پاکستان کی زمین کو استاد العلما مولانا السید محمد باقر
اعلٰی اللہ مقامہ ایسے لائق فرزند پیدا کرنے کا بجا شرف حاصل ہے یہ بزگوار کو
آسمان علم و فضل کا نیر درخشندہ اور برج زہد و تقوی کا تابندہ سورج تھے اگئے گذرے
دور میں ان کی صورت پر سیرت آئمہ کی جھلک تھی اور ان کے اطوار کردار آئمہ کا آئینہ
تھے انہوں نے اپنی پوری زندگی جو تقریباً نوے (90) سال برس کے لگ بھگ تھی انتہائی
سادگی سے گزاری نام و نمود کا کبھی ادنٰی سا خیال بھی ان کی خاطر شریف میں نہ گزرا
خدا وند عالم نے ان کو حافظہ کی قوت اس غضب کی عطا فرمائی تھی کہ بچپنے کے مطالب
سن ضعیفی میں بھی من و عن یاد تھے جو کتاب ایام تحصیل میں نظر سے گزری تھی اس کے
مضامین آخر عمر تک خاطر عاطر میں محفوظ رہے مطالعہ اور کتب بینی کا از حد شوق تھا
اور ان کا عام دستور تھا کہ جو کتاب پڑھتے اس کے شروع میں خاص خاص مطالب کی فہرست
تیار کرتے جاتے تھے تا کہ کس مطلب کو ڈھونڈنے کےلئے از سر نو محنت نہ کرنی پڑے لیکن
حافظہ کا یہ عالم تھا کہ مطلب ڈھونڈنے کےلئے کبھی تیار کردہ فہرست کی احتیاج ان کو
لاحق نہ ہوئی خود اپنی قوت حافظہ کے متعلق فرماتے تھے کہ میں نے علوم و فنون میں
سے ہر فن کا ایک ایک متن یاد کیا تھا اور فن صرف میں کتاب شافیہ کا متن صرف ایک
ہفتہ میں یاد کیا تھا چنانچہ اس کا اثر دماغ پر بھی پڑا جس کو وہ آخر عمر تک محسوس
کیا کرتے تھے انہوں نے پنجاب یونیورسٹی میں مولوی فاضل کا امتحان 1909ء میں دے کر
پوری یونیورسٹی میں اول آنے کا شرف حاسل کیا تھا یہ وہ زمانہ تھا جب قاضی حمد اللہ
وغیرہ نصاب میں داخل تھے آپ فرماتے تھے کہ مجھے حمد اللہ کی پوری عبادتیں اس وقت
یاد تھیں اور ملا عبداللہ ٹونکی ان کے استاد تھے جو اس وقت یونیورسٹی میں مدرس
اعلٰی تھے اور انہوں نے زیادہ تر تحصیل علوم جگراؤں کے مشہور عالم سید شریف حسین
صاحب قبلہ قدہ سے کی اور تقسیم سے پہلے محرم اور چہلم کی مخصوص مجالس کےلئے لازمی
طور پر وہاں تشریف لے جایا کرتے تھے ۔ مولانا سید شریف حسین مولانا سید رجب علی
خان ارسطوعباہ کے فرزند تھے جو دولت برطانیہ میں ملک کے ایک اعٰلی عہدہ پر فائز
تھے۔
التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔
یہاں کلک کریں
علامہ حسین بخش جاڑا کی تصانیف ، تفسیر انوار النجف، قرآن مجید کی بہترین تفسیر ، لمعۃ الانوار، اس میں شیعہ عقائد ، اصحاب الیمین، شہداء کربلا کے بارے ، مجالس کا مجموعہ، مذہب شیعہ کی حقانیت پر مدلل کتاب ، احباب رسول، کتاب اصحاب رسول کا جواب ، اسلامی سیاست، اصول دین کی تشریح پر مفصل بحث ، امامت و ملوکیت ، خلافت و ملوکیت کا جواب ، معیار شرافت، اخلاقیات ، انوار شرافت، خواتین کے مسائل، انوار شرعیہ، مسائل فقہیہ ، اتحاد بین المسلمین پر مبنی مناظرہ ، نماز امامیہ، شیعہ نما زکا طریقہ اور ضروری مسائل