التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

اسلام میں عورت کا مقام

ہمیشہ سے متمدن یا غیر متمدن اقوام میں عورت کی حیثیت جداگانہ رہی ہے لیکن یہ بات شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ مجموعی طور پر عورت کو انسانی حقوق سے محروم ۔۔۔

اسلام میں عورت کا مقام

ہمیشہ سے متمدن یا غیر متمدن اقوام میں عورت کی حیثیت جداگانہ رہی ہے لیکن یہ بات شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ مجموعی طور پر عورت کو انسانی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے بعض ملکوں میں عورت کی حیثیت ایک پالتو حیوان کی سی تھی اور مرد کو اس پر مکمل اختیار حاصل تھا خواہ اسے بیچ دے یا عاریۃ کچھ دنوں کےلئے کسی کو دے دے (بلکہ بعض علاقوں میں آج تک عورتوں کی خرید و فروخت کا سلسلہ معیوب نہیں بلکہ مروج ہے) ایک وقت تھا کہ کھانے پینے اور کپڑے پہننے کے لئے بلکہ جملہ گھریلو زندگی کی جزئیات میں عورت سے گھٹیا سلوک کیا جاتا تھا بایں ہمہ تمام گھریلو کام کاج کی ذمہ داری عورت کے سر پر رہتی تھی بلکہ بعض مقامات پر حسب ضرورت عورت کو ذبح کر کے کھانا بھی معیوب نہ تھا بلکہ مرسوم تھا۔

ہمارے ملک کی پرانی تاریخ میں جو قومیں اس میں ملک کی سر زمین میں آباد تھیں ایک عورت کے لئے کئی کئی شوہر رکھنے کا رواج بھی تھا بعض ملکوں میں شوہر کی موت عورت کےلئے پیغام اجل ہوا کرتی تھی یا تو اسے مرد کے ساتھ نذر آتش کر دیا جاتا یا دفن کر دیا جاتا تھا یا پھر انتہائی کس مپرسی اور بد حالی کی زندگی گزارنے پر اسے مجبور کیا جاتا تھا عورت کو دستر خوان پر کھانے میں شریک کرنا مرد اپنی توہین سمجھتے تھے۔ہندؤں میں ستی کی رسم تھی جس کو انگریزوں نے زبر دستی بند کیا ۔

عربوں میں لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے کا رواج عام تھا ۔ لڑکی کی پیدائش پر ان کو شرم سے سر جھک جاتا اور منہ سیاہ ہوجاتا تھا البتہ لڑکوں کو پیدائش پر بہت خوش ہوتے تھے اور ان کی کثرت پر ناز کرتے تھے خواہ حلال طریقے سے ہوں یا حرام طریقے سے بعض اوقات ایسا بھی ہوا تھا کہ ایک لڑکے کے متعدد و دعویدار ہوتے تھے اور قرعہ اندازی سے فیصلہ ہوتا اور جس کے حق میں فیصلہ ہوتا تھا اس کے گھر خوشی ہوتی اور اس کو تہنیت و مبارکباد کے پیغامات بھیجے جاتے تھے ۔

لڑکیوں کو زندہ در گور کرنے کی ابتداء بنی تمیم نے کی تھی کیونکہ بادشاہ عرب نعمان بن منذر سے ان کی لڑائی ہوئی تو بادشاہ نے فتح حاصل کرنے کے بعد ان کی لڑکیوں کو اسیر کر کے کنیزی میں لے لیا تو انہوں  آئندہ کےلئے اس رسوائی کے غم سے آزاد ہونے کے لئے لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے کا دستور بنا لیا اور ان کی اس رسم نے روئی کی آگ بن کر پورے عرب ملک کو اپنی پلیٹ میں لے لیا

غرضیکہ اسلام سے قبل عورت کی زندگی عمومی طور پر حیواناتی زندگی تھی پس اسلام ہی عورت کے لئے نجات دہندہ دین ہے جس سے عورت کے حقوق کی پامالی پر مبصرانہ تنقید کی اور ان کے حقوق پر روشنی ڈالتے  ہوئے اسے تمدنی زندگی میں مردوں کے دوش و بدوش لاکھڑا کیا اور فطرت کے اصولوں پر مرد و عورت ہر دو کو انسانیت کی تعمیر و تخریب میں برابر کا ذمہ دار ٹھہرایا پس اسلام نے تمام قدیمانہ غلط رسوم اور اسلام کش نظریات پر قلم نسخ پھیر دیا اور صنف نسوان کو حیوانیت کی تاریک و نجس گہری پستی سے نکال کر انہیں انسانیت کی روشن اور پاک بلند فضا میں رہنے اور جینے کا مقام عطا فرمایا اور مردون کو ان کی اہمیت سے روشناس کراکے انہیں ان کا مساوی طور پر شریک زندگی قرار دیا۔

ایک تبصرہ شائع کریں