کوئی شخص اپنی عورت مدخولہ کو شرائط کے ساتھ طلاق دے تو عدت کے اندر وہ اس کی طرف رکوع کر سکتا ہے اور وہ عورت اس پر بغیر نکاح جدید کے حلال ہے پس اگر عدت کے اندر رجوع کر لے اور پھر شرائط کے ساتھ اس کو طلاق دے دے تو اب بھی عدت کے اندر اس کو عورت کی طرف رجوع کرنے کا حق حاصل ہے پس اگر رجوع کر لے تو عورت کی اب دو طلاقیں پوری ہو گئیں اب حکم یہ ہے کہ اگر نیکی کے ساتھ اور خوش اسلوبی سے عورت کو اپنے نکاح میں باقی رکھے اور نان و نفقہ وغیرہ میں اس کو تنگی نہ دے تو اس کی عورت ہے ورنہ اس کو تیسری دفعہ شرائط کے ساتھ طلاق دے دے اور اس طلاق کے بعد وہ مرد اس عورت کی طرف رجوع نہیں کر سکتا اور یہ طلاق، طلاق بائن ہو جائے گی ۔ عدت گزرنے کے بعد عورت کو اختیار ہے کہ جس مرد سے چاہے نکاح کر لے لیکن اس طلاق دینے والے سے اس کا نکاح نہیں ہو سکتا ہاں البتہ اگر عورت نے اس طلاق بائن کے بعد کسی دوسرے مرد کے ساتھ نکاح کر لیا اور اس مرد نے اپنی خوشسی و رضا مندی کے ساتھ اس کو طلاق بائن بطریق سابق دیدی یا طلاق رجعی دی اور عدت کے اندر رجوع نہ کیا یا وہ مرد مر گیا، تو اس کی عدت گذرنے کے بعد وہ عورت پہلے طلاق دینے والے مرد کے ساتھ نکاح کر سکتی ہے اس طلاق کو اصطلاح میں طلاق عدت کہا جاتا ہے۔
طلاق عدت کا طریقہ
کوئی شخص اپنی عورت مدخولہ کو شرائط کے ساتھ طلاق دے تو عدت کے اندر وہ اس کی طرف رکوع کر سکتا ہے اور وہ عورت اس پر بغیر نکاح جدید ۔۔۔