حیض کا بیان
اس خون کو پنجابی میں ماہواری یا کپڑے ہونا کہا جاتا
ہے یہ خون عورت کے بلوغ کی نشانی ہے گرم مزاج، سرد مزاج اور متوسط مزاج ہونے کے
اعتبار سے ایام ماہواری کم و بیش ہوا کرتے ہیں لیکن کم از کم اس کی مدت تین دن اور
زیادہ سے زیادہ اس دن ہوتی ہے پس اگر خون تین دن سے کم ہوتو خون حیض نہ ہوگا بلکہ
اسے استحاضہ کو خون کہیں گے اور اگر دس دن سے زیادہ ہوتو وہ بھی خون استحاضہ ہو
گا۔
مسئلہ: خون حیض کی علامات تین ہیں۔
·
درخ گاڑھا ہو گا۔
·
گرم ہو گا۔
·
تیزی اور قوت سے نکلے گا۔
مسئلہ قرشیہ ہاشمیہ عورت کےلئے خون حیض کی حد ساٹھ
سال تک ہے اور باقی عورتوں کےلئے بپاس سال تک ہے۔
مسئلہ: جس عورت کو بیماری کے طور پر خون مسلسل شروع
ہو جاتے تو اس کی تین صورتیں ہیں۔
پہلی صورت ۔
اگر صاحب عادت ہے تو عادت کے ایام کو ایام حٰض سمجھے
باقی خون کو خون استحاضہ قرار دے۔
دوسری صورت
اگر صاحب عادت نہیں تو اگر خون میں تمیز کر سکتی ہے
پس خون حیض کی صفات والے خون کو حیض سمجھے اور باقی کو استحاضہ سمجھے بشرطیکہ صفات
حیض والا خون 2 دن سے کم اور دس دن سے زیادہ نہ ہو اور ورنہ فاقد تمیز سمجھی جائے
گی۔
تیسری صورت
فاقد عادت اور فاقد تمیز ہونے کی صورت
میں روایات پر عمل کرے پس ایک مہینہ میں تین دن اور دوسرے مہینہ میں دس دن حیض
سمجھے اور ان دنوں کا تعین اس کے اپنے اختیار میں ہے اور باقی خون کو استحاضہ
سمجھے یا ہر ماہ میں چھ چھ یا سات سات دن حیض قرار دے اور باقی کو استحاضہ سمجھے۔
مسئلہ: ایام حیض میں عورت کے ساتھ جماع کرنا حرام ہے
اگر کوئی شخص عمداً ایسا ترے تو اس پر کفارہ واجب ہے اگر حیض کے پہلے حصہ میں جماع
کرے تو اس کا کفارہ ایک دینار اور اگر درمیان میں کرے تو اس کا کفارہ نصف دینار
اور اگر آخر حصہ میں کرے تو اس کا کفارہ دینا کا چوتھا حصہ ہے۔
مسئلہ: خون حیض ختم ہو جانے کے بعد اور غسل سے پہلے
عورت کے ساتھ مجامعت کرنا جائز ہے لیکن غسل سے پہلے مکروہ ہے لہذا بہتر ہے کہ غسل
سے پہلے مجامعت نہ کرے اور بعض علماء کے نزدیک غسل سے پہلے عورت کے مجامعت کرنا
حرام ہے۔
مسئلہ: خون حیض کم از کم تین دن اور زیادہ سے زیادہ
دس دن آتا ہے اور ہر تندرست عورت کو ایک ماہ میں ایک دفعہ آتا ہے اور ایک حیض سے
دوسرے حیض تک کم از کم مدت دس دن ہے اگر ایک حیض کے بعد دس دن گزرنے سے پہلے کوئی خون
آ جائے تو وہ یقیناً استحاضہ کا خون ہو گا اور حائض عورت کے احکام یہ ہیں۔
1. وہ عبادات جن میں طہارت شرط ہے مثلاً
نماز ، روزہ وغیرہ ، حیض والی عورت پر انکا بجا لانا حرام ہے۔
2. اللہ تعالی کے اسمائے طاہرہ کو مس کرنا
اس پر حرام ہے بلکہ انبیاء طاہرین اور آئمہ معصومین کے ناموں کو مس کرنے سے بھی
پرہیز کرے نیز قرآن مجید کے حروف سکنات وغیرہ کو بھی مس نہیں کر سکتی۔
3. سورتیں جن میں سجدہ واجب ہے حائض عورت پر
ان کا پڑھنا حرام ہے اور باقی قرآن کا پڑھنا مکروہ ہے البتہ ہر نماز کے وقت وضو کر
کے اپنے مصلا یا جائے نماز پر بیٹھ کر نماز کے برابر ذکر خدا کرنا اس کےلئے مستحب
ہے۔
4. مساجد میں ٹہھرنا اس کےلئے حرام ہے۔
5. کوئی چیز مسجد میں رکھنا اس کےلئے حرام
ہے جبکہ مستلزم دخول مسجد ہے۔
6. مسجد الحرام اور مسجد نبی ، ان دو مسجدوں
سے گزرنا بھی حیض والی عورت پر حرام ہے ۔
7. حیض والی عورت کے ساتھ مجامعت کرنا حرام
ہے اور بصورت مجامعت کفارہ واجب ہے ۔
8. ایام حیض میں عورت کو طلاق دینا جائز
نہیں ہے بشرطیکہ
i.
مدخولہ ہو
ii.
حاملہ نہ ہو
iii.
مرد حاضر ہو یعنی عورت کے حالات سے مطلع ہونا اس کےلئے آسان ہو اور ان شرائط
کے نہ پائے جانے کی صورت میں حیض والی عورت کو طلاق دی جا سکتی ہے یعنی اگر عورت
مدخولہ نہ ہو یا مدخولہ حاملہ ہو یا یہ کہ مرد کےلئے اس کے حالات سے مطلع ہونا
دشوار ہو تو ان حالتوں میں عورت کو طلاق دینا جائز ہے خواہ ایام حیض ہی میں کیوں
نہ ہو۔
9. خون کے اختتام کے بعد غسل حیض عبادات
مشروطہ با طہارت کےلئے واجب ہوا کرتا ہے۔
مسئلہ: غسل حیض کی
کیفیت مثل غسل جنابت کے ہے یعنی اگر ارتماسی ہو تو نجاست دور کرنے کے بعد نیت کر
کے ایک دفعہ غوطہ لگانا کافی ہے اور غسل ترتیبی ہے تو نجاست دور کرنے کے بعدنیت کر
کے پہلے سر اور پھر دایاں حصہ بدن پر پانی جاری کرے اس طرح کہ کوئی جگہ خشک نہ رہ
جائے اور آخر میں بایاں حصہ پر پانی بہا لے۔
مسئلہ: عورت کے وہ
زیورات جو چمڑے تک پانی پہنچنے سے مانع ہیں غسل کے وقت ان کا اتارنا واجب ہے تا کہ
پانی چمڑے تک پہنچ جائے ورنہ غسل باطل ہو گا۔
مسئلہ: ناخن پالش جس کا
عورتوں میں آجکل عام رواج ہے اس کی موجودگی میں غسل کی صحت مشکل ہے کیونکہ ناخن کے
اوپر یہ ایک علیحدہ پردہ سا ہوتا ہے ناخن تک پانی پہنچنے سے مانع ہے۔
مسئلہ: سر کے بال اگر
گندھے ہوں اور پانی جسم تک پہنچنے سے مانع ہوں تو ان کا کھولنا بوقت غسل واجب ہے۔
مسئلہ: غسل حیض کے پہلے
یا بعد وجو کرنا عبادت کےلئے ضروری ہوا کرتا ہے اور بہتر ہے کہ وجو بقصد قربت پہلے
کی جائے۔
مسئلہ: غسل کے بعد عورت
پر وہ چیزیں سب حلال ہو جائیں گی جو بوضہ حیض کے اس پر حرام تھیں سوائے عبادات کے
جو مشروط بالوضو ہیں کیونکہ ان کےلئے وضو بھی ضروری ہے خواہ غسل سے پہلے کرے یا
بعد کرے پہلے کرنا بہتر ہے۔
مسئلہ: اگر غسل کرنا
کسی وجہ سے ممکن نہ ہوتو تیمم بدلے غسل کے کرنا چاہیے اور اگر وجو بھی ناممکن ہوتو
دوسرا تیمم بدلے وضوء کے کرنا ضروری ہو گا۔
10.ایام حیض میں عورت سے جو نمازیں ترک ہوئی
ہیں ان کی قضاء واجب نہیں لیکن روزے قضا ہوئے ہوں تو ان کی قضا واجب ہے ۔
11.جو عورت طہارت و نجاست کی پرواہ کرنے
والی نہ ہو اور ایام حیض میں اپنے لباس و بدن وغیرہ کی آلودگی سے بچانے میں احتیاط
نہ کرتی ہو ۔ ایسی عورت کی جھوٹی چیز یا اس کا پس خوردہ استعمال کرنا مکروہ اسی
طرح حیض والی عورت کےلئے مہندی لگانا، قرآن کا پڑھنا، سجدہ والی صورت کے علاوہ اور
قرآن کے حروم کے علاوہ اوراق کی خالی جگہ یا جلد کو مس کرنا مکروہ ہے۔
12.حائض عورت کےلئے مہندی لگانا یا کوئی
خضاب کرنا مکروہ ہے۔
مسئلہ: اگر ایام حیض
میں کوئی عورت مر جائے تو اسے غسل حیض دینے کے بعد غسل میت دیا جائے ۔
مسئلہ: اگر وقت نماز
داخل ہونے کے بعد اتنی مقدار گزر جائے کہ وہ باشرائط نماز پڑھ سکتی ہو اور اس کے
بعد اس کو حیض شروع ہو جائے تو اس پر اس نماز کی قضا واجب ہے اسی طرح اگر آخری وقت
میں حیض ختم ہو جائے اور اتنا وقت باقی ہو کہ غسل اور باقی نماز کی شرائط حاصل
کرنے کے بعد ایک رکعت نماز وقت کے اندر ادا کر سکتی ہے ہو لیکن نہ کرے تو اس پر اس
نماز کی قضا بھی واجب ہے۔
مسئلہ: من جملہ علامات
بلوغ کے عورت کو حیض آنا بھی ایک علامت بلوغ کی ہے۔
مسئلہ: ایام حیض میں
اگرچہ عورت پر نماز معاف ہے لیکن اس کےلئے مستحب ہے کہ وقت نماز میں وضو بقصد قربت
کر کے مصلائے عبادت پر بیٹھ کر نماز کی مقدار کے برابر ذکر خدا کرتی رہے ۔
مسئلہ: ہر عورت بالغہ
پر واجب ہے کہ مسائل حیض سیکھے اور ان پر عمل کرے۔