرما دی جو پاک اور مطہرّ ہیں کہ وہ اہل بیت عصمت اور خانوادہنبوت ہیں پس یہاں ہمیں دو عصر معلوم ہو گئے:
(۱)   آیاتِ الٰہیہ کی تاویل (مضامین قرآنیہ کے حقیقی مصداقات) کو کوئی نہیں جان سکتا مگر اللہ اور راسخون فی العلم
(۲)   کتابِ مکنون کو کوئی نہیں مس کرسکتا مگر وہ جو مطہرّ ہیں
تو معلوم ہوا کہ:
٭      تاویل قرآن کا علم اورمس ایک چیز ہے اورراسخین فی العلم اورمطہرّین ایک ہی خانوادہ ہیں
٭      راسخین فی العلم اورمطہرّین تاویل کا علم رکھتے ہیں
٭      تاویل کا تعلق صرف آیات متشابہ سے نہیں بلکہ آیات محکمات سے بھی ہے
اور اسی کو تو قرآن مجید کا باطن کہا جاتا ہے جس کا تعلق تمام آیات قرآنیہ کے ساتھ ہے اوراس کی ظاہری مثال یوں سمجھئے کہ جس طرح انسان نکاح کرتا ہے تو اس کا ظاہری مفہوم ہے تکمیل خواہشات جنسیہ لیکن اس کا اتباع سنت ِ رسول ہے اوراس کے باطن میں انسان کی تنظیم اوربے راہ روی سے اجتناب کرتے ہوئے جنبہ انسانیت کی تکمیل ہے، نیز پھر اسی کے باطن میں انسان کی تمدنی اوراجتماعی زندگی کے فطری تقاضوں کے پورا ہونے کا راز بھی پنہاں ہے، پھر اس کے اندر بقائے نوع انسانی کاراز بھی مضمر ہے اوراس کا آخری مقصد ہے نعمات جنت کی تحصیل جو کمالِ روح کی آخری منزل ہے اس نکاح کاظاہری اورسرسری معنی ہے خواہشاتِ جنسیہ کا دفاع لیکن اس کا ایک باطن ہے اورباطن درباطن یہاں تک کہ تدریجا ً کئی بواطن ہیں اوراسی طرح آخری باطن تک سلسلہ پہنچ جاتاہے، پس معمولی دماغ کا آدمی صرف ظاہری معنی سمجھتاہے اوربلند پایہ لوگ اذہان وافکارکے مدارج کے لحاظ سے اس کے مراتب باطنیہ تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔
اسی طرح قرآن مجید کا ایک ہے ظاہری ترجمہ اوراُن مطالب ومضامین اوراحکام وفرامین کا سمجھنا جن تک عقول انسانیہ اورافکار بشریہ اپنی اپنی خدا داد استعدادات سے رسائی حاصل کرلیتے ہیں اور ایک ہے اس کا باطن جو اُن معانی اور مطالب ظاہریہ کے لئے بحیثیت روح کے ہے جس کو عام انسانی عقول و افکار مس تک نہیں کر سکتے کیونکہ وہ ان کی دسترس سے بلند و بالا ہے اور اس کو صرف وہی پا سکتے ہیں جن کے اذہان و قلوب ہر قسم کے ارجاسِ باطنیہ سے پاک ومطہرّ ہوں جیسے ارشاد ہے لا یَمَسُّہاِلَّا الْمُطَھَّرُوْنَ
پس قرآن مجید کا ظاہری ترجمہ اور اپنے ذہنی استعدادات کے ماتحت اس کے مطالب کا استنتاج اور اس کے احکام و فرامین تک دسترسی حاصل کرنے کےلئے غور و خوض اور متعدد معانی میں سے با عتبار قرائن کے بعض پر ترجیح و غیرہ یہ سب کچھ تفسیر قرآن ہے جس پر ہر شخص موفق ہو سکتا ہے اور متشابہ آیات کو محکمات کی روشنی میں حل کرنا بھی اسی کے تحت ہے اور محکمات کو امّ الکتاب کہنے کا مطلب بھی یہی ہے کہ آیاتِ متشابہ کا حل انہی کی روشنی میں ہوتا ہے لیکن وہ امورِ خارجیہ اور مصالح واقعیہ جو قرآن کے معانی اور مفاہیم اور مطالب و مضامین ظاہریہ کا مرجع و مآل اور مصداقِ حقیقی ہیں وہ باطن قرآن اور روح ہیں انہیںتاویل سے تعیبر کیا گیا ہے جس کا علم سوائے خدا اور راسخین فی العلم کے اور کسی کو حاصل نہیں ہے پس اس بیان سے تفسیر اور تاویل کے درمیان فرق کی وضاحت ہو گئی اور تفسیر و تاویل کے درمیان مفسرین نے کئی فرق بتائے ہیں:
(۱)   تفسیر اس لفظ کا معنی بیان کرنا جس میں متعدد احتمالات نہ ہوں اور تاویل سے مراد ہے متعدد احتمالا ت میں سے ایک کو ترجیح دینا
(۲)   تفسیر معنی کی دلیل کو بیان کرنا اور تاویل معنی کی حقیقت کو ظاہر کرنا
(۳)   تفسیر معنی ظاہری کو بیان کرنا اور تاویل معنی مشکل کو واضح کر نا
(۴)   تفسیر کا تعلق روایت اور تاویل کا تعلق درایت سے ہے
لیکن قرآن کی وہ آیات جن میں تاویل کا استعمال ہوا ہے ان کی روشنی میں ان اقوال کی کوئی وقعت و اہمیت نہیں رہتی پس تحقیق وہی ہے جو ہم بیان کر چکے ہیں اور آئمہ طاہرین علیہم السلام سے بعض آیات کی جو تاویلیں منقول ہیں وہ ہمارے بیان کی تصدیق و تائید کےلئے کافی ہیں اور اسی تفسیر کے مقدمہ میں بھی تفسیروتاویل پر روشنی ڈالی جاچکی ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں