التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

The birth of Eve (Hawa) and the descendants of Adam | حضرت حوا کی پیدائش و سلسلہ اولاد آدمؑ

Discover the Birth of Eve (Hawwa) and Adam's Progeny in Islamic Tradition - A Look into Tafsir and Narrations.

The birth of Eve (Hawa) and the descendants of Adam | حضرت حوا کی پیدائش و سلسلہ اولاد آدمؑ 

The birth of Eve (Hawa) and the descendants of Adam | حضرت حوا کی پیدائش و سلسلہ اولاد آدمؑ


The birth of Eve, also known as Hawwa, is a well-known story among people. It is often believed that Eve was created from Adam's left rib. However, in Tafsir Kabir Razi, Abu Muslim Isfahani's research suggests that the words "خلق منہا زوجھا" (created from his kind) in the Quran refers to Eve being created from the same species as Adam, and not specifically from his rib. Imam Muhammad Baqir and Rasulullah's narrations also support this idea. Furthermore, the narrative that Adam had two sets of twins with different sisters in different parts of the day is not in accordance with Shia beliefs and has been deemed false. Instead, it is said that Adam had two sons, Habil (Abel) and Qabil (Cain). Qabil murdered Habil out of jealousy because his offering was not accepted by Allah. The correct belief is that Adam's progeny continued through legitimate marriages. The theory that human evolution started from monkeys is also incorrect and against Islamic teachings. The truth lies in the original explanation provided.

حضرت حوا کی پیدائش


عام لوگوں میں مشہور ہے کہ حضرت حوا کو حضرت آدم کی بائیں پسلی سے پیدا کیا گیا لیکن تفسیر کبیر رازی میں ابو مسلم اصفہانی سے اس کی تحقیق اس طرح منقول ہے کہ قرآن مجید کے الفاظ خلق منھا زوجھا میں منھا سے مراد من جنسھا ہے یعنی اللہ نے آدم کی جنس سے حوا کو پیدا کیا اور اس کی مزید تشریح حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے حضرت رسالتمآب ؐ سے نقل فرمائی آپ نے فرمایا کہ اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام کو مٹی پٹی سے پیدا کیا اور حضرت حوا کو اس کی بچی ہوئی مٹی سے خلق فرمایا ۔

روایات میں ہے کہ جب فرشتے آدم علیہ السلام کا سجدہ کر چکے تو خدا نے آدم ؑ پر نیند کو غالب کیا اور اسی دوران میں حضرت حوا کو پیدا کیا جب حضرت آدمؑ بیدار ہوئے تو حو کو اپنے پاس بیٹھے دیکھا پس پوچھا تو کون ہے؟ حوا نے جواب دیا میں اللہ کی مخلوق ہوں اس کے بعد اللہ نے ان دونوں کے درمیان رشتہ زوجیت قائم کر دیا۔

سلسلہ اولاد آدمؑ


عام لوگوں میں مشہور ہے کہ حضرت آدمؑ کے حوا کے شکم سے دو بچے نر و مادہ کے پہلے حصے میں پیدا ہوتے تھے اور پھر دو بچے نر و مادہ دن کے آخری حصے میں جنم لیتے تھے ۔ پس پہلے پہر کے بہن بھائی کو دوسرے پہر کے بہن بھائی سے متبادل رشتہ ہو جاتا تھا اور اس طریقہ سے حضرت آدم ؑ کی نسل بڑھتی گئی لیکن یہ بات شیعہ اصولوں کے خلاف ہے اور آل محمدؐ علیہم السلام نے اس قسم کی روایات کو خلاف واقع اور سفید جھوٹ قرار دیا ہے ۔

روایات اہل بیت میں ہے کہ حضرت آدمؑ کے دو لڑکے پیدا ہوئے ہابیل اور قابیل۔ جوان ہونے کے بعد قابیل نے ہابیل کو قتل کر دیا اور وجہ قتل یہ تھی کہ ہابیل و قابیل نے قربانیاں دیں ۔ ہابیل نے پورے اخلاص سے قربانی دی تھی جو مقبول ہوئی اور قابیل نے چونکہ خلوص قلب سے نہیں دی تھی لہذا وہ مسترد ہو گئی پس ازراہ حسد قابیل نے ہابیل کو قتل کر دیا جو لوگ بہن بھائیوں کے رشتہ کے قائل ہیں وہ کہتے ہیں وجہ قتل یہ بات تھی کہ قابیل کی جوڑواں بہن خوبصورت تھی جس کا رشتہ ہابیل سے ہوا اور ہابیل کی جوڑواں بہن بد صورت تھی جس کا رشتہ قابیل سے ہوا پس قابیل نے حسد کر کے ہابیل کو قتل کر دیا اور شیعہ عقیدہ کی رو سے یہ روایت بالکل غلط ہے اور پہلی روایت درست ہے اور قرآن مجید بھی اس کی تائید کرتا ہے ۔

ہابیل کے غم میں حضرت آدم ؑ کافی مدت تک روتے رہے پھر ایک لمبے عرصے کے بعد جب حضرت آدمؑ کی جناب حوا سے مقاربت ہوئی تو حضرت شیث پیدا ہوئے اور ان کا نام ہبۃ اللہ رکھا گیا اور پھر دوسرا فرزند یافث پیدا ہوا جب دونو جوان ہوئے تو خداوند کریم نے بروز جمعرت بوقت عصر ایک برکہ یا نزلہ نامی حور بھیجی جس کا حضرت شیث سے نکاح ہوا اور دوسرے روز بوقت عصر ایک دوسری حور آئی جس کا نام منزلہ تھا اور اس کا یافث سے عقد ہوا پس اللہ نے شیث کو لڑکا دیا اور یافث کو لڑکی دی اور نسل آگے بڑھی۔

دوسری روایت میں ہے کہ شیث کی شادی حور سے ہوئی اور اس سے چار لڑکے پیدا ہوئے اور دوسرے کی شادی قوم جن کی لڑکی سے ہوئی اور اس سے چار لڑکیاں پیدا ہوئیں اور ان کے باہمی نکاح سے نسل آدمؑ آگے بڑھی۔

یہ کہنا کہ زمین پر انسانی پیدائش ایک اتفاقی امر ہے بالکل غلط ہے ۔

اسی طرح یہ کہنا کہ انسان کی ابتداء بندر سے ہوئی کہ پہلے بندر تھے پھر رفتار زمانہ سے ترقی کر کے انسان بن گئے اور یہ ایک دشمن اسلام ڈارون نامی شخص کا نظریہ ہے یہ بھی بالکل ، باطل اور بکواس ہے ۔

جس طرح یہ دونوں قول غلط اور بے بنیاد ہیں اسی طرح تیسرا قول کہ آدمؑ کی اولاد بہنوں اور بھائیوں کے باہمی نکاح سے نسل آدم نے ترقی کی باطل اور غلط ہے ۔ صحیح قول وہی ہے جو ہم نے پہلے ذکر کیا ہے ۔

ایک تبصرہ شائع کریں