التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

لعان کا بیان

صافی میں بروایت کافی امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے آپ سے اس آیت کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اس شخص سے متعلق ہے جو اپنی بیوی ..

صافی میں بروایت کافی امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے آپ سے اس آیت کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اس شخص سے متعلق ہے جو اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائے پس اگر قذف (تہمت) کے بعد اپنے جھوٹے ہونے کا اقرار کر لے تو اس کو قذف کی سزا دی جائے گی لیکن عورت اس پر حرام نہ ہوگی اور اگر اپنے قول پر ڈٹا رہے تو اس پرچاردفعہ شہادت لی جائے گی اور اس طرح کہے گا اشھد باللہ انی لمن الصادقین فیما رمیتھابہ اور پانچویں دفعہ بصورت جھوٹ اپنے اوپر لعنت کرے گا اور یہ کہے گا ان لعنۃاللہ علی ان کنت من الکاذبین فیما رمیتھا بہ (پس مرد حد قذف سے بچ جائے گا اور عورت پر رجم ثابت ہو گا) پس اگر وہ اپنے اوپر عذاب (سزا) کا ہٹانا چاہے تو چار دفعہ شہادت دے گی کہ اشھد باللہ انہ لمن الکاذبین فیما رما نی بہ اور پانچویں دفعہ ہے گی ان غضب اللہ علی ان کان من الصادقین پس عورت ایسا نہ کرے تو اس پر رجم سزا آئے گی اور کر لےتو رجم کی سزا سے بچ جائے گی لیکن مرد پر حرام موتد ہو جائے گی راوی نے پوچھا اگر بچہ پیدا ہو جائے تو کس کے ہاں جائے گا آپ نے فرمایا وہ ماں کو ملے گا اور وہ مر جائے تو ماں اس کی وارث ہو گی اور ماں نہ ہوتو قریبی ننہال اس کے وارث ہوں گے اور اگر کوئی اس بچے کو ولدالزنا کہے گا تو اس پر قذف کی سزا آئے گی راوی نے پوچھا اس کے بعد اگر باپ اقرار کرے تو کیا بیٹا اس کو مل جائے گا ؟ آپ نے فرمایا نہیں البتہ اس کے اقرار کا یہ اثر ہو گا کہ بیٹا اس کی جائیداد کا وارث ہو سکے گا لیکن بیٹے کے مرنے پر یہ اس کا وارث نہ ہو گا۔
x
آپ سے مروی ہے کہ یہ واقعہ زمانہ پیغمبرؐ میں ایک صحابی کے پیش آیا تو اس نے حضورؐ سے شکایت کی آپ نے منہ پھیر لیا اور کچھ نہ کہا پس وحی نازل ہوئی اور حضورؐ نے اس کو بلا بھیجا اور پوچھا کہ کیا تیرے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا ہے اور تو نے اپنی عورت کے ساتھ کسی مرد کو دیکھا ہے؟ کہنے لگا جی ہاں! آپ نے فرمایا اپنی عورت کو لے آؤ کیونکہ تمہارے متعلق حکم پروردگار پہنچ چکا ہے چنانچہ وہ اپنی عورت کو ساتھ لایا آپ نے پہلے مرد سے چار دفعہ شہادت لی ۔ اس کے بعد اس کو وعظ و نصیحت کی کہ اللہ سے ڈرو اور اللہ کی لعنت کو اپنے اوپر واجب نہ کرو جب وہ اپنے دعوٰی پر مصر رہا تو آپ نے پانچویں مرتبہ اس سے لعنت جاری کرائی پھر عورت سے چار شہادتیں لیں اور وعظ و نصیحت  فرمایا کہ اللہ کے غضب سے بچو جب اسے اپنی بات پر مصر پایا تو غضب کا صیغہ اس سے جاری کرایا پس صیغہ لعان پورا ہونے کے بعد ان کو ایک دوسرے سے جدائی کا حکم دے دیا۔
امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے لعان تب ہو سکتا ہے کہ مرد دعوٰی کرے کہ میں نے عورت کو زنا کراتے دیکھا ہے
مسئلہ: لعان کے وقت امام قبلہ کی طرف پشت کر کے بیٹھے گا اور لعان کرنے والے عورت و مرد اس کے سامنے قبلہ رخ ہوں گے پہلے صیغہ مرد جاری کرے گا اور بعد میں عورت ایک روایت میں ہے کہ مرد امام کے دائیں اور عورت امام کے بائیں جانب ہو گی ۔
مسئلہ: اگر لعان کے صیغہ کے مکمل ہونے سے پہلے مرد اپنے دعوٰی کے جھوٹے ہونے کا اقرار کرے تو اس پر حد قذف جاری ہو گی اور عورت اس پر حرام نہ ہو گی۔
مسئلہ: امام محمد تقی علیہ السلام سے دریافت کیا گیا کہ شوہر اگر عورت پر زنا کا الزام لگائے تو اس کی چار شہادتیں لی جاتی ہیں اور قذف کی حد اس پر جاری نہیں ہوتی لیکن اگر عورت کا بھائی، باپ یا کوئی اور قریبی یہ بات کہے تو گواہوں کے نہ ہونے کی صورت میں اس پر حد قذف جاری ہو گی اس کی کیا وجہ ہے؟ تو آپ نے فرمایا مرد کو عورت پر داخل ہونے کا ہر وقت حق حاصل ہے وہ شب و روز کے 24 گھنٹے میں جب چاہے عورت کے پاس جا سکتا ہے لہذا ممکن  ہے کہ وہ کسی وقت عورت کو ناجائز حالت میں دیکھے لہذا اس کے دعوٰی کی صحت کا امکان ہے لیکن اور کسی قریبی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ عورت پر ہر وقم وارد ہو سکے  اس لئے سے گواہ طلب کئے جائیں گے ورنہ حد قذف اس پر جاری ہوگی ۔
مسئلہ: جس طرح عورت پر زنا کی تہمت لگانے کے بعد لعان ہو سکتا ہے اسی طرح بچہ پیدا ہونے کے بعد مرد کہے کہ یہ بچہ میرا نہیں ہے بلکہ زنا سے پیدا ہوا ہے ۔ تو اس میں بھی لعان کرنے سے حد جاری نہ وہگی لیکن عورت و مرد ایک دوسرے پر حرام موبد ہو جائیں گے اور بچے کا نسب باپ سے کٹ جائے گا بایں ہمہ اس کو کو ولدالزنا کہنے والا حد قذف کا حقدار ہو گا۔
مسئلہ: ایک روایت میں معصوم سے سوال کیا گیا کہ زنا کے اثبات میں چار گواہ ضروری ہوا کرتے ہیں اور قتل کےلئے دو گواہ کافی ہوا کرتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے ؟ تو آپ نے فرمایا زنا میں حد دونوں پر جاری کی جاتی ہے لہذا ہر ایک کے لئے دو دو گواہ ہونے لازمی ہیں لیکن قتل میں ملز صرف ایک ہوتا ہے اور سزا کا تعلق صرف ایک سے ہی ہوتا ہے لہذا دو گواہ کافی قرار دیئے گئے ۔
مسئلہ: قمی سے منقول ہے کہ رسالتمابؐ نے جب صحابی اور اس کی زوجہ کے درمیان لعان کا صیغہ جاری کرا کے ان کو ایک دوسرے سے الگ ہونے کا حکم دیا تو صحابی مرد نے عرض کی حضورؐ میں نے اس کو مال دیا ہوا ہے وہ تو مجھے واپس دلوادیئے۔ آپ نے فرمایا اگر تو نے اس عورت پر غلط الزام لگایا ہے تو تجھے اس مال کے مطالبہ کا کوئی حق نہیں ہے اور اگر تو سچا ہے تو اس وقت تک تو نے جو اس کے جسم سے فائدہ اٹھایا ہے وہ اس کے بدلہ میں ہو جائے گا۔

ایک تبصرہ شائع کریں