وہ نچوڑیا جوہر جو کسی دوسرے جسم سے حاصل کیا جائے اس کو
سلالہ کہا جاتا ہے اور اسی بناء پر بیٹے کو سلالہ یا سلیلہ بھی کہتے ہیں اور انسان
کی پیدائش ایک جوہر سے ہے جو مٹی سے حاصل کیا گیا ہے یہ جو ہر یعنی مادہ منویہ
بصورت نطفہ ایک وقت مقرر تک مناسب قرار گاہ یعنی عورت کے رحم میں رہتا ہے پھر اس
کے بعد ایک وقت تک وہ نطفہ خوب بستہ کی صورت میں رہتا ہے پھر ایک مقررہ میعاد تک
وہ گوشت کے لوتھڑے کی شکل اختیار کر لیتا ہے پس قدرت کی صنعت کاری سے اس میں ہڈیاں
بنتی ہیں اور ان کو گوشت کا لباس پہنایا جاتا ہے اور اوپر چمڑے کا پردہ دے کر بحکم
پروردگار اس میں روح انسان کو داخل کیا جاتا ہے اور وہ ایک نئی مخلوق کا روپ دھار
لیتا ہے ۔
تفسیر برہان میں کافی سے متعدد روایات منقول ہیں کہ امام
محمد باقر علیہ السلام سے فرمایا کہ رحم میں چالیس دن تک نطفہ رہتا ہے پھر چالیس
دن علقہ یعنی بستہ پھر چالیس دن مضغہ یعنی گوشت کا لوتھڑا رہتا ہے پس اس کے بعد نر
یا مادہ بنتا ہے اسی لئے آپ نے فرمایا کہ لڑکے کے لئے دعا چار ماہ تک مانگی جائے
کیونکہ چار ماہ یعنی ایک سو بیس دن پورے ہو جانے کے بعد وہ لڑکا یا لڑکی بن جاتا
ہے اور اس میں نفح روح ہو جاتا ہے۔