چونکہ نماز میں شکوک و شبہات کا آنا لازمی ہے تو آل محمدؐ نے جو ان کے علاج بتالئے ہیں ان کو ذہن نشین کر لینا ضروری ہے تا کہ موقع پر کام میں آئیں اور وارد ہے کہ ما اعادالصلٰوۃ فقیہ یعنی فقہ رکھنے والا نماز کا اعادہ نہیں کرتا کیونکہ نماز پر وارد ہونے والے شبہات کا اس کو علاج معلوم ہوتا ہے اور ارشاد خداوندی ہے ولا تبطلوا اعمالکلم یعنی اپنے اعمال کو باطل نہ کیا کرو بنا بریں شک پڑنے پر نماز کو توڑدینا جائز نہیں بلکہ اگر اس کا علاج ہو سکتا ہے تو اسے علاج سے صحیح کر لیا جائے جس طرح ظاہری اجسام کی بعض بیماریاں لا علاج ہوتی ہیں اور بعض قابل علاج پس مریض کو ہلاک کر دینے کے بجائے قابل علاج بیماریوں کا علاج تلاش کر لیا جاتا ہے اسی طرح نماز کے معنوی جسم کے لئے بعض بیماریاں لا علاج ہیں اور بعض قابل علاج ہیں لہذا نماز کو توڑ دینے کے بجائے اس کا مناسب تدارک کرنا ضروری ہے ۔
مسئلہ: نماز کے جن واجبات کو ارکان کہا جاتا ہے ان میں کمی یا زیادتی عمداً ہو یا سہواً نماز کو باطل کر
دیتی ہے اور اس کوئی علاج نہیں۔
مسئلہ: شک رکعات میں اگرپہلی رکعت کا تعلق ہو تو نماز باطل ہو جاتی ہے۔
مسئلہ: اسی طرح شک رکعات میں دو سجدے مکمل کرنے سے پہلے اگر دوسری رکعت کا تعلق ہو تو نماز باطل ہے۔
مسئلہ: صبح، مغرب، نماز قصر اور نماز آیات میں شک رکعات سے نماز باطل ہو جاتی ہے۔
مسئلہ: دوسری اور تیسری رکعت میں شک ہو جائے دو سجدوں کے بعد تو نماز صحیح ہے اور شک قابل علاج ہے موجودہ رکعت کو تیسری رکعت سمجھ کر پھر چوتھی پڑھے اور سلام پڑھنے کے بعد بلا فاصلہ اٹھ
کر ایک رکعت یا بیٹھ کر دو رکعت نماز احتیاط پڑھے۔
مسئلہ: ارکان کے علاوہ دوسرے واجبات میں سے کسی واجب کو عمداً ترک کرنے سے نماز باطل ہوتی ہے۔
مسئلہ: دوسری اور چوتھی رکعت کے شک میں جب کہ شک دو سجدوں کے بعد ہو موجود رکعت کو چوتھی سمجھ لے اور سلام کے بعد کھڑے ہو کر دو رکعت نماز احتیاط بجا لائے ۔
مسئلہ: تیسری اور چوتھی رکعت کے شک میں اس کو چوتھی سمجھے اور بعد میں ایک رکعت کھڑے ہو کر یا دو رکعت بیٹھ کر نماز احتیاط پڑھے۔
مسئلہ: تیسری اور پانچویں رکعت کا شک اگر حالت قیام میں ہو تو فوراً بیٹھ کر سلام پڑھ لے اب اس کی باقی نماز دو اور چار کے درمیان مشکوک رہ جائے گی کیونکہ جس رکعت کو چھوڑ دیا گیا ہے وہ تیسری یا پانچویں تھی پس سلام کے بعد دو رکعت اٹھ کر نماز احتیاط بجا لائے اور قیام زائد کے لئے دو سجدے سہو کے ادا کرے۔ اور اگر تیسری اور پانچویں کا شک رکوع یا اس کے بعد کی کسی حالت میں پڑے تو نماز باطل ہے۔
مسئلہ: اگر دوسری تیسری اور چوتھی میں دو سجدوں کے بعد شک ہو تو چوتھی سمجھی جائے اور سلام کے بعد دو رکعت اٹھ کر اور دو رکعت بیٹھ کر نماز احتیاط پڑھے۔
مسئلہ: اگر تیسری چوتھی اور پانچویں کا شک حالت قیام میں ہو تو قیام کو ختم کر کے بیٹھ جائے اب یہ شک دو تین اور چار کا ہو جائے گا کیونکہ زائد مشکوک رکعت کو ختم کر دیا گیا ہے پس سلام کے بعد دو رکعت کھڑے ہو کر اور دو رکعت بیٹھ کر نماز احتیاط بجا لائے اور قیام زائد کے لئے دو سجدے سہو کے ادا کرے۔
مسئلہ: اگر چوتھی اورپانچویں میں شک ہو پس حالت قیام میں ہو تو بیٹھ جائے اور تیسری اور چوتھی کے شک کا علاج کرے اور زائد قیام کے لئے دو سجدے سہو ادا کرے اور اگر دونوں سجدوں کے بعد یہ شک پڑ جائے تو تشہد پڑھ کر سلام پڑھ لے اور صرف دو سجد سہو کے ادا کر لے نماز صحیح ہو گی ۔ پس یہ وہ قابل علاج شکوک ہیں جن کا تدارک بیان کیا گیا ہے اور اگر نماز میں سہو ہو جائے تو ارکان نماز کا سہو مبطل نماز ہے اس کےعلاوہ کوئی سہو مبطل نماز نہیں بلکہ اس کا تدارک ہو سکتا ہے۔
مسئلہ: ارکان نماز میں سہو کی صورت میں اگر دوسرے رکن تک پہنچنے سے قبل یاد آ جائے تو واپس اس رکن کو ادا کرے جس کا سہو ہوا تھا پھر نماز کی ترتیب کو قائم رکھے پس نماز درست رہے گی لیکن
اگر دوسرے رکن میں داخل ہو چکا ہے تو پہلے رکن کے ترک کی وجہ سے نماز باطل ہے۔
مسئلہ: کسی رکن کی ادائیگی میں شک ہونے کی صورت میں اگر دوسرے رکن میں داخل ہو چکا ہے تو شک کی پرواہ نہ کرے اور اگر دوسرے رکن میں ابھی نہیں پہنچا تو رکن مشکوک کو پہلے بجا لائے پھر
ترتیب نماز کو قائم کر کے اس کو پورا کرے اور رکن مشکوک کو بجا لانے کے بعد اگر یاد آ جائے کہ پہلے بھی ادا کر چکا تھا تو زیادتی رکن کی وجہ سے نماز باطل ہو گی۔
مسئلہ: کسی واجب کا سہو ہو جائے اور بعد میں رکن تک پہنچنے سے پہلے یاد آ جائے تو اس کا تدارک کرے مثلاً فاتحہ کو بھول جائے اور دوسرا سورہ شروع کر دے پھر رکوع سے پہلے یاد آ جائے تو سورہ
فاتحہ پڑھے اور پھر سورہ دوبارہ پڑھ کر نماز کو آگے بڑھائے اسی طرح سجدہ یا تشہد بھول کر دوسری رکعت میں رکوع سے پہلے یاد آ جائے تو بیٹھ کر بھولی ہوئی جزو کو ادا کرے پھر ترتیب کے ساتھ نماز کو پورا کرے اور ایسی صورت میں زیادتی کے لئے سجدہ سہو بھی کرنا پڑے گا اور اگر رکوع میں پہنچ کر یاد آئے تو نماز سے فارغ ہو نے کے بعد سجدہ یا تشہد کی قضا کرے اور پھر دو سجدے سہو کے ادا کرے۔
مسئلہ: شک کی صورت میں ضروری ہے کہ پہلے کچھ فکر کر لے اگر کسی ایک طرف کا خیال غالب ہو جائے تو اسی پر عمل کرے ورنہ شک کا بتایا ہوا علاج کرے۔
مسئلہ: جلسہ استراحت کوعمداً ترک کرنے سے نماز باطل نہ ہو گی لیکن گہنگار ہو گا اور سہواً چھوٹ جانے سے اس کا کوئی تدارک نہیں بلکہ نماز صحیح ہے۔
مسئلہ: کسی واجب میں شک ہو جب کہ اس سے دوسرے واجب کی طرف منتقل ہو چکا ہو تو مشکوک کی کوئی پرواہ نہ کرے۔
مسئلہ: چند شکوک ہیں جو نماز کی صحت میں مخل نہیں ہیں پس ان کی پرواہ نہ کی جائے ۔
1. شک بعد از وقت مثلاً نماز کا وقت گزر جانے کے بعد شک ہو کہ میں نے پڑھی ہے یا نہ تو اسے پڑھی سمجھے اور پرواہ نہ کرے
2. شک بعد از فارغ مثلاً نماز سے فارغ ہونے کے بعد کسی جزو کی ادائیگی میں شک ہو تو اس کی پرواہ نہ کرے بلکہ نماز کو صحیح سمجھے۔
3. شک بعد از مح:ل دوسرے رکن میں پہنچ جانے کے بعد پہلے کے کسی واجب یا رکن میں شک ہوتو اس کی طرف دھیان نہ کرے نماز صحیح ہو گی۔
4. شک مقتدی: اگر مقتدی کو کسی مقام پر شک ہو خواہ نماز کی رکعات میں ہی سہی اور پیشنماز کو یاد ہو تو پیش نماز کی اقتداء میں اپنے شک کی پرواہ نہ کرے اس کی نماز درست ہو گی ۔
5. شک امام : اگر کسی مقام پر پیشنماز کو شک ہو اور مقتدیوں کو یاد ہو تو پیش نماز ان کے اشارے سے اپنے شک کو نظر انداز کر دے۔
6. شک در شک: اگر کسی نماز کو اپنے شک میں شک ہو جائے تو اس کی پرواہ نہ کرے یا یہ کہ نماز شک جسے نماز احتیاط کہا جاتا ہے اس میں شک پڑ جائے تو اس کی پرواہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے
7. شک کثیر الشک : جس آدمی کو شک زیادہ پڑتے ہوں تو وہ ان کی پرواہ نہ کرے۔
مسئلہ: تین متواتر نمازوں میں شک پڑنے سے وہ کثیر الشک سمجھا جائے گا پھر اگر متواتر تین نمازیں اس کی بلاشک ہو جائیں گی تو وہ کثیر الشک نہ رہے گا۔