التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

بچے کو دودھ پلانے کا ثواب

بچے کو دودھ پلانے کے ثواب کے متعلق جناب رسالتمابؐ سے مروی ہے کہ عورت کا بچے کو دودھ پلانا ایسا ہے جیسا کہ راہ خدا میں غلام آزاد کیا جائے ۔۔۔

مسئلہ: بچے کو دودھ پلانے کے ثواب کے متعلق جناب رسالتمابؐ سے مروی ہے کہ عورت کا بچے کو دودھ پلانا ایسا ہے جیسا کہ راہ خدا میں غلام آزاد کیا جائے اور جب بچے کا دودھ چھڑائے تو خدا کی طرف سے ایک منادی ندا کرتا ہے کہ اے عورت تیرے گذشتہ گناہ معاف ہو گئے۔
مسئلہ: بچے کو دودھ پلانے کے لئے عاقلہ مومنہ خوشرو، خوش اخلاق اور پاکدامن عورت کا اتنخاب مستحب ہے کیونکہ دودھ کا طبیعت اخلاق اور شکل پر اثر ہوا کرتا ہے اورآئمہ معصومین علیہم السلام سے اسی مضمون کی متعدد احادیث وارد ھیں ۔
مسئلہ: رضاع کے زمانہ میں بچے کی تربیت کا زیادہ حق ماں کو حاصل ہے اور دودھ چھڑانے کے بعد بنا بر فتوٰی مشہور کے سات برس تک کی تربیت میں ماں کا حق مقدم ہے اور لڑکی کا سات برس کے بعد اور لڑکے کا دودھ چھڑانے کے بعد تا بلوغ باپ کا تربیت کا حق مقدم ہے اور ماں باپ کی عدم موجودگی میں دادا اور اس کی عدم موجودگی میں بچے کا قریب ترین رشتہ دار حق تربیت میں دوسروں سے مقدم ہے ۔
مسئلہ: ماں پر واجب ہے کہ ولادت کے بعد پہلا دودھ بچے کو ضرور پلائے مفت پلائے بلکہ اگر چاہے تو مرد سے اس کی اجرت وصول کر سکتی ہے لیکن اس دودھ کا پلانا اس پر ضروری ہے اور اس کے بعد دو سال تک بچے کو دودھ پلانا ماں پر مستحب ہے اگرچہ اس کی وجرت وصول کر سکتی ہے ۔
مسئلہ: قرآن مجید میں والوالدٰت یرضعن الخ میں فصل مضارع کا صیغہ ہے لیکن یہاں امر کے معنی میں ہے یعنی دودھ پلائیں اور اس مقام پر امر استحباب کے لئے ہے کیونکہ ماں پر بچے کا دودھ پلانا واجب نہیں ہے یہاں مقصد یہ ہے کہ بچے کو دودھ پلانے کے لئے پہلے ماں کا حق ہے اگر وہ نہ پلانا چاہے یا دوسری پلانے والیوں کی بہ نسبت اجرت زیادہ طلب کرے تو پھر باپ کیس اور دایہ کی طرف رجوع کر سکتا ہے اسی طرح اگر ماں دودھ کی اجرت طلب کرے اور کوئی دایہ مفت پلانے کے لئے حاضر ہو جائے تب بھی باپ دایہ کی طرف رجوع کر سکتا ہے ۔
مسئلہ: قرآن مجید کے فرمان حولین کاملین سے دودھ پلانے کی مدت دو سال کامل بتائی گئی ہے اس سے معلوم ہوا کہ کم از کم حمل کی مدت چھ ماہ ہے کیونکہ ایک مقام پر ارشاد فرماتا ہے کہ حمل اور دودھ پلانے کی مجموعی مدت تیس ماہ ہے پس جب صرف دودھ پلانے کی کامل مدت دو سال ہے توحمل کی کم از کم دت چھ ماہ ہو گی ۔
اسی بنا پر یہاں اختلاف ہے کہ آیا ہر بچے کو دودھ پلانے کی مدت دو سال ہے یا دو سال کا عرصہ اس بچے کے لئے ہے جو چھ ماۃ کا پیدا ہو تا کہ حمل اور رضاع مل کر تیس ماہ پورے ہو جائیں ابن عباس سے یہی منقول ہے کہ یہ مدت صرف اسی بچہ کے لئے ہے جو چھ ماہ کا پیدا ہو اگر بچہ سات ماہ کا پیدا ہو تو اس کی دودھ کی مدت تیس ماہ ہو گی اور اگر بچہ نو ماہ کا پیدا ہو تو اس کی دودھ کی مدت اکیس ماہ ہو گی ۔
بہر کیف دودھ پلانے  کی مدت اس قدر ہو گی کہ حمل کی مدت کے ساتھ ملک کر تیس ماہ پورے ہوں اسی بناء پر ہمارے علماء روایت فرماتے ہیں کہ بچے کو اکیس ماہ سے کم دودھ پلانا بچہ پر ظلم ہے (کیونکہ عام طور پر انتہائی مدت حمل نو ماہ ہی ہوا کرتی ہے لہذا کم از کم مدت رضا اکیس 21 ماہ ہونی چاہیے اور اس سے کم کرنا بچے کی حق تلفی ہو گی ) اور بعض کہتے ہیں کہ ہر بچے کی دودھ پلانے کی مدت دو سال ہے اور اس سے کمی یا بیشی نا جائز ہے لیکن لمن ارادان یتم الرضاعۃ کے ظاہری الفاظ بتلاتے ہیں کہ دو سال کا عرضہ رضاع کی آخری حد ہے پس جو شخص پورا کرنا چاہے بے شک کرلے لیکن جو نہ پورا کرنا چاہے تو اس پر اس مدت کا پورا کرنا لازم نہیں البتہ بچے کی مصلحت کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔
مسئلہ: چونکہ رضاع کی ھد اخیر دو سال ہے لہذا علمائے امامیہ کے نزدیک دو سال کے بعد رجاعت شرعی طور پر احکام رضاع پر اثر انداز نہ ہو گی لہذا رضاع کے لئے جو احکام حرمت نکاح کے متعلق ہیں وہ دو سال کے اندر ہونے والے رضاع کے لئے ہیں اور دو سال کے بعد کا رضاع حرمت نکاح کا موجب نہ ہوگا۔

ایک تبصرہ شائع کریں