میت کو نہلانے کے بعد کسی پاک چیز پر کفن میں سے ایک چارد بچھائیں اور اس پر دوسری چادر بچھائیں اور پھر کفنی کا گریبان پھاڑ کر آدھا چادر پر پھیلائیں اور آدھا حصہ سر کی طرف رہنے دیں پھر پاؤں کی طرف لنگی ناف سے لے کر پنڈلیوں تک پچھائیں اور ران پیچ کے دونوں گوشوں سے کمر کو باندھ کر ناف کے اوپر گرہ لگا دیں اور بہت ساری روئی لے کر آگے پیچھے رکھیں اور تھوڑا سا کافور چھڑک دیں پھر ران پیچ کے دوسرے سرے کو گرہ کے نیچے سے مثل لنگوٹ کے نکال دیں تا کہ روئی ہلنے نہ پائے اور میت کے دونوں پاؤں ملا دیں باقی ران پیچ کا کپڑا دونوں ٹانگوں پر لپیٹ دیں پھر یہ نیت کریں کہ حنوط کرتا ہوں اس میت کو واجب قربۃ اللہ ، سات اعضاء جو سجدہ کے ہیں یعنی پیشانی ، دونوں ہتھیلیاں، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں کے انگوٹھوں پر کافور کا ہاتھ سے بارک کر کے لگائیں اور مل دیں اگر کچھ کافور مقدار سے زیادہ ہو اور بچ رہے تو سینہ پر ڈال دیں اور مستحب ہے کہ میت کی ناک پر بھی کافور مل دیا جائے اس کے بعد لنگی باندھ دیں کہ گرہ کمر پر آئے۔ بعد میں عمامہ سر پر باندھ دیں ۔ عمامہ باندھنے کے بعد دائیں طرف کا سرا بائیں طرف اور بایاں دائیں طرف ڈال دیں لیکن اگر عورت کی میت ہو تو عمامہ کی بجائے رومال یا اوڑھنی سر پر باندھ دیں پھر نیت کریں کہ کفن دیتا ہوں میں اس میت کو واجب قربۃً الی اللہ اور چادر کا بایاں حصہ میت پر ڈال دیں پھر دایاں حصہ اور سر کی جانب سے چادر کا اکٹھا کر کے باندھ دیں بعد میں نماز جنازہ پڑھ کر میت کو مقام قبر پر لے جا کر دفن کر دیں واجب ہے کہ میت کو قبر میں داہنی طرف رو بقبلہ لٹائیں۔
تنبیہ : کفن کےلئے کم از کم تین کپڑوں کا ہونا ضروری
ہے جو کہ واجب ہیں۔
1. پیراہن یعنی کفی
2. لنگ ناف سے زانو تک یعنی گھٹنوں تک
3. اتنی لمبی چادر جس میں میت کا تمام جسم
چھپ جائے اور باقی تین کپڑے مرد کے لئے سنت ہیں۔
a. عمامہ
b. ران پیچ
c. یمنی چادر
اگر یمنی چادر مہیا نہ ہو سکے تو کوئی دوسری مگر لکھی
ہوئی چادر مستحب ہے عمامہ کم از کم تین گز لمبا اور چادر گرہ چوڑا ہونا چاہیے اور
ران پیچ کم از کم ڈیڑھ بالشت جوڑا اور اتنا لمبا ہونا چاہیے جس سے رانیں لپٹیں
جائیں اور عورت کےلئے
1. رومال جو کم از کم ایک گز ہو۔
2. چادر
3. ران پیچ
4. سینہ بند جو کہ اتنا لمبا اور چوڑا ہو جس
سے عورت کا سینہ بآسانی ڈھاپنا جا سکے سنت ہے۔
مسئلہ: کافور کی مقدار کم از کم چار تولہ ہر میت کےلئے
ہونی چاہیے۔
مسئلہ: اگر چار ماہ سے کم عمر بچہ ساقط ہو جائے تو صرف
ایک پاک کپڑے میں لپیٹ کر ہی دفن کر دینا کافی ہے باقی خواہ کسی عمر کی میت ہو
تمام کےلئے احکام کفن پورے کرنے چاہیں اور اگر میت چھ سال سے کم عمر کی ہوتو اس کو
بغیر نمازہ جنازہ بھی دفن کر سکتےہیں لیکن سنت ہے کہ اس کی بھی نماز جنازہ پڑھی
جائے۔