عورت چونکہ انسانیت کی
تربیت کا گہوارہ ہے اور انسانیت کی پہلی تربیت گاہ اس لئے معاشرہ میں ماں کا مقام
بہت بلند ہے اور اسی پر احادیث میں بھی وارد ہے کہ جنت ماں کے قدموں میں ہے لہذا
صنف نازک کو اپنے اس اہم منصب کے پیش نظر اپنی عظیم تر ذمہ داریوں کا احساس کرنا
ضروری ہے اور اولاد کی تربیت اس انداز سے کریں کہ آنے والی نسل صحیح طور پر
انسانیت کے خدوخال موجود ہوں اور ان کی اولاد ان کی حسن تربیت کے نتیجے میں شرف
انسانی کے اس بلند ترین کنگر ے پر فائز ہو کہ ملکوتیت بھی اس پر رشک کرتی نظر آئے
ماں اگر چاہے تو اپنی گود میں بچے کو باپ کا سلام کرنا سکھائے اور اگر چاہے تو اسے
باپ کی توہین سکھائے ماں اپنی گود میں بچے کو چور بھی بناتی ہے اور حلال خور بھی
بناتی ہے ۔
مروی ہے جناب بتول
معظمہ شب جمعہ حسنین شریفین کو مصلائے عبادت پر اپنے ہر دو پہلوؤں پر کھڑا کر لیتی
تھیں اور فرماتی تھیں، بیٹے ! آج شب جمعہ ہے اگر دوسری ماؤں کے بیٹے غفلت کی نیند
میں رات گزار دیں تو بے شک گزار دیں تم زہرا کے بیٹے ہو ساری رات میرے پہلوؤں میں
کھڑے ہو کر عبادت میں شب بیداری تمہاری شایان شان ہے۔
بحارالانوار جلد 23 میں
قصص الانبیاء سے مروی ہے امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا بنی اسرائیل میں
ایک شخص کے ہاں دو بیویاں تھیں ایک شریف النفس عفیفہ تھی اور دوسری خسیس اور غیر
عفیفہ تھی پہلی عورت سے اس کو ایک لڑکا تھا اور دوسری عورت سے دو لڑکے تھے جب اس
مرد کی وفات کا وقت قریب آیا تو اس نے وصیت کہ تم میں سے میرے مال کا صحیح وارث
صرف ایک ہے وہ مرگیا تو بھائیوں میں جھگڑا پیدا ہو گیا ہر ایک کہتا تھا کہ باپ کا
وارث میں ہوں چنانچہ انہوں نے شہر کے قاضی (مجسٹریٹ) کی طرف رجوع کیا تو اس نے
جواب دیا کہ تمہارا فیصلہ بنی غنام کریں گے جو تین بھائی ہیں پس وہ بنی غنام میں
سے سب سے چھوٹے کے پاس گئے جو دیکھنے میں بہت بوڑھا معلوم ہوتا تھا اس نے ان کو
اپنے بڑے بھائی کے پاس بھیجا جو دیکھنے میں بالکل جوان عمر کا لگتا تھا انہوں نے
پہلے تو یہ دریافت کیا کہ تمہاری عمریں اور شکلیں مختلف کیوں ہیں؟ جو سب سے چھوٹا
ہے بو بڑھا ہے اور جو سب سے بڑا ہے وہ
جواب دکھائے دیتا ہے اس میں کیا راز ہے؟ تو اس نے جواب دیا میرے چھوٹے بھائی کی
بیوی بد مزاج ہے جو ہر وقت اس کو اذیت پہنچاتی ہے اور وہ اس کی اذیتوں پر صبر کر
کے زندگی گزار رہا ہے اور اس کو طلاق اس لئے نہیں دیتا کہ کہیں اس کے بعد اس سے
بھی بڑی مصیبت میں مبتلا نہ ہو جاؤں پس اس عورت نے اس کو بوڑھا کر دیا ہے ( ضمناً
ایک حدیث ذکر کردوں وسائل میں مروی ہے حضرت پیغمبرؐ دعا مانگا کرتے تھے اے اللہ
مجھے ایسی اولاد نہ دے جو میرے اوپر قاہر و جابر ہو ایسا مال نہ دے جو میری بربادی
کا موجب ہو ایسی بیوی نہ دے جو مجھے بڑھاپے کے زمانہ سے پہلے بوڑھا کر دے اور ایسا
دوست نہ دے جو فریب کار ہو) پھر اس نے بیان کیا کہ میرا دوسرا بھائی جو مجھ سے
چھوٹا ہے اور چھوٹے سے بڑا ہے اس کی بیوی بد مزاج بھی ہے لیکن کسی نہ کسی وقت اس
کو خوش بھی کر لیتی ہے لہذا اس کی جوانی کس حد تک برقرار ہے اور میری بیوی نہایت
نیک طینت اور اطاعت شعار ہے جو کسی بھی وقت مجھے غمزدہ نہیں ہونے دیتی اور میں نے
کبھی اس سے کوئی ایسی حرکت سر زد ہوتی ہیں دیکھی جو میرے لئے باعث کوفت ہو اس لئے
میرے جوانی برقرار ہے۔
اب تمہارے معاملہ کا حل
یہ ہے کہ تم تینوں بھائی اپنے باپ کی قبر پر چلے جاؤ اور اس کی ہڈیوں کو نکال کر
ان کو جلا دو اور اس کے بعد مجھےاطلاع دو تا کہ میں تمہارے درمیان صحیح فیصلہ
کروں۔
عفیفہ عورت کے بیٹے نے
باپ کی تلوار اٹھالی اور اس کے دونوں بھائیوں نے کدال اٹھا لئے اور باپ کی قبر کی
طرف روانہ ہو گئے ان دونوں نے باپ کی قبر کھودنے کا ارادہ کیا تو تیسرے بھائی نے
جو عفیفہ عورت کا فزند تھا اور سب سے چھوٹ تھا تلوار بلند کر لی اور کہا میں اپنے
باپ کی قبر نہ کھودنے دونگا جاؤ میں نے اپنا حصہ معاف کیا ہے قاضی کے پاس واپس جاؤ
اور میرا حصہ لے لو چنانچہ سب واپس آئے اور قاضی نے جب ان کے بیانات سنے تو سارا
مال عفیفہ عورت کے لڑکے کو دلوا دیا اور باقی دونوں کو محروم قرار دیا اور کہا کہ
وہ دونوں اگر صحیح معنوں میں باپ کی اولاد ہوتے تو ان میں بھی باپ کا حیا ہوتا۔
اس روایت میں اچھی اور
بری عورتوں کے شوہر کی زندگی پر جو اثرات مرتب ہوئے ہیں اس سے بھی نقاب کشائی کی
گئی ہے اور بحثیت ماں کے اولاد پر عورت کی تربیت کے جو اثرات مرتب ہوتے ہیں ان کی
بھی نشاندہی کی گئی ہے اور اس سے صاف واضح ہے کہ عورت انسانی معاشرہ میں جان لیوا
سور بھی بن سکتی ہے اور روح پرور خوشو کا
کام بھی دے سکتی ہے پس عورت کا اچھی بیوی ثابت ہونا اور اچھی ماں بننا ماں باپ کی
ابتدائی تربیت کے اچھے اثرات و روح افزاء نتائج میں سے ہے میں نے کسی کتاب میں
دیکھا ہے ایک غیر مسلم مورخ نے حسینیت اور یزیدیت پر بحث کرتے ہوئے لکھا ہے یزید
کے چلے صفت انسان ہزاروں پیدا ہو گئے لیکن حسین کے بعد حسین جیسا آدمی دنیا میں
کوئی نہ آسکا اس کی وجہ یہ ہے کہ یزید کی ماں جسی مائیں دنیا میں بہت ہیں جس کی
بدولت یزید صفت لوگوں کی بہتات ہے لیکن نہ حسین کی ماں جیسی ماں پیدا ہو سکتی ہے
اور نہ حسین جسی شخصیت دوبارہ آ سکتی ہے ۔
سید رضی اور سید مرتضٰی
علم الہدٰی کی والدہ ماجدہ کو جب بیٹوں کے عالم کامل ہونے کی کسی نے مبارکباد دی
تو انہوں نے اپنے بچوں کی تربیت کے متعلق فرمایا کہ میں نے ان کی تربیت میں کوئی
کسر باقر نہیں اٹھا رکھی تھی جب یہ میرے شکم میں رہے تو میں نے کبھی پاکیزگی کو
ترک نہیں کیا اور ہر وقت باطہارت رہنا میرا اصول تھا جب میری گود میں رہے تو میں
نے اپنی اور ان کی طہارت میں کبھی کوتاہی نہیں کی نہ خود حرام اور نجس خوراک کو
منہ لگایا اور نہ ان کے منہ میں حرام و نجس لقمہ جانے دیا پس پاکیزہ دودھ ، پاکیزہ
غذا اور پاکیزہ تربیت کا یہ نتیجہ اور ثمرہ ہے جو اللہ نے مجھے عطا فرمایا ۔
اس بناء پر بچوں کےلئے
دودھ پلانے عورتوں میں سے نیک اور پارسا مومنہ عورت کے انتخاب کا حکم ہے حتی
الامکان یہودیہ نصرانیہ مجوسیہ خارجیہ و ناصبیہ عورتوں کی رضاعت سے پرہیز ضروری ہے
بلکہ ایسی عورت جو طہارت و نجاست میں فرق نہ رکھتی ہو میلی کچیلی ہو اور پاکیزگی
کا خیال نہ کرتی ہو ایسی عورت کا بچے کو دودھ پلانا بچے کے اچھے مستقبل پر بری طرح
اثر انداز ہوتا ہے ۔
اس میں شک نہیں کہ ماں
کی سیرت و کردار کا بچے پر بہت زیادہ اثر ہوتا ہے بلکہ شکم مادر میں جس طرح ماں کی
اچھی غذا بچے کی جسمانیت پر اچھا اثر ڈالتی ہے اس طرح غذا کی پاکیزگی اور حلیت نیز
ماں کے اچھے اخلاق و کردار بچے کی روحانی صلاحیتوں کے لئے سنگ بنیاد کا کام کرتے
ہیںح اور بعد از ولادت جب تک بچے کی غذا کا خزینہ ماں کا سینہ رہتا ہے ماں کی
پاکیزہ غذا بچے کی پاکیزگی کا پیش خیمہ بنتی ہے اور ماں کی طہارت و شرافت و نجابت
بچے کے روشن مستقبل کے لئے تعمیری کردار ادا کرتی ہے اور اس کے برعکس حمل و رضاع
کے زمانہ میں ماں کے غیر محتاط روش بد اخلاقی بد کرداری اور غیر پاکیزگی تکوینی
طور پر بچے پر برے اثرات کی موجب بنتی ہے اور روحانی طور پر بچے کے تاریک مستقبل
میں ماں کی کمزوریوں کو بڑا دخل ہوتا ہے اس لئے ماں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ
بچے کے روشن مستقبل کے لئے اچھی ماں کا کردار ادا کریں۔
برطانیہ کے تخت و تاج
کے وارث شہزادہ چارلس نے کیا خوب بات کہی ہے جو اخباروں میں چھپی ہے کہ "عورت
کا حسین ترین روپ ہے ماں ہونا" اس کی وجہ صاف واضح ہے کہ عورت ماں بن کر
انسان پروری کے فریضہ کو ادا کرتی ہے جو ہر فریضہ سے اہم اور حسین تر ہے اسی لئے کہا
گیا ہے (جنت ماں کے قدموں میں ہے) ۔
تربیت اولاد
شہزادہ چارلس نے کیا خوب بات کہی ہے جو اخباروں میں چھپی ہے کہ "عورت کا حسین ترین روپ ہے ماں ہونا" اس کی وجہ صاف واضح ہے کہ عورت ماں بن ۔۔۔