جو عام مسلمانوں میں رائج ہے اس کا بھی قرآن مجید سے کوئی ربط نہیں کیونکہ اولاً تو بیک وقت تین طلاق کرنے سے طلاق بائن نہیں ہوتی بلکہ صرف ایک طلاق واقع ہوتی ہے لہذا حلالہ کی ضرورت ہی نہیں بلکہ مرد کو عدت کے اندر بحکم خدا رجوع کرنے کا حق حاصل ہے اور اگر بالفرض طلاق بائن بھی ہو تب بھی قرآن کی رو سے اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر دوسرا شوہر عورت کو اپنی مرضی سے طلاق دیدے تو پہلا مرد اس کو نکاح میں لے سکتا ہے لہذا دوسرے نکاح کرنے والے سے پہلے شرط کر لینا کہ عورت سے ہمبستری کر کے بعد میں اس کو طلاق کرنا ہو گا قرآنی فیصلہ کے خلاف ہے ۔
حلالہ کا طریقہ
جو عام مسلمانوں میں رائج ہے اس کا بھی قرآن مجید سے کوئی ربط نہیں کیونکہ اولاً تو بیک وقت تین طلاق کرنے سے طلاق بائن نہیں ہوتی بلکہ