سورہ الانعام ، رکوع نمبر 7، نیکی کا بدلہ دس گنا
مَن جَاء بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا وَمَن جَاء بِالسَّيِّئَةِ فَلاَ يُجْزَى إِلاَّ مِثْلَهَا وَهُمْ لاَ يُظْلَمُونَ (160) قُلْ إِنَّنِي هَدَانِي رَبِّي إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ دِينًا قِيَمًا مِّلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ (161) قُلْ إِنَّ صَلاَتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (162) لاَ شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَاْ أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ (163) قُلْ أَغَيْرَ اللّهِ أَبْغِي رَبًّا وَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ وَلاَ تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ إِلاَّ عَلَيْهَا وَلاَ تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى ثُمَّ إِلَى رَبِّكُم مَّرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ (164) وَهُوَ الَّذِي جَعَلَكُمْ خَلاَئِفَ الأَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِّيَبْلُوَكُمْ فِي مَا آتَاكُمْ إِنَّ رَبَّكَ سَرِيعُ الْعِقَابِ وَإِنَّهُ لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ (165)
جو نیکی کرے تو اس کے لئے اس کا دس گنا ہے اور جو کرے برائی تو نہ بدلہ دیا جائے گا مگر اتنا ہی اور نہ ان پر ظلم ہو گا (160) کہہ دیجئیے تحقیق مجھے اپنے رب نے ہدایت کی صراط مستقیم کی کہ وہ دین صحیح ملت ہے ابراہیمؑ کی جو حنیف تھے اور نہ تھے مشرکوں میں سے (161) کہہ دیجئے تحقیق میری نماز اور قربانی اور زندگی اور موت اللہ کے لئے ہے جو جہانوں کا رب ہے (162) اس کا کوئی شریک نہیں اور اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں پہلا اسلام لانے والا ہوں (163) کہہ دیجئیے کیا غیر خدا کو بناؤں رب حالانکہ وہ ہر شے کا رب ہے اور نہں کماتا کوئی نفس مگر اپنے لئے اور نہیں اٹھاتا کوئی بوجھ اٹھانے والا بوجھ دوسرے کا پھر تمہارے رب کی طرف تمہاری بازگشت ہے تو تمہیں خبر دے گا جس میں تم اختلاف کرتے تھے (164) اور اسی نے کیا تم کو نائب زمین میں اور بلند کیا بعض کو اوپر بعض کے درجوں میں تا کہ تم کو آزمائے اس میں جو تم کو دیا تحقیق تیرا رب جلد سزا دینے والا ہے اور تحقیق وہ بخشنے والا مہربان ہے (165)
نیکی کابدلہ دس گنا
تفسیر صافی میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ جب شیطان کو خد انے قوت عطا کی تو حضرت آدمؑ نے عرض کی اے پرودگار تو نے اس کو میری اولاد پر مسلط کردیا ہے اوران کی رگ وپے میں اس کو داخل کردیا ہے تو اس کے مقابلہ میں میری اولاد کیا کرے گی تو ارشاد ہوا کہ تیری اولاد کی برائی ایک کی ایک ہی لکھی جائے گی اور نیکی ایک کی دس شمار ہوگی حضرت ادم نے مزید خواہش کی تو ارشاد ہوا کہ سانس کے حلقوم کو پہنچنے تک ان کیلئے تو بہ کادروازہ کھلا ہے پھر حضرت ادم نے مزید خواہش کی تو ارشاد ہوا کہ بخشوں گا اور مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں حضرت ادم نےعرض کی کہ بس کافی ہے علامہ فیض ارشاد فرماتےہیںکہ نیکی کے دس گنا ہونے کی وجہ یہ ہےکہ نفس انسانی کاتعلق عالم علوی سے ہے اور نیکی کا تعلق بھی عالم علوی سے ہے پس نفس انسانی نیکی کرے تو دس گنا پڑھ جاتی ہے لیکن چونکہ برائی عالم سفلی سے تعلق رکھتی ہے لہذا وہ ایک اہی رہتی ہے جیسے انسان اگر ایک پتھر ایک اندازقوت سے اوپر کیطرف پھینکے تو مثلا وہ ایک گزاوپر جاتا ہے لیکن اگر اس پھر کو اسیمقدار قوت سے نیچے کی طرف پھینکے تو دس گزیا اس سے بھی زیادہ حرکت کرے گا کیونکہ پہلی حرکت خلاف طبع تھی اور دوسری موافق طبع ہے
امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے اگر کوئی شخص سنت روزہ رکھے اور پھر اپنے کسی برادر ایمانی کو ملنے کےلئے جائے پس وہ اگر اس کو کھانے کی دعوت دے تو اس روزہ دار کو افطار کرناچاہیے تاکہ مومن خوش ہو اور اس عمل سے اس اس کو اس دن کے روزے کا ثوب ملے گا زرارہ نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے سوال کی اکہ خداجو فرماتا ہے جو نیکی کرے گا اس کو اس کادس گنا ثواب ملے گا کیا یہ ان لوگوں کےلئے بھی ہے جوولاء ال محمد نہیں رکھتے تو اپ نے فرمایا یہ صرف مومنوں کےلئے ہے زرارہ کہتاہے میں نے پوچھا کہ حضور اگر ایک شخص روزہ دار ہو نمازی ہو حرام سے پرہیز کرتا ہوا اور صفت تقووی سے متصف ہو لیکن نہ دلائے اہل بیت رکھتا اور نہ ان سے دشمنی رکھتا ہو اس کا کیا حشر ہوگا تو اپ نے فرمای اان کو خدا اپنی حمت سے جنت میں داخل کرے گا
امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ امام زین العابدین علیہ السلام فرمایا کرتے تھے اس شخص کےلئے ویل ہے جس کااکائیاں اس کی دہائیوں پر غالب اجائیں تو کسی نے پوچھا حضور یہ کیسے تو اپ نے فرمایا ارشاد خدا وندی ہے کہ نیکی ایک کے بدلہ میں دس ہوگی اور برائی ایک کی ایک ہی رہے گی پس جو نیکی کرے گا تو اس نے دس کمالیں اور جو برائیکرے گا اس کی صرف ایک لکھی جائے گی پس خدا پناہ دے ایسے شخص سے جو دن میں دس برائیاں کرے اور ایک نیکی بھی اس سے نہ ہوسکے تو اس صورت میں اس کی برائیں نیکیوں پر غالب اجائیں گی
حضرت امیرالمومنین علیہ السلام سے مروی ہے کہ جمعہ کے دن لوگاتین قسم پر ہوتے ہیں وہ جو جمعہ میں امام سے پہلے پہنچے اور خاموشی اور سکون سے رہے پس ان کاجمعہ میں انااس جمعہ سے اگلے جمعہ تک کے گناہوں کا کفارہ ہے اور تین دنوں کاثواب زاہد بھی ہے وہ جو جمعہ میں ھاضر ہوتے ہیں اور گپ شپ میں وقت گذارتے ہیں پس ایسے لوگوں کا حق صرف گپ شپ ہی ہے وہ لوگ جو بوقت خطبہ پہنچے اور نماز میں مشغول ہوگئے پس یہ دعامانگیں تو خدااگر چاہے تو منظور کرے اگر چاہے تو رد کردے
معصوم سے دریافت کیا گیا کہ سال بھر کے روزے رکھنے کا کیا طریقہ ہے تو فرمایا کہ ہر ماہ میں تین روزے پہلے عشرہکی خمیس دوسرے عشرہ کی بدھ اور تیسرے عشرہ کی خمیس خدافرماتے ہے نیکی ایک ہو تو اس کا بدلہ دس ہے لہذا اگر کوئی شخص ہر ماہ میں تین روزے رکھے تو وہ صائم الدھر ہوگا۔ (برہان)
ایک روایت میں ہے کہ ایت مجیدہ میں حسنتہ سے مراد ولاء ال محمد اور سئیہ سے مراد عداوتال محمد ہے
ملۃ ابراھیم حنیفا: امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہ حنیا مسلما کا معنی ہے وہ خالص مخلص جس میں بتوں کی عبادت کا ذرہ پھر شئبہ نہ ہوامام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا مونچوں کا کاٹنا ناخن ترسوانا اور ختنہ سب حنیفیت میں سے ہیں نیز اپ نے فرمایا کہ اس امت میں سوائے ہمارے اور ہمارے شیعوں کے دین ابراہیم پر کوئی ثابت قدم نہیں ہے اور جناب رسالتماب سے مروی ہے کہ خدا نے حضرت خلیل کو حنیفیت کے ساتھ بھیجا اور ان کو انچیزوں کا حکم دیا مونچھیں کٹوانا ناخن لیا بغلو ں کے بال دور کرنا ناف کے نیچےکے بال مونڈنا اور ختنہ کرنا
ولاتزروازرۃ : تفسیر صافی میں عیون الرضا سے منقول ہے امام رضا علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام سے مرویہے جب حضرت قائم ال محمد علیہ السلام ظہور فرمائیں گے تو قاتلین حسین علیہ اسلام کی اولاد کو قتل کریں گے کیا یہ حدیث درست ہے تو امام رضاعلیہ السلام نے فرمایا ہاں بے شک درست ہے تو پوچھا گیا خدا تو فرماتاہےکہ کابھار دوسرا نفس نہی اٹھائے گا پھر اس کا کیا مطلب خدا کی سب باتیں صحیح ہیں لیکن امام حسین علیہ السلام کے قاتلین کی اولاد چونکہ اپنے باپ دادا کے فعل پر راضی ہیں اور ان پر نازاں ہیں اور جوبھی کسی کے فعل پر راضی ہو وہ اس جیدا ہو اکرتاہے اگر کوئی شخص مشرق میں قتلکرے اور مغرب کا ادمی اس کے قتل پرراضی ہو تو اللہکے نزدیک وہ بھی قاتل کا شریک قرار دیا جائے گا پس حضرت قائم ال محمد جب ظہور فرمائیں گے تو قاتلین حسین علیہ السلام کی اولاد سے انکے باپ دادا کے فعل کا بدلہ لیں گے کیونکہ یہلوگ ان کے فعل پر راضی ہیں
اج ااربیعالاخر83ھ مطابق یکم ستمبر1963ء بروز اتوار بوقت پونے چھ بجے شام پانچویں جلد کی تفسیر سے فارغ ہوا اور خدائے متعال سے دست بدعاہوں کہ مجھے اس کار خیر میں اتمام کی توفیق مرحمت فرمائے اور تمام حائل شدہ رکاوٹوں کو دور کرے اور لوگوں کو زیادہ سے زیادہ علوم قرانیہ کی شوق عطافرمائے تاکہ اس کتاب سے استفادہ کریں اور آج28رمضان المبارک1399ھ مطابق 22 اگست1979ء بروز بدھ بوقت5 بجے شام پانچویں جلد کا دوسرا ایڈیشن کتابت ہوگیا (کاتب محمد شفیق سرگودھا
(وھو حسبی ونعم الوکیل)
چھٹی جلد سور اعراف سے شروع ہوگی! والحمد للہ ربا العلمین۔