التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

پیش لفظ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 الحمد اللہ رب العالمین و صلی اللہ علی محمد اوالہ الظاھر ین اما بعد

اس دور پر آشوب میں جب کہ روز افزوں لادینی رجحان ہمہ گیر اتبا ع خواہش نفس کا طوفان بن کے بڑی سے بڑی چٹان کو اپنے راہ میں جمنے نہیں دیتا کسی دینی خدمت کی طرف عنان توجہ موڑنا ایک ایسا مرحلہ ہے جو کسی صورت میں نظر انداز بھی نہیں کیا جاسکتا اب جب کہ دین کا جوا گردن سےاتار پھینکنے کے لئے طبائع بے قرار ہیں دین کا علم بلند کرنے والے جائز و ناجائز تنقید کا نشانہ ہیں دین اوراس کی تعلیمات کو قصہ پارینہ سمجھنے والوں کو  بہتات ہے جاہل کے لئے ہر رطب و یابس کے اگلنے پر کوئی پابندی نہیں اوراہل علم کلمہ حق کہنے میں ترساوں لرزاں ہیں جذبات کی رو میں بہنے والے عوام کے ہاتھ میں فتوی ہے وہ جس عالم کو چاہیں بے دین کہہ دیں چنانچہ وہ ہر وقت قیودین سے آزادی کی خاطر علمائے اعلام کے عبوب کی قبروں کو کھودنا اپنے لئے مایئہ افتحار سمجھتے ہیں دریں حالات علماءکے لئے اپنی ضمیر کی آواز بلند کرنا اورقلم کو ہاتھ میں تھا م لینا جہاد عظیم ہے میں اگرچہ اپنی بے بضاعتی کا اعتراف کرتا ہوں تاہم ناممکن ہے کہ سیلاب درواں میں خس و خاشاک کی طرح بہہ جانا اپنے لئے گوارا کر لوں عقائد مذہب حق کو وقتی تقاضوں کی دعوت عمل پر لبیک کہتے ہوئے مدلل و مبرین اور  آسان و سلیبس اردو زبان میں پیش کر کے حتی الامکان اپنے اوپر عائد شدہ فریضہ سے عہدہ برآ ہونے کی کوشش کرتا ہوں اوراس عجالہ نافعہ کو بارگاہ حضرت حجت عجل اللہ فرجہ کی نذر کرکے اللہ سے دعا مانگتا ہوں کہ مومنین کو اس سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہونے کی سعادت بخشے اوراس کو میرے لئے اور میرے اساتذہ و والدین کے لئے صدقہ جاریہ قرار دے۔

حسین بخش عفی عنہ مولف کتاب

ایک تبصرہ شائع کریں