اسباب وضو
1. پیشاب
2. پاخانہ
3. ریح
4. نیند
5. بے ہوشی
6. استحاصہ قلیلہ
اسباب غسل جو کہ چھ ہیں
1. جنابت
2. حیض
3. نفاس
4. استحاضہ
5. موت
6. مس میت
سبب وضو کو حدیث اصغر
کہاجاتا ہے اور سبب غسل کو حدث اکبر کہاجاتا ہے حدث کے لاحق ہونے سے وضو ٹوٹ جاتا
ہے خواہ حدث اصغر لاحق ہو یا حدث اکبر لاحق ہو جائے پس غسل حیض ، نفاس ، استحاضہ
اور اسی طرح غسل میت کے بعد اگر نماز پڑھنی ہو گی تو ان اغسال سے قبل یا بعد وضو
کرنا ضروری نہیں ہو گی بلکہ غسل جنابت کے ساتھ وضو کرنا حرام ہو گا خداوند کریم نے
صاف حکم دیا ہے کہ اگر نماز نماز کی تیاری کرو اور حالت جنب ہوتو غسل کر لو تو
معلوم ہوا کہ وضو کی طرح یہ بھی خود کافی ہے اور ان کے تمام مقام تیمم کا بھی یہی
حکم ہو گا یعنی غسل جنابت کے بدلہ کا تیمم نماز کے لئے خود کافی ہو گا اور باقی
اغسال کے بدلہ میں تیمم کرنے کے بعد نماز کےلئے وضو کے بدلے تیمم علٰیحدہ کرنا پڑے
گا۔
وضو کا طریقہ
فروع کافی میں بروایت
زرارہ امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے آپ نے فرمایا کیا میں تم کو رسولؐ
اللہ کا وضو بتاؤں ؟ ہم نے عرض کی جی ہاں ! پس آپ نے پانی کا برتن منگوایا اور اس
کو اپنے سامنے رکھا ۔ پھر اپنے بازوؤں سے آستینوں کو الٹا اور دائیں ہاتھ کو پانی
میں داخل کیا اور فرمایا اس وقت جب کہ ہاتھ پاک ہو پس چلو بھر کر پیشانی پر ڈالا
اور منہ کے دونو طرف اس کو جاری کیا پھر بائیں ہاتھ کے چلو میں پانی لیا اور دائیں
ہاتھ کی کہنی پر ڈالا اور اپنی کف دست کو پھیرا ۔ یہاں تک کہ انگلیوں کے سرے تک
پانی بہہ گیا پھر دائیں ہاتھ میں چلو لے کر بائیں ہاتھ کی کہنی پر ڈالا اور کف دست
پھیر کر انگلیوں کے سرے تک اسے جاری کر دیا پھر سر کے اگلے حصے اور پاؤں کی پشت کا
ہاتھوں کی بقیہ تری سے مسح فرمایا نیز فرمایا اللہ وتر ہے اور وتر ہی کو محبوب
رکھتا ہے پس وضو کےلئے تین چلو کافی ہیں ایک منہ کےلئے اور دو ہاتھوں کے لئے پھر
دائیں ہاتھ کی تری سے سر کا مسح اور پھر دائیں ہاتھ کی تری سے دائیں پاؤں کی پشت
کا مسح اور بائیں ہاتھ کی تری سے بائیں پاؤں کی پشت کا مسح ۔ زرارہ کہتا ہے امام
نے فرمایا کہ ایک شخص نے حضرت امیر المومنین علیہ السلام سے جناب رسالتمآبؐ کے وضو
کا طریقہ دریافت کیا گیا تھا تو آپ نے اسی طرح وضو کر کے دکھایا تھا ۔
تنبیہ : روایت میں وضو
کے واجبات کو دکھایا گیا ہے کیونکہ کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا مستحب ہے ۔
مسئلہ: وضوء کے واجبات
سات ہیں۔
·
نیت
·
منہ کو دھونا
·
دونوں ہاتھوں کا دھونا
·
سر کا مسح
·
پاؤں کا مسح
·
ترتیب
·
سوالات
مسئلہ: وضو کرتے وقت پہلے دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک
تین دفعہ دھو لے پھر دائیں ہاتھ کے چلو میں پانی لے کر تین دفعہ کلی کرے اور مسواک
کرنا مستحب مؤکد ہے اگر لکڑی کا مسواک موجود نہ ہوتو انگلی سے مسواک کرنا چاہیے اس
کے بعد تین دفعہ تاک میں پانی ڈالے پس نیت کر کے منہ کے اوپر دائیں ہاتھ کے چلو سے
پانی ڈالے تا کہ پانی نیچے کی طرف جاری ہو جائے ۔
امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے چہرہ کی وہ
حد جس کے دھونے کا خدا نے حکم صادر فرمایا ہے کہ کسی کو اس پر بڑھانے گھٹانے کا حق
نہیں ہے یعنی اگر بڑھائے گا تو اس کا ثواب نہ ملے گا اور اگر گھٹائے تو گناہ گار
ہو گا وہ ہے جو انگوٹھے اور درمیان کی بڑی انگلی کے اندر آ جائے سر کے بال اگنے کی
حد سے ٹھوڑی تک لمبائی میں اور جہاں تک دونوں مذکور انگلیاں پہنچ جائیں چوڑائی میں
پس یہ حد چہرہ کی ہے اور اس کے علاوہ چہرہ سے خارج ہے پس چہرہ کی اس حد تک اندر کے
تمام حصہ کا دھونا واجب ہے اگر بال برابر بھی جگہ خشک رہ جائے گی تو وضو باطل ہو
گا لہذا وہ زیور جو ناک کا بعض حصہ چھپائے ۔ وضو کے وقت ان کا اتارنا ضروری ہے اگر
نیچے پانی نہ پہنچ سکے اسی طرح کوئی ایسی چیز منہ پر لگی ہو جو پانی پہنچنے سے روکاوٹ
کا باعث بنے تو اس کو دور کرنا ضروری ہے بعض اوقات آنکھوں سے غلیظ مواد خارج کر
کناروں پر جم جاتے ہیں اور صبح سویرے اٹھ کر خیال نہین رہتا اور انسان وضو کر لیتا
ہے اور وہ مواد ویسے کے ویسے موجود رہ جاتے ہیں تو دریں صورت وضو صحیح نہ رہے گا
پس چاہیے کہ پہلے منہ صاف ہو اور پھر وضو کرے تا کہ منہ کے ہر حصہ تک پانی ٹھیک
پہنچ سکے ۔
مسئلہ: آنکھ اور منہ کا وہ حصہ جو بند کرنے کے بعد
سامنے والے کو نظر نہیں آتا وضو میں اس کا دھونا واجب نہیں اور اسی طرح ناک کے
اندر کا حصہ بھی دھونا ضروری نہیں کیونکہ وجہ کا معنی ہے۔ مایواجہ بہ یعنی منہ کا
وہ حصہ جو سامنے ہو۔
مسئلہ: کم از کم پانی میں جو چلو میں لے کر منہ پر
ڈالا جائے اتنا ہو کہ اوپر جاری ہو جائے اور دھونا صادق آئے اگر جاری نہ ہو سکے
اور ایسے منہ کو تر کر لیا جائے تو وضو صحیح نہ ہو گا۔
مسئلہ: بفرمان خداوندی غسل ایک دفعہ پانی ڈالنے سے
صادق آ جاتا ہے لہذا ایک دفعہ منہ کو دھونا واجب ہے ۔
مسئلہ: منہ دھونے سے قبل مستحب ہے کہ پہلے دونو
ہاتھوں کو کلائیوں تک دھو لے اور تین دفعہ منہ میں پانی ڈال کر کلی کرے اور پھر
تین مرتبہ تاک میں پانی ڈالے اور مسواک کرنا بھی سنت موکدہ ہے۔
مسئلہ: جب منہ دھونے کےلئے پانی دائیں ہاتھ کے چلو
میں لے تو منہ پر ڈالنے سے قبل نیت وضو کی ۔ قربۃ الی اللہ کرے ۔ ورنہ وضو صحیح نہ
ہو گا اور بہ نیت اول سے آخر تک موجود رہنی چاہیے نیز نماز واجب یا سنت یا دیگر وہ
امور جن کےلئے وضو کیا جاتا ہے سب کےلئے قربت کی نیت سے وضو کرنا درست ہے اور اسی
وضو سے نماز واجبہ پڑھی جا سکتی ہے۔
مسئلہ: منہ کا وہ حصہ جو گھنے بالوں کے نیچے چھپا ہوا
ہو جیسے داڑھی مونچھوں یا ابروؤں کے نیچے کا حصہ تو اس تک پانی پہنچانا ضروری نہیں
بلکہ اوپر سے پانی کا جاری کر دینا کافی ہے لیکن اگر بال گھنے نہ ہوں اور چمڑا نظر
آ رہا ہو تو اس کا دھونا واجب و ضروری ہے ۔
مسئلہ: منہ پر اوپر سے پانی ڈال کر نیچے کی طرف لانا
چاہیے ۔ الٹ کرنے سے وضو باطل ہو گا چنانچہ معصومینؑ سے ایسا ہی مروی ہے۔
مسئلہ: ہاتھوں کے دھونے کی ابتداء کہنیوں سے کیا جائے
اور انگلیوں کے سرے تک دھوئے پس اگر ہاتھ سے ابتداء کر کے الٹا دھوئے گا تو وضو
باطل ہو گا۔ اور پہلے دائیں ہاتھ اور پھر بائیں ہاتھ کو دھونا واجب ہے۔
مسئلہ: انگوٹھی یا ہاتھ میں کوئی دوسرا زیور موجود
ہوتو اس کے نیچے پانی پہنچانا واجب ہے ورنہ اس کا اتارنا ضروری ہو گا تا کہ وہ خشک
نہ رہ جائے۔
مسئلہ: کہنی پر مرد پشت کی طرف سے پانی ڈالیں اور
عورتیں اندر کی طرف سے پانی ڈالیں جس طرح کافی میں امام رضا علیہ السلام سے منقول
ہے ۔
مسئلہ: ناخن پالش کی موجودگی میں وضو عورت کا درست
نہیں ہو سکتا کیونکہ پالش کی وجہ سے ناخن تک پانی نہیں پہنچ سکتا لہذا مومن عورتوں
کو چاہیے کو ناخن پالش کے استعمال سے بچیں
مسئلہ: مسح کرتے وقت نیا پانی لینے کی ضرورت نہیں پس
منہ ہاتھ دھونے کے بعد جو تری ہاتھوں پر موجود ہو ، اسی تری سے مسح کرنا چاہیے اگر
نیا پانی استعمال کرے گا تو وضو باطل ہو جائے گا نیز غسل اور مسح کے معنی میں فرق
ہے عمل میں بھی وہی فرق ملحوظ رہے کہ جن اعضا ء کو دھونا واجب ہے ان پر پانی اس
طرح ڈالے کہ دھونا صادق ئے اور جن اعضاء کا مسح کرنا ہے ان پر مسح اس طرح کرے کہ
پانی جاری نہ ہوتا کہ دھونا صادق آئے۔
مسئلہ : سر پر مسح کرتے وقت یہ خیال رہے کہ چمڑے تک
تری کے پہنچنے میں کوئی روکاوٹ کپڑا یا دوائی وغیرہ نہ ہو ورنہ مسح نہ ہو گا سر کے
بال اگر چھوٹے ہوں تو ان پر مسح بھی ہو سکتا ہے۔
مسئلہ: معمولی تیل مسح کرنے سے مانع نہیں ہوتا ہاں
اگر اتنا زیادہ ہو کر چمڑے تک تری کو نہ پہنچنے دے تو اس کی چکناہٹ کا دور کرنا
ضروری ہے ۔
مسئلہ: سر کا مسح کرنا اوپر سے نیچے کی طرف کرنا افضل
ہے اور الٹ کرنے سے بھی وضو باطل نہیں ہوتا ۔
مسئلہ: مروی یہ ہے کہ لمبائی میں سر کی چوتھائی یعنی اگلا حصہ اور چوڑائی
میں تین ملی ہوئی انگلیوں کے برابر کا مسح سر کا کم از کم ہے۔
مسئلہ: اگر ہاتھوں پر تری نہ رہے اور خشک ہو جائیں تو
آنکھوں کی پلکوں ، ابروؤں یا داڑھی سے تری حاصل کر کے مسح کرلے اور اگر یہ بھی خشک
ہو چکے ہوں تو وضو از سر نو کرے ۔
مسئلہ: وضو میں سوالات شرط ہے یعنی ایک عضو کے بعد
دوسرے عضو تک پہنچنے میں اتنی تاخیر نہ کرے کہ پہلا خشک ہو جائے ورنہ وضو باطل ہو
جائے گا۔
مسئلہ: پاؤں کا مسح کرتے وقت پہلے دائیں پاؤں کا پھر
بائیں پاؤں کا مسح کرے اور دونوں پاؤں کا مسح اکٹھا بھی کیا جا سکتا ہے لیکن بائیں
پاؤں کو دائیں سے پہلے کرنا ٹھیک نہیں ہے ورنہ باطل ہو جائے گا۔
مسئلہ: افضل یہ ہے کہ پاؤں کا مسح پوری کف دست سے کیا
جائے۔
مسئلہ: پاؤں کا مسح انگلیوں سے شروع کر کے ٹخنوں تک
کرے اگر لٹ کرے تو بھی وضو باطل نہ ہو گا چنانچہ صریح لفظوں میں امام جعفر صادق
علیہ السلام سے منقول ہے لا بس بمسح الوضوء مقبلا و مدبرا یعنی وضو میں مسح سیدھا
یا الٹا دونوں طرح جائز ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
مسئلہ: وضو میں ترتیب واجب ہے کہ پہلے منہ کو دھوئے
پھر دائیاں ہاتھ پھر بایاں ہاتھ پھر سر کا مسح پھر دائیں پاؤں کا مسح اور آخر میں
بائیں پاؤں کا مسح اگر ترتیب کو خراب کرے گا تو وضو باطل اگر کوئی جزو بھول جائے
تو پھر وضو کو وہاں سے دہرائے جہاں سے ترتیب ٹھیک ہو سکتی ہے۔
مسئلہ: اگر وضو کے درمیان میں کسی عضو میں شک پڑ جائے
تو اس کو پھر کرے اور اس کے بعد حسب ترتیب وضو مکمل کرے لیکن اگر وضو سے فارغ ہونے
کے بعد کسی عضو میں شک ہو جائے تو اس کی پرواہ نہ کرے ۔
مسئلہ: وضو میں دھونے یا مسح کرنے کے مقام پر اگر
کوئی حائل موجود ہوت و جسم تک تری پہنچانے کے لئے اس کو دور کرنا واجب ہے۔
مسئلہ: اگر وضوء کا یقین ہے اور حدث کا شک ہوتو وہ
اپنے آپ کو باوضو سمجھے لیکن اگر حدث کا یقین اور وضو کا شک ہو تو وضو واجب ہے اور
اگر دونوں کا یقین اور کے مقدم و موخر ہونے کا علم نہ ہو تو پھر بھی وضو واجب ہے۔
وسائل میں حضرت امام جعفر الصادق علیہ السلام سے مروی
ہے کہ ایک روز حضرت امیر علیہ السلام اپنے فرزند محمد بن حنفیہ کے ہمراہ سائب شخص
کے لئے بیٹھے ہوئے تھے تو آپ نے فرمایا اے فرزند محمدؐ ؛ پانی لاؤ تا کہ نماز کے
لئے وضو کریں پس محمد نے پانی پیش کیا آپ نے ہاتھ پر پانی ڈالا اور دعا پڑھی :
بسم اللہ و باللہ والحمد للہ الذی جعل الماء طھورا
ولم یجعلہ نجسا
اور طہارت کے وقت یہ دعا پڑھی
الھم حصن فرجی و اعفہ واستر عورتی و حرمنی علی النار
پھر کلی کے وقت یہ دعا پڑھی
الھم لقنی حجتی یوم القاک و اطلق لسانی بذکرک
پھر ناک میں پانی ڈالا اور یہ دعا پڑھی۔
الھم لا تحرم علی ریح الجنۃ و اجعلنی ممن یشم ریحھا و
روحھا و طیبھا
پھر منہ پر پانی ڈالا اور یہ دعا پڑھی
اللھم بیض وجھی یوم تسود فیہ الوجوہ ولا تسود وجھی
یوم تبیض فیہ الوجوہ
پھر دایاں ہاتھ دھویا اور یہ دعا پڑھی
اللھم اعطنی کتابی بیمینی والخلد فی الجنان بیساری و
حاسبنی حساباً یسیراً
پھر بایاں ہاتھ دھویا اور یہ دعا پڑھی
اللھم لا تعطنی کتابی بشمالی ولا تجعلھا مغلولۃً الی
عنقی اعوذ بک من مقطعات النیران
پھر سر کا مسح کیا اور یہ دعا پڑھی
اللھم غشنی برحمتک و برکاتک و عفوک
پھر پاؤں کا مسح کیا اور یہ دعا پڑھی
اللھم ثبتنی علی الصراط یوم تزل فیہ الاقدام و اجعل
سعیی فیما یرضیک عنی
پس سر اوپر کو بلند کیا اور محمد سے فرمایا اے فرزند
جو شخص میرے وضو کی طرح وضو کرے اور یہی دعائیں پڑھے تو خداوند کریم وضو کے ہر
قطرہ سے ایک ایک فرشتہ پیدا کرے گا جو قیامت تک اس کی تسبیح و تکبیر میں مشغول ہو
گا اور اس کا ثواب تا قیامت اس وضو کرنے والے کے نامہ اعمال میں لکھا جائے گا۔ بہر
کیف مسح کرنا پاؤں کا مذہب اہلبیت میں ثابت ہے ۔ سر کا مسح کے بعد پاؤں کا مسح
کرنا چاہیے۔