کافی میں بروایت زرارہ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا نماز سے سستی نہ کرو کیونکہ جناب رسالتمآبؐ نے اپنے آخری وقت میں فرمایا کہ نماز کو خفیف جاننے والا مجھ سے یعنی میری امت سے نہیں ہے اور شراب پینے والا بھی میری امت سے نہیں ہے خدا کی قسم ایسا شخص میرے پاس ہر گز حوض کوثر پر وارد نہ ہوگا نیز دوسری روایت میں ہے کہ حضورؐ نے فرمایا کہ مومن جب تک نماز کا پابند رہے شیطان اس سے خوف زدہ رہتا ہے جب یہ نماز کہ ضائع کر دے تو وہ اس پر غلبہ حاصل کر کے اس کو دوسرے گناہان کبیرہ میں جتلا کر دیتا ہے نیز حضرت امام محمد باقر سے منقول ہے کہ جو شخص فرضی نمازوں کو پابندی وقت سے ادا کرے وہ غافلین میں شمار نہ ہوگا حضرت امام موسٰی کاظم علیہ السلام سے منقول ہے کہ میرے والد بزرگوار نے آخری وقت مجھے فرمایا بیٹا جوشخص نماز کو خفیف سمجھے اس کو ہماری شفاعت نہ پہنچے گی نیز حضرت رسالتمابؐ نے فرمایا کہ ہر شیئ کا چہرہ ہوا کرتا ہے اور تمہارے دین کا چہرہ نماز ہے پس تم اپنے دین کے چہرہ کو بد نما داغدار نہ کرو (کافی)
روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ معصومین نے اپنے آخری وقت
میں سب سے پہلے نماز کی وصیت فرمائی حتی کہ حضرت امام حسین علیہ السلام نے خیام سے
آخری رخصت کے وقت اپنے بیمار فرزند کو سب سے پہلے نماز کی وصیت فرمائی اور ایک
صحابی نے جب نماز کا وقت یاد دلایا تو آپ نے نہایت خوش ہو کر اس کو یہی دعا فرمائی
کہ خدا تجھے نمازیوں میں محشور کرے ومنین کو واقعہ کربلا سن کر امام حسین ؑ کی
فرمائشات اور آخری وسیت کی قدر کرنی چاہیے۔