عورت بچپنے کے دور سے گذر کر جب جوانی کے میدان میں قدم رکھتی ہے تو صنفی اعتبار سے معاشرہ میں اس کے مسائل مردوں سے جداگانہ ہوتے ہیں ان میں سے بعض مسائل کا تعلق اس کے بیٹی ہونے سے ہے اور بعض کا تعلق اس کی بیوی ہونے سے ہے اور بعض کا تعلق اس کے ماں ہونے سے ہے اور کچھ مسائل ایسے ہیں جن کا تعلق صرف عورت سے ہے خواہ بیٹی ہو ، بیوی ہو یا ماں ہو۔
عورت کے بالغ ہونے کی علامات یہ ہیں عمر میں نوسال کی ہونا،
خون ماہواری (حیض) کا آنا، بعض علماء نے حمل کو بلوغ کی علامات قرار دیا ہے
حالانکہ بلوغ حمل سے پہلے ہوتا ہے اور حمل اس سے کاشف ہوتا ہے ۔
مسئلہ:
اگر لڑکی نو برس کی
ہو جائے اور خون ماہواری نہ دیکھے تو اسیا شرعاً بالغہ سمجھا جائے گا پس نماز و
روزہ وغیرہ عبادت واجب کی نیت سے ادا کی کرے گی اور تمام احکام شرعیہ میں وہ مکلف
سمجھی جائے گی اسی طرح اگر خون ماہواری آنے لگ جائے اور عمر نو برس سے کم ہوتو اسے
بالغہ سمجھا جائے گا۔
مسئلہ: سینے کا ابھرنا یا زیر ناف بالوں کا اگنا علامات
بلوغ نہیں ہیں۔
مسئلہ تقلید: بالغہ ہونے کے بعد عورت پر واجب ہے کہ اپنے
اعمال کو صحیح بجا لانے کے لئے ایک مجتہد جامع الشرائط کی تقلید کرے کیونکہ تقلید
کے بغیر اعمال کی صحت میں اشکال ہے۔
مسئلہ: تقلید کا مقصد یہ ہے کہ دل میں عہد کرے کہ میں اپنے
اعمال شرعیہ کو فلاں مجتہد کے فتاوٰی کے مطابق بجا لاؤں گی اور ایسے مجتہد کی
تقلید کرے جس سے مسائل کا دریافت کرنا اسے آسان ہو یا اس کا رسالہ عملیہ اس کے پاس
موجود ہو۔
مسئلہ: جس مجتہد کی تقلید کی جائے اس میں مندرجہ ذیل شرائط
کا ہونا ضروری ہے ۔
1. مرد ہو
2. عاقل ہو
3. بالغ ہو
4. عادل ہو
5. حلال زادہ ہو
6. زندہ ہو
7. بامروت ہو
8. شیعہ اثنا عشری ہو