التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

مصلی اور منبر

عوام میں دینی حس کو بیدار کرنے اور اسے بیدار رکھنے کے لیے اسلام میں دو مرکز مقرر ہیں ایک مسلی اور دوسرا منبر لیکن دوسرے کا دائرہ  اثر پہلے سے کہیں زیادہ وسیع ہے کیونکہ پیش نماز جسے مصلی سپرد کیا گیا ہے وہ   صرف  اسی حلقہ کی اصلاح ک یکفایت کر سکتا ہے  جو اس کے مصلی کے زیر اثر ہوں یعنی پیش نماز صرف اپنے مقتدی حضرات تک تعیلمات اسلامیہ کی تبلیغ و ترویج کر سکتا ہے   لیکن بخلاف اس کے مبر پر آئے والال دور دور تک اطراف مملکت اور اکناف سلطنت کے اندر دینی آواز کو پہنچا سکتا ہے اور نہیات خوش اسلوبی سے یہ  فریضہ انجام دے سکتا ہے پس صاحب منبر پر صاحب مصلی کی بہ نسبت زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے ہمارے فرقہ میں بحمد اللہ مصلے کا تقدس آج تک باقی ہے اور اس کو آج تک کوئی فرد چیلنج کرنے کی جرات نہ کر سکا پس شیعہ مذہب میں کسی فاسق و فاجر نیز نا اہل کو مصلی سنبھالنے کی اجازت نہ دی گئی اورتمام اہل مذہب اس قانو ن شرعی کی پاسداری اور پاسبانی کرتے چلے آئے لیکن منبر کا تقدس جو ذمہ داری کے لحاظ سے مصلی سے کہیں زیادہ ہونا چاہئیے تھا وہ ہمارے ہاں بالکل مفقود ہو گیا چنانچہ اہل کی بجائے نااہل کثرت سے منبر پر آگئے اورعدالت بلکہ شرافت کو پائے تحقیر سے ٹھکرادینے والے بعض حضرات بھی منبر کے اجارہ دار ین گئے جس کے نتیجے میں منبر غیر ذمہ دارانہ بیانات خود ساختہ خیالات اور عامیانہ تو ہمات کی نشرواشاعت کا اڈابن گیا اور حد ہوگئی کہ اسلامی ابتدائی اور ضروری مسائل سے تہی دامن لوگ اپنی چرب کے لسانی کے بل بو تہ پر مذہب کے ٹھیکہ دار متصور ہوئے جو بات دل میں آئی اسے عقیدہ مذہب کہہ کر انہوں نے منبر ہر اچھالنے کی ناپاک کوشش کی اور جس بات پر عوام کی جانب سے داد مل گئی خواہ کتنی بے تکی ہی کیوں نہ ہو اسے مسلمات مذہب میں بے شمار کیا جانے لگا حتی کہ غیر متشرع لوگ جن کا منبر پر قدم رکھنا ہی منبر کی توہین ہے ان کو منبر کی زینت کہا جانے لگا جب مذہب ان مصائب سے دو چار ہوا تو درد دین رکھنے والا گروہ تڑپ اٹھا علما نے ان دھاندلیوں کے خلاف آواز بلند کی منبر کی حرمت کی دھائی دی اہل قلم نے قلم ہاتھ میں لیا ور اخبارات و رسائل کے ذریعے سے مذہبی حقائق کی اشاعت کی لیکن لا دینیت کا بڑھتا ہوا سیلاب روز افزوں بڑھتا چلا گیا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ عوام جری ہو گئے انہوں نے اپنے خیالات اورجذبات کو حقیقی مذہب کا نام دینا شروع کر دیا وہ علمائے اعلام جنہوں نے مذہب کے اصول و فروع کی خاطر اپنی زندگیاں وقف کر دیں شب و روز جن کا مشغلہ تحقیق و تدقیق اور تدریس و تصنیف ہے او رجن کی طر ف رجوع کرنے کا عوام کو آئمہ نے حکم دیا تھا ایسے علما ءپرعوام اپنے خیالات کو مسلط کرنا ضروری سمجھتے ہیں پس ان کے نزدیک و ہ عالم گردن زدنی ہے جو ان کی ہاں میں ہاں نہ ملائے غیر ذمہ دار خطیب حضرات جو غلط سلط خیالات کا بیج بو کر ان کو مذہب کے حقائق سے دور رکھے ہوئے تھے انہوں نے علما ءپر زیادہ سے زیادہ کیچڑا چھالنے میں اپنی بہتری سمجھی کیونکہ انہیں خطرہ تھا کہ اگر منبر کو صرف اہل تک محدود کر دیا گیا تو ہمارے حلوے مانڈے خطرہ میں پڑ جائیں گے پس انہوں نے عقائد مذہب کو زیادہ سے زیادہ زخمی کرنے کے اقدامات شروع کر دئیے تاکہ عوام جذبات کی رومین ان کے پیچھے وہیں اورعلمائے سے ان ککا تنفر بڑھتا جائے اب حالت یہ ہے کہ جب ایک غیر شیعہ کو کسی شیعہ مجلس میں جانے کا اتفاق ہونا ہے تو وہ خلافت اورفدک کے مختلف فیہ مسائل کو سوچنے کی بجائے توحید کے متفقہ مسئلہ میں بھی شش و پنج ہو پلٹتا ہے اور ی وہ حقیقت ہے جو اہل دل پر روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ 

ایک تبصرہ شائع کریں