مرد عورت کو کہے باراتک علی کذا (ذکر فدیہ) فانت طالق یا کہے بارات
زوجتی فلانۃ (نام عورت) علی کذا (ذکر فدیہ) فھی طالق مرد کو وکیل ہوتو کہے بارات
زوجۃ موکلی فلانۃ (نام) علی کذا (فدیہ) فھی طالق
مسئلہ: خلع کی صورت میں اگر عورت فدیہ کی طرف رجوع کرے تو
پھر مرد کو عورت کی طرف عدت کے اندر رجوع کا حق حاصل ہے اور مبارات کی صورت میں
بھی حکم یہی ہے اور عدت گذر جانے کے بعد نہ عورت کو فدیہ کی طرف رجوع کرنے کا حق
ہے اور نہ مرد کو عورت کی طرف رجوع کا حق باقی رہتا ہے ۔
مسئلہ: خلع یا مبارات کی طلاق میں عدت گذرنے کے بعد وہ مرد
اس عورت کے ساتھ نکاح جدید کر سکتا ہے کیونکہ یہ بھی ایک طلاق ہے اور اسی قسم کی
تین طلاقوں کے بعد طلاق بائن ہو گی پس وہ مرد اس عورت سے پھر نکاح نہ کر سکے گا۔
مگر یہ کہ عورت کسی دوسرے مرد سے شادی کر لے اور وہ باشرائط
اس کو طلاق دے دے یا مر جائے تو عدت کے بعد یہ مرد اس سے نکاح کر سکتا ہے چنانچہ
قرآن مجید میں اس طرح بیان کیا گیا ہے۔
مسئلہ: خلع اور مبارات کی دونو صورتوں میں طلاق کی شرائط کا
پایا جانا ضروری ہے۔
زمان پیغمبرؐ کا واقعہ ہے کہ جمیلہ بنت عبداللہ ثابت بن قیس
کی زوجہ تھی اور اپنے شوہر کو ناپسند کرتی تھی چنانچہ وہ جناب رسالتمابؐ کی خدمت
اقدس میں حاضر ہوئی اور عرض کی کہ گو میں اپنے شوہر میں دینی یا اخلاقی کوئی عیب
نہیں پاتی اور اسلام قبول کرنے کے بعد میں خدا کی نافرمانی کو ناپسند کرتی ہوں
لیکن میرا شوہر چونکہ سیاہ رنگ، کوتاہ قد اور بد صورت ہے لہذا میں اس کے ساتھ کسی
صورت میں ہمبستر ہونا گوارا نہیں کرتی (پس میرا شوہر مجھے طلاق دیدے تو ٹھیک ہے
کیونکہ اس کے طلاق نہ دینے کی صورت میں مجھے خدا کی نافرمانی میں پڑنے کا ڈر ہے)
ثابت دل سے اس کو طلاق دینے پر آمادہ نہ تھا پس یہ آیت اتری ۔ ثابت نے کہا کہ مجھ
اپنا مہر واپس کر دے (اور وہ ایک باغ تھا) حضرت رسولؐ خدا نے جمیلہ سے دریافت
فرمایا کہ اسے وہ باغ واپس کر دے گی اس نے عرض کی حضورؐ! وہ باغ بھی واپس کرتی ہیں
اور کچھ زائد بھی دوں گی (بہر کیف یہ مجھے طلاق دے) آپ نے فرمایا کہ بس تو زائد نہ
دے بلکہ وہی باغ واپس دے دے پس عورت نے باغ وپاس دیا اور ثابت نے اس کو طلاق دے
دی۔
مسئلہ: طلاق خلع کی صورت میں جس قدر بھی فدہ دے عورت اور
مرد دونوں پر اس کا گناہ نہیں ہے نہ عورت کو دینے میں گناہ ہے نہ مرد کو لینے میں
گناہ ہے۔
مبارات کا صیغہ
مرد عورت کو کہے باراتک علی کذا (ذکر فدیہ) فانت طالق یا کہے بارات زوجتی فلانۃ (نام عورت) علی کذا (ذکر فدیہ) فھی طالق مرد کو وکیل ہوتو کہے بارات ...