التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

حمل گرانے کا خون بہا

حضرت امیر المومنین علیہ السلام سے منقول ہے کہ روح داخل ہونے سے پہلے حنین (بچے) کی دیت ایک سو دینار مقرر کی گئی ہے یعنی اس زمانہ میں ...
حضرت امیر المومنین علیہ السلام سے منقول ہے کہ روح داخل ہونے سے پہلے حنین (بچے) کی دیت ایک سو دینار مقرر کی گئی ہے یعنی اس زمانہ میں اگر کوئی شخص کسی عورت کا حمل ساقط کرے تو اس پر ایک سو دینار جنین (بچے ) کا خون بہا واجب الادا ہو گا اور منی کے قرار پکڑنے سے جنین بننے تک پانچ منزلیں ہیں ۔ پہلی منزل نطفے کی دوسری منزل علقے کی تیسری منزل میں مضغہ چھوتھی منزل میں ہڈیوں کی پیدائش اور پانچویں منزل میں ہڈیوں پر گوشت و پوست کا لباس پس پانچویں منزل کامل ہونے کے بعد وہ جنین کہلاتا ہے اور اس کے ساقط کرنے کی دیت (خون بہا) ایک سو دینار ہے اور سے پہلے کی ہر منزل کے لئے بیس دینار ہوں گے چنانچہ نطفے کے اسقاط کی دیت بیس دینار ہو گی علقے کے ساقط کرنے پر دیت اسی دینار اور گوشت پوست پہن لینے کے بعد ایک سو دینار دیت ہو گی اس کے بعد جب روح داخل ہو جائے تو اس کے ساقط کرنے کی دیت پورے انسان کا خون بہا یعنی ایک ہزار دینار ہو جائے گی جب کہ وہ مذکر ہو لیکن اگر مونث ہوتو اس کی دیت نصف یعنی پانچ سو دینار ہو گی۔
اگر حاملہ عورت قتل ہو جائے اور اس کے پیٹ میں بچہ کامل موجود ہو لیکن وہ ساقط نہ ہو پس اس کے مذکر یا مونث ہونے کا پتہ ہو اور نہ یہ معلوم ہو سکے کہ اس کی موت موت ماں کی موت کے بعد واقع ہوئی ہے یا ساتھ یا پہلے تو اس بچے کی دیت لڑکے اور لڑکی کی دیت کے مجموعے کا نصف ہو گی اور اس کے بعد عورت کی پوری دیت اس کے علاوہ واجب ہو گی اور جنیں کی چھٹی منزل ہو گی (پوری دیت)
تفسیر برہان میں تفسیر قمی سے منقول ہے سلیمان بن خالد کہتا ہے میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے دریافت کیا اے فرزند رسولؐ اگر کوئی شخص نطفے کا اسقاط کرے اور اس کے ساتھ ایک خون کا قطرہ بھی نکلے تو اس کی دیت کتنی ہو گی؟ آپ نے فرمایا خون کے ایک قطرہ کی دیت نطفے کی دیت کا دسواں حصہ ہو گی پس نطفے کے لئے بیس دینار اور قطرہ خون کے لئے دو دینارکل بائیس دینار دیت ہو گی ۔ راوی کہتا ہے ۔ میں نے پوچھا اگر خون کے دو قطرے ہوں تو آپ نے فرمایا چوبیس دینار دیت ہو گی میں کہا اگر تین قطرے ہوں تو آپ نے فرمایا چھبیس دینا دینے پڑیں گے میں پوچھا اگر چار قطرے ہوں تو آپ نے فرمایا اٹھائیس دینار دیت ہو گی پھر میں نے عرض کی اگر پانچ قطرے ہوں تو آپ نے فرمایا تیس دینار دیت ہو گی اس کے بعد یہی حساب ہو گا پھر جب علقہ ہو جائے تو چالیس دینار ہو جائے گی میں پوہچھا اگر نطفہ خون سے لتھڑا ہوا ہو تو آپ نے فرمایا اگر خون صاف ہے تو علقہ شمار ہو گا اور دیت چالیس دینار ہے ہو گی لیکن خون سیاہ قسم کا ہے تو وہ رحم کا خون ہو گا اور دیت نطفہ کی بیس دینار ہے گی سائل نے پوچھا اگر علقے میں ایک رگ یا گوشت کی شکل نظر آئے تو آپ نے فرمایا چالیس پردو بڑھ جائیں گے راوی نے پوچھا کہ چالیس کا دسواں تو چار دینار ہوتا ہے آپ نے فرمایا چالیس پر دو بڑھ جائیں گے راوی نے پوچھا کہ چالیس کا دسواں تو چار دینار ہوتا ہے آپ نے فرمایا چالیس کا دسواں نہیں بلکہ مضغے کا دسواں حصہ بڑھانا ہو گا اور وہ دو دینار ہیں اور ساٹھ تک یہی حساب رہے گا اور مضغے کی دیت ساٹھ دینار ہو گی پھر اگر ہڈی پیدا ہونے لگے تو چار دینار بڑھ جائیں گے یہاں تک کہ اسی دینار تک پہنچ جائے اور راوی نے پوچھا کہ جب ہڈیوں پر گوشت آنا شروع ہو جائے تو آپ نے فرمایا اسی طرح  حساب کرتے جاؤ یہاں تک کہ ایک سو تک پہنچ جائے راوی کہتا ہے میں نے عرض کہ اگر کوئی شخص حاملہ عورت کو مکا مارے اور بچہ ساقط ہو جائے اور یہ معلوم نہ ہو سکے کہ وہ زندہ تھا یا مردہ تو آپ نے فرمایا کہ جب حمل چار ماہ کا ہو جائے تو وہ زندہ ہی ہوتا ہے لہذا اس کی پوری دیت ادا کرنی پڑے گی۔

ایک تبصرہ شائع کریں