خداوند کریم نے قرآن مجید میں بارش کے پانی کو بالعموم مبارک پانی کہا ہے اور ماہ نیسان جو تقریباً ہندی مہنیوں کے لحاظ سے بیساکھ کے مہنے کے مطابق ہوتا ہے اس ماہ میں برسنے والی بارش کے فوائد بہت زیادہ منقول ہیں غرضیکہ اس کو ہر دکھ بیماری کے لئے مفید کہا گیا ہے چنانچہ اکثر گھروں میں پڑھے لکھے لوگ اس کو جمع کر کے رکھ دیتے ہیں اور سال بھر میں حسب ضرورت استعمال کرتے ہیں حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے پیٹ کی تکلیف کے مریض کو بارش کا پانی جو باعث برکت ہے اور شہد جو باعث شفا ہے اور عورت کے حق مہر میں سے کوئی شی جو بطبیب خاطر دیدے کیونکہ اللہ نے اس کو (۔۔۔۔صحیح پڑھا نہیں جا رہا) کہا ہے ان تینوں کو ملا کر پی لینے کو حکم دیا چنانچہ وہ شخص شفا یاب ہو گیا ۔ بارش کے پانی کو خدا نے طہور کہا ہے اور فقہائے امامیہ کے نزدیک یہ آب جاری کے حکم میں ہے جب کہ اس قدر برسے کہ اسے بارش کہا جا سکے اور اس کی حد یہ بتلائی گئی ہے کہ سخت زمین پر وہ جاری ہو جائے ۔
مسئلہ: جس نجس زمین پر کم از کم بارش برسے اگر اس پر عین
نجاست موجود نہ ہو تو وہ پاک ہو جائے گی۔
مسئلہ: اگر نجس کپڑا یا کوئی دوسری چیز جس پر عین نجاست
موجود نہ ہو بارش میں رکھی جائے تو تر ہو جانے کے بعد وہ پاک سمجھی جائے گی۔
مسئلہ: جو تھوڑا نجس پانی زمین پر موجود ہو گا اگر رنگ بو
اور مزہ اس کا تبدیل نہیں تو بارش کے پڑنے سے پاک ہو جائے گا لیکن اگر نجاست کی
وجہ سے اس کا رنگ یا بو مزہ تبدیل ہو چکا ہو تو پاک نہ ہو گا جب تک اس کی صفات زائل
نہ ہوں۔
مسئلہ: جس آدمی نے غسل کرنا ہوتو بدن سے نجاست کو دور کر کے
نیت کر کے بارش میں کھڑا ہو جائے پس پورے جسم کے تر ہو جانے کے بعد اس کا غسل ہو
جائے گا اور یہ غسل ارتماسی شمار ہو گا۔
مسئلہ: بارش کا پانی زمین پر پڑی ہوئی نجس چیز کو اس وقت
پاک کرتا ہے جب کہ براہ راست اوپر پڑ رہی ہو ورنہ اگر پہلے کسی دوسری چیز پر پڑے
اور وہاں سے نجس پر ٹپک رہی ہو تو وہ پاک نہیں ہو گی لہذا چھت سے ٹپکنے والا پانی
یا درخت کے پتوں سے گرنے والا مطہر نہیں ہو گا۔
مسئلہ: بارش کے برسنے کے دوران میں زمین پر چلنے والا پانی
یا اکٹھا کھڑا ہوا پانی پاک سمجھا جائے گا اگرچہ آنکھوں کے سامنے اس میں کتا ہی
گزر رہا ہو یہ ایسا ہے جس طرح دریا یا نہر میں سے کتے کا گزرنا اس کی نجاست کا
باعث نہیں ہو سکتا
اسی طرح بارش بھی چونکہ آب جاری ہے اور زمین والا پانی سے
اتصال رکھتا ہے لہذا نجس نہیں ہوتا البتہ بارش رک جانے کے بعد اگر کتا گزر جائے یا
کوئی دوسری نجاست اس میں نظر آ جائے تو کر سے زیادہ ہونے کی صورت میں پاک ہو گا
ورنہ نجس سمجھا جائے گا۔
مسئلہ: اگر تالاب کا پانی جس میں آب کثیر ہے اور نجاست پڑنے
سے اس کا رنگ یا بو یا مزہ تبدیل ہو جائے پس وہ نجس ہو گا اور اوصاف ثلثہ کے ختم
ہو جانے کے بعد خود بخود پاک نہ ہو گا جب تک اس کا آب جاری یا آب کثیر سے نہ ہو پس
ایسے تالاب پر اگر بارش برس جائے تو وہ پاک ہو جائے گا۔
مسئلہ: کتے پر اگر بارش پڑ جائے اور وہ گھر میں داخل ہو کر
کسی پاکیزہ برتن یا کپڑے یا جسم انسانی سے مس ہو جائے یا وہ بدن کو حرکت دے اور
پانی کے قطرات اڑ کر دوسری چیزوں پر پڑیں تو اس کو بارش کا پانی سمجھ کر پاک نہیں
سمجھا جائے گا بلکہ وہ نجس ہوں گے اور پاک چیز جو اس سے مس ہو جائے گی وہ نجس ہو
گی۔
مسئلہ: زمین پر کھڑا ہو نجس پانی خواہ تالاب و حوض میں ہو
یا کسی برتن میں ہو بارش کے پڑنے سے فوراً پاک ہو جائے گا خواہ اس کے بعد اس کو
ڈھانپ ہی کیوں نہ دیا جائے کیونکہ نجس پانی کی طہارت کےلئے آب کثیر سے صرف ملاقات
ضروری ہے پس جس طرح برتن کے اندر نجس پانی بارش پڑنے سے فوراً پاک ہو جائے گا اسی
طرح وہ برتن بھی پاک ہو گا۔ جس میں پانی موجود ہے۔