اسلام میں مرد و عورت کا باہمی رشتہ
اسلام یہ چاہتا ہے کہ مرد و عورت کی باہمی زندگی میں ایسی
مسرت افزاء اور قلب پرور روح موجود ہو کہ ان کا ہر لمحہ باہمی انس و پیار سے معمور
ہو ، ان کا دل باہمی تعاون کے پرخلوص جذبات کا آئینہ دار ہو اور ان کا ظرف خاطر
آپس کی ہمدردی اور خیر خواہی کی بے پناہ دولت سے لبریز ہو، محبت سے اٹھنا بیٹھنا
ہو اور پیار کا رہنا سہنا ہوتا کہ ان کے دل و دماغ ہر قسم کی دنیاوی الجھنوں سے بے
نیاز ہوں اور ان کی زبان اللہ کی نعمات کا شکریہ کماحقہ ادا کرنے پر موفت ہو مرد
کی عورت کے ساتھ محبت ایسی ہو کہ عورت خواہ ہزار ہا تفکرات اور غموم میں گرفتار
ہو، لاکھ کرب و اضطراب میں تڑپ رہی ہو لیکن جونہی اس کی نگاہیں مرد کے چہرہ پر
پڑیں تو پہلی ہی نظر میں اس کی ساری کوفت دور اور غم کافور ہو جائےاور عورت بھی
مرد کےلئے ایسی وفار شعار خوش کردار ، غمگسار و نیک اطوار ہو کہ مرد کی دن بھر
تھکان کو اس کے لبوں پر کھیلتی ہوئی سادہ سی مسکراہٹ راہ گیر ملک عدم کر دے پس
ایسا گھر ہمیشہ خوشیوں سے بھر پور اور جنت کا آئنیہ دار ہو گا۔