یقین
روحانی امراض میں
سےشک بہت برا مرض ہے کیونکہ جس شخص کو
اللہ پر یقین ہوجائے وہ اللہ پرتوکل بھی کرسکتاہے اور اس کی قضاء پر راضی بھی
ہوسکتاہے اور اسک مطا سے پر امید بھی
ہوسکتاہے لیکن جس کو شک ہوکہ فلاں
کام کےہاتھ س نکل جانے کے بعد نہ
معلوم خدادے گا یانہ دے گا تو وہراضی وصابر کیسے ہوگا سی طرح اللہ کے رحم
وکرم پر شک ہو تو اس پر توکل کیسے کرے گا
اور اللہ کی عطااور اس کی جانب سے پہنچنے والے رزق میں اگر شک ہوتو وہ صبر وقناعت
کیسے کرے گا بلکہ حرص ولالچ اورجزع وفزع
ہی اس کا مقدر ہوگا اور اسی شک ہی کی
بدولت چوری ڈاکے اور دیگر بھیانک قسم کے
جرائم انسان سے سرزد ہوتے ہیں
حضرت رسالتمآب نے جبرئیل سےدریافت کیاکہ یقین کیاچیز ہے
؟جبرئیل نے جواب دیاکہ مومن کا یقین یہ ہے کہ عمل اس طرح بجالائے جیساکہ وہ خداکو
دیکھ رہا ہو کیونکہ اگر وہ خداکو نہیں دیکھ رہا تو خدا تو اسے دیکھ رہاہے پس
مومنکو یقین ہونا چائیے کہ مجھے جو بھی تکلیف پہنچی ہے وہ مجھ سے چوکنے والی نہ تھی اور یہ
چیز توکل کی شاخ اور زہد کا زینہ ہے
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے اس آیت مجیدہ کی تفسیر دریافت کی گئی
واماالجدار الایہ کہف پارہ16 آپ نے فرمایا
اسکے نیچے جو خزانہ تھا وہ سونے اور چاندی
کا ذخیرہ نہیں تھا بلکہ ایک تختی پر علم وحکمت کے چارکلمات درج تھے
1 لاالہ
الاانا ترجمہ میرے سواکوئی بھی الہ نہیں ہے
2 من ایقن بالموت لم یضحک
سنتہ جسکو موت کا یقین ہواس کےدانت
ہنستے نہیں
3 من ایقن بالحساب لم یفرح تلبہ جس کو حساب کا یقین ہو اس کادل کبھی خوش نہیں ہوتا
4 من ایقن بالقدر لمیخش الااللہ جس کو قدر کا یقین ہو وہ اللہ کےسوا کسی سے
نہیں ڈرتا
اور آپ نے فرمایا کہ ہرشی
کی حدود مقرر ہیں راوی نےعرض کی حضؐور
یقین کی کیاحد ہے
آپنے فرمایاکہ اللہ
کےسواکسی سے خوف نہ کھان ااور فرمایا صحت
یقین کی نشانی ہے کہ اللہ کو ناراض کرکے لوگوں کی رضامندی کی کوشش نہکرے اور جو چیز اس کو اللہ نے نہیں
دی اس کے بارے میں لوگوں کوملامت نہ کرے کیونکہ رزق ایک ایسی شئی ہے جس کو کسی کا لالچ کھینچ نہیں سکتا اورکسی کی ناپسندی ٹال نہیں سکتی بلکہ
اگرکوئی شخص رزق سے بھاگنا چاہے جس طرح
موت سے بھاگاکرتاہے تب بھی رزق اس کو پالے گا جس طرح کہ موت اسے نہ چھوڑے گی
پھر آپ نے فرمایاکہ اللہ نے اپنے عدل وانصاف سے یہ فیصلہ کیاہے کہ آرام وراحت یقین میں ہے
اور غم وحزن شک میں ہے نیز آپنے فرمایاکہ یقین کےہوتے ہوئے تھوڑا ساعمل بھی غیر
یقینی عمل کثیر سے بہتر ہے
فقہ رضوی سے منقول ہے کہ یقین جیسی کوئی دولتمندی نہیں اور عبادت
جیساکوئ مشغلہ نہیں