التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

رکوع 3 خیر امت

كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِٱلْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ ٱلْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ ۗ وَلَوْ ءَامَنَ أَهْلُ ٱلْكِتَـٰبِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُم ۚ مِّنْهُمُ ٱلْمُؤْمِنُونَ وَأَكْثَرُهُمُ ٱلْفَـٰسِقُونَ (110) لَن يَضُرُّوكُمْ إِلَّآ أَذًى ۖ وَإِن يُقَـٰتِلُوكُمْ يُوَلُّوكُمُ ٱلْأَدْبَارَ ثُمَّ لَا يُنصَرُونَ (111) ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ ٱلذِّلَّةُ أَيْنَ مَا ثُقِفُوٓا۟ إِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ ٱللَّهِ وَحَبْلٍ مِّنَ ٱلنَّاسِ وَبَآءُو بِغَضَبٍ مِّنَ ٱللَّهِ وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ ٱلْمَسْكَنَةُ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُوا۟ يَكْفُرُونَ بِـَٔايَـٰتِ ٱللَّهِ وَيَقْتُلُونَ ٱلْأَنۢبِيَآءَ بِغَيْرِ حَقٍّ ۚ ذَٰلِكَ بِمَا عَصَوا۟ وَّكَانُوا۟ يَعْتَدُونَ (112) 
ہوتم (محمدوال محمد ) بہتر گروہ  جوبھیجا گی الوگوں کی ہدایت کے لئے اچھیباتوں کاحکم دیتے ہو اوربری باتوں سے منع کرتے ہو اوراللہ پر ایمان رکھتے ہو اوراگر ایمان لاتے اہل کتاب تو ان کے لئے اچھاہوتا ان میں سے بعض ایمان دار ہیں اوزیادہ فاسق ہیں (110) (یہودی لوگ ) ہرگز تمہیں ضرر نہ پہنچا سکیں گے سوائے زبانی تکلیف کے اوراگر تم سے ملیں بھی تر پشت دکھا کر بھاگ جائیں گے پھر ان کی کوئی مدد نہ کی جائے گی (111)لازم کردی گئی  ان پر ذلت جہاں کہیں وہ پائے جائیں مگر ساتھ عہد اللہ کے اورعہد مسلمانوں کے (جبکہ ذمی بن جائیں)  اوربازگشت ان کی خدا کا غضب ہوگا اورلازم کردی گئی  ان پر خواری یہ اس لئے کہ وہ انکار کرتے تھے ایات خدا کا اورمار ڈالتے تھے اللہ کے نبیوں  کو ناحق یہ اس لئے کہ وہ نافرمان اورسرکش تھے  (112)

رکوع۳

کنتم خیر امۃ  تفسیر برہان اورتفسیر صافی میں قمی سے منقول ہے کہ حضرت صادق علیہ السلام  کے سامنے یہ ایت اس طرح پڑھی گئی تو آپ نے فرمای ابہترین  امت یہی ہے جس  نے حضرت امیرالمومنین علیہ السلام اورن کے دونوں فرزندوں  کو بے جرم و گناہ شہید کرڈالا قاری نے دریافت کیا حضور پھر یہ ایت کس طرح اتری ہے تو آپ نے فرمایا خیر ائمتہ  کے لفظ سے نازل ہوئی ہے (یعنی تم بہترین امام وہادی ہو ) چنانچہ بعد یں امر بالمعروف ونہی عن المنکر  اورایمان باللہ کی صفات  سے ان کی مدح فرمائی ہے تفسیر عیاشی سے حضرت علی علیہ السلام  کی قرات میں بھی خیر ائمتہ  منقول ہے نیز حضرت صادق علیہ السلام  سے منقول ہے کہ یہ ایت جناب رسالتماب اوراس کے اوصیاء طاہرین کے حق میں نازل ہوئی اورموجودہ قرات کے اعتبار سے اگر لفظ امت بھی ہو تو اس سے عام امت ہرگز مراد نہیں لی جاسکتی بلکہ وہ    امت مراد ہے جو حضرت ابراہیم نے اپنی دعا میں عرض کی تھی
ومن ذرتینا امتہ مسلمتہ اوروہ صرف حضرت رسالتماب اوران کی عترت طاہرہ میں ارغالبا روایات گزشتہ میں خیر ائمتہ بطور تفسیر وتاویل کے کہا گیا ہے جیسا کہ پہلی روایت میں حضرت امام جعفر صادق  علیہ السلام کا تعلیلی بیان اس کا شاہد ہے یعنی خیر امتہ کا مصداق عام امت ہرگز نہیں ہوسکتی جنہوں نے ائمتہ طاہرین کے بے گناہ خون میں آپنے اہاتھ رنگے  بلکہ امربالمعروف اورنہی عن المنکر  کے قرینہ سے یہاں خیر امتہ سے مراد خیر ائمتہ  ہے اورامت وسطی سے بھی یہی لوگ مراد ہیں اس سے  پہلے یہ ارشاد گذر چکا ہے کہ تم میں سے ایک ایسا گروہ ہونا چائیے جو امر بالمعروف اورنہی عن المنکر کے  فریضہ  کو انجام دینے والاہو پس اس جگہ خود ہی اس گروہ کی نشاندہی فرمادی اوربوقت نزول ایت باقی ائمہ طاہرین کا موجود نہ ہونا باعث حرج نہیں کیونکہ ان کا رئیس حضرت امیرالمومنین علیہ السلام موجود تھا اورقران چونکہ تاقیامت زندہ ہے لہذااس کے مصداق کاتاقیامت باقی رہنا ضروری ہے پس ہر زمانہ میں اس ایت کا مصداق باقی رہا اوراب حضرت حجت علیہ السلام اس کا مصداق موجود اورزندہ ہے عجل اللہ فرجہ
لن یضروکم ص۳۰  کہتے ہیں کہ روساء یہود باتوں باتوں میں اسلام لانے والے اہل کتاب کوکوستے تھے اوران کے سامنے وہ اسلام وبانی اسلام کے حق میں ناشئستہ الفاظ استعمال کرتے تھے پس مسلمانوں کی دلجوئی کیلئے یہایتنازل ہوئی
وان یقاتلوکم  یہ ایک پیشین گوئی ہے جوآنحضرت  کی نبوت کی صداقت کی واضح اورروشن دلیل ہے  کیونکہ یہود مدینہ مثلابنی قریظہ بنی نضیر اربنی قینقاع اوریہود خیبر  نے مسلمانوں سے چھیڑ نے کی کوشش کی اوربری طرح رسوا ہوئے
یقتلون انبیاء تفسیر صافی اورتفسیر برہان میں کافی وعیاشی سے منقول ہے  کہ حضرت صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ ان لوگوں نے ہاتھ اورتلوار سے انبیاء کو قتل نہیں کیا تھا بلکہ ان کیباتوں کو پھیلادی ااوران کے رازوں کو افشاء کیا تھا  جس کی وجہ سے وہ گرفتار ہو کر قتل کردئیے گئے پس قتل سرکشی اورنافرمانی ان لاوگوں کی طرف منسوب ہوئی جنہوں نے اس کاافشاء راز کیا تھا اورقیامت تک کے لئے جولوگ اس بدعاوت کے مرتکب ہوں گے وہ انہی ایات کے مصداق ہونگے پس اگر ان کی باتوں کے اثرات قتل نبی تک پہنچیں تو وہ قاتل نبی ہوں گے اوراگر ان کے افشاء راز کا انجام قتل امام ہوتو قاتل امام ہوں گے اوراگر موم کے قتل کا سبب بنیں گے تو وہ مومن کے قاتل ہوں گے (خداتمام مومنین کو اس قسم کی بدعادات  سے محفوظ رکھے


ایک تبصرہ شائع کریں