دریاؤں اور نہروں کا پانی طاہر و مطہر ہوتا ہے اگر بوجہ نجاست کے اس میں تغیر آ جائے تو صرف تغیر کی حد تک نجس ہو گا باقی سب پاک رہے گا اور خود بخود یا علاج تغیر دور ہونے کے بعد وہ حصہ بھی پاک ہو جائے گا جو نجاست سے متاثر ہوا تھا۔
مسئلہ: نہروں سے نکلنے والی چھوٹی چھوٹی نالیوں کا حکم بھی
آب جاری کا ہے۔
مسئلہ: کاریزوں اور چشموں سے نکل کر بہنے والا پانی بھی آب
جاری ہوا کرتا ہے ۔
مسئلہ: ٹیوب ویلوں سے آنے والا پانی بھی بظاہر آب جاری کے
حکم میں ہے ۔
مسئلہ: آب کثیر (کُر) اور آب جاری میں کپڑا یا جسم کو پاک
کرنے کے لئے نجاست کو دور کرنے کے بعد صرف ڈبو دینا کافی ہوا کرتا ہے نہ کپڑے کو
نچوڑنے کی ضرورت ہے اور نہ دو یا تین دفعہ کے تکرار کی حاجت ہوتی ہے۔
مسئلہ: آب قلیل سے اگر جسم پاک کرنا ہوتو ازالہ نجاست کے
بعد اس مقام سے پانی کو بہا دیا جائے صرف پانی کا اتصال کافی نہیں اگر پیشاب کی
نجاست ہے تو دو دفعہ پانی بہانا چاہیے اور چھوٹے بچے کے پیشاب سے (جو غذا نہ کھاتا
ہو) صرف پانی ڈال دینا کافی ہے۔
مسئلہ: اگر لباس آب قلیل سے پاک کرنا ہوتو عین نجاست کے دور
کرنے کے بعد اس پر پانی ڈال کر اس نچوڑنا ضروری ہے اور کم از کم دو دفعہ پانی ڈال
کر ہر دفعہ نچوڑا جائے بچے کے پیشاب کےلئے نچوڑنے کی اور تکرار کی ضرورت نہیں ہے ۔
مسئلہ: اگر برتن آب قلیل سے پاک کرنا ہو تو دو دفعہ آب طاہر
سے کھنگال کر صاف کر لینا کافی ہے اور تین دفعہ کرنا بہتر ہے۔
مسئلہ: ہر وہ جسم جس سے پانی آسانی سے الگ ہو جائے جس طرح
پتھر لکڑی اینٹ و صابون وغیرہ تو پاک کرنے کے لئے دو دفعہ پانی بہا لینا کافی ہے
پس ان چیزوں کا ظاہر اس سے پاک ہو جائے ۔
مسئلہ: اگر کتا منہ ڈال دے تو ایسے برتن کو پہلے مٹی سے
مانجھ لیا جائے اور اس کے بعد تین دفعہ پانی سے دھویا جائے اور بعض علماء نے سات
دفعہ دھونے کا حکم دیا ہے ۔
مسئلہ: خنزیر اگر برتن میں منہ ڈالے تو مٹی سے مانجھ لینے
کے بعد برتن کو سات مرتبہ پانی سے دھونا چاہیے ۔
مسئلہ: کتے اور خنزیر کے برتن چاٹنے یا اس میں لعاب ڈالنے کا حکم ایک ہے ۔
مسئلہ: اگر بڑا مٹکا نجس ہو جائے تو اس کو آب قلیل سے پاک
کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اوپر سے پانی گرائیں کہ اس کے اندر کا کوئی حصہ نہ بچے پس
کسی پاک برتن سے جمع شدہ پانی نکال لیں کہ ہر دفعہ اس برتن کو پاک کر کے اندر داخل
کریں اور باقی ماندہ کو خشک کپڑے کے ذریعے جذب کرالیں پھر دوبارہ سہ بارہ یہ عمل
کریں وہ پاک ہو جائے گا۔