ایلاء کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی مدخولہ عورت سے ہمبستری نہ کرنے کی قسم کھائے اور اس سے اس کا مقصود صرف عورت کو ضرر تکلیف دینا ہو خواہ اس میں مدت مقرر نہ کرے یا مدت مقرر کرے لیکن چار ماہ سے زیادہ ہے۔
ایلاء میں شرط یہ ہے کہ قسم اللہ کے لفظ سے ہو یا اللہ کے
خاص صفات سے واقع ہو اور اگر کسی اور متبرک چیز مثلاً قرآن، یا انبیاء و اوصیائے
طاہرین علیہم السلام کے اسماء طاہرہ کی قسم کھائے گی تو اس پر ایلاء کا حکم جاری
نہ ہو گا۔
ایلاء کرنے والے میں یہ شرطیں بھی ضروری ہیں۔
1. عاقل ہو
2. بالغ ہو
3. صاحب اختیار ہو یعنی کسی اور نے ایسا
کرنے پر مجبور نہ کیا ہے ۔
4. ایلا کرتے وقت اس کا قصد بھی ہو اگر بھو
کر یا حالت غفلت میں ایسا کرے تو وہ ایلاء نہ ہو گا۔
مسئلہ: اگر ایلاء متحقق
ہو جائے تو عورت کو حاکم شرع کے پاس رپورٹ کرنے کا حق ہے پس حاکم شرع چار ماہ کے
بعد مرد کو دو چیزوں میں سے ایک کے اختیار کرنے کا حکم دے گا۔
1. یا تو عورت کی طرف رجوع کر کے ایلاء کا
(قسم کا) کفارہ ادا کرے ۔
2. یاعورت کو طلاق دے دے ۔
مسئلہ: اگر ایلاء کرنے والا ان دونوں میں سے کسی کو اختیار
نہ کرے تو حاکم شرع اس سے جبریہ ایسا کرانے کا مجاز ہے ۔
مسئلہ: ایلاء کا کفارہ دوسری قسم کے کفارہ کی طرح ہے یعنی
دس (10) مسکینوں کو کھانا کھلانا یا دس (10) مسکینوں کو لباس دینا یا غلام آزاد
کرنا اور اگر ان تینوں چیزوں سے عاجز ہوتو تین روزے رکھ دے۔
مسئلہ: اگر عورت سے ہمبستری ترک کرنے کی قسم عورت کے فائدہ
کے لئے کھائے مثلاً عورت حاملہ ہو یا بچہ دار ہو یا بیمار ہو پس ترک ہمبستری کی
قسم حمل کی حفاظت کے لئے یا دودھ کی درستی کے لئے یا عورت کو تکلیف سے بچانے کےلئے
کھائے تو یہ ایلاء نہ ہوگابلکہ اس کا حکم عام قسم کی طرح ہو گا یعنی اس کی خلاف
ورزی سے صرف اس قسم کا کفارہ دینا پڑے گا۔
x