التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

بچوں کی تربیت

بچے پر ماں باپ کی تربیت کا کافی اثر ہوتا ہے اور خصوصاً کی صورت و سیرت بچے کو بہت زیادہ متاثر کرتی ہیں اور صرف ماں کی گود کی تربیت ۔۔۔

بچے پر ماں باپ کی تربیت کا کافی اثر ہوتا ہے اور خصوصاً کی صورت و سیرت بچے کو بہت زیادہ متاثر کرتی ہیں اور صرف ماں کی گود کی تربیت ہی بچے پر موثر نہیں بلکہ شکم مادر میں بھی بچہ پر ماں کے اخلاق و کردار کا کافی اثر پڑتا ہے جس طرح اچھی غذا انرون شکم بچے کی جسمانیت پر اچھے اثرات ظاہر کرتی ہے اسی طرح غذا کی پاکیزگی اور اس کی حلیت بچے کی صلاحیتوں کے لئے سنگ بنیاد ہوتی ہے نیز ماں کی پاکیزگی نیک کرداری ، نیک چلنی اور اخلاق حمیدہ و عادات شریفہ سے آراستگی بچے کے نیک اطوار و خوش کردار ہونے کا پیش خیمہ بنتی ہے اور بعد از ولادت جب تک بچہ غذا کا خزینہ اپنی ماں کا سینہ رہتا ہے اور اس دوران میں ماں کی ظاہری و باطنی طہارت بچے کی طاہری و باطنی برتری کے لئے اساس و بنیاد ہوا کرتی ہے اور اس کے برعکس حمل اور رضاع کے زمانہ میں ماں کی غیر محتاط روش طہارت و نجاست میں لا پرواہی اور حلیت و حرمت غذا میں بے توجہی تکوینی اور وضعی طور پر بچے پر برے اثرات کی موجب بنتی ہے اگر اس دوران میں تربیت شستہ ہو گی تو نتیجۃً بچے کی شستگی طینت معرض ظہور میں آئے گی اور زمان رضاع کے بعد تربیت کا اگرچہ اولاد پر اثر ہوتا ہے لیکن اس کی حیثیت اکتسابی ہوا کرتی ہے وہ قطعاً بچے کی طینت و فطرت پر اثر انداز نہیں ہو سکتی۔

ایک تبصرہ شائع کریں