ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت محمد مصطفی ﷺ پر نبوت ختم ہے لہذا ان کے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا نہ کلی نہ جزی نہ ظلی نہ بردزی پس آپ کے بعد جوبھی نبوت کے دعو ی کرے وہ جھوٹا ہے اور کافر ہے اور اس کو نبی ماننے والے دائرہ ایمان سے خارج ہیں اس کا مفصل بیان یہ ہے کہ ہر قوم ہر ملت اور ہر تحریک ابتد امیں اس نرم و کمزور زمین سے اگنے والی کونپل کی طرح ہوتی ہے جو کسی معمولی سے معمولی خارجی قوت کا مقابلہ بھی نہیں کرسکتی اور اسے معمولی ہوا کاجھونکا جھکانے کےلئے کافی ہوتاہے اسی طرح نشوونما انسانی کی یہی حالت ہے آخر کار ایک کامل درخت بن جاتاہے اور پھر بڑی سے بڑی آندھی بھی اس کو نہیں جھکا سکتی اسی طرح انسانیت ابتدا کمزاور تھی پس رفتہ رفتہ ترقی کرنے کے بعد اس منزل ارتقا تک پہنچتی ہے کہ آج کا انسان اگر دو ہزار سال پہلے کے انسان کو دیکھے تو اس کو اس کی انسانیت حیوانات سے بہت مشابہ نظر آئے گی اور اسے انتہائی عبرت ناک و حیر ت ناک نگاہ سے دیکھے گا اسی طرح وہ بھی اس کو ایک اپنے سے بہت بہتر و برتر مخلوق تصور کرے گا کہاں وہ انسان جو گھاس پھونس کھا کر غاروں اور درختوں کی گھاٹیوں میں سر چھپاتا تھا اور کہاں یہ انسان جو فضائے عالم کو مسخر کئے ہوئے دوش ہو ا پر سوار ہے تو جس طرح انسانی اذہان تدریحی ترقی سے اس منزل تک پہنچے ہیں اسی طرح خدا ئی جانب سے انبیا ہرماحول کے مطابق نصاب تعلیم لے کر تشریف لائے پس حضرت آدم کا تبلیغی کورس اسی انداز سے ہوگاجو معیار اس زمانہ کےا نسان کا ہونا چاہئے اور پھر حضرت نوح تک چو نکہ معیار بدل گیا تو نصاب تبلیغ میں بھی اسی لحاظ سے فرق آ گیا پس جوں جوں انسانیت منازل ارتقا میں قدم آگے بڑھاتی رہی اسی انداز سے خدا ئی نمائندے تبلیغی احکام اور طریق عبادت میں کم و بیش تغیر ضروری ہوتا رہا ہے پس حضرت ابراہیم اپنا نصاب لائے ان کے بعد حضرت موسی پھر حضرت عیسی علیہ السلام امتوں کی استعداد کےمناسب احکام شرعی کے مبلغ بن کر آئے
جوں جوں انسان ذہنی عقلی
فکری نظری اور استعدادی ترقی کے منازل عبور کرتا ہوا آگے بڑھتا گیا ان کے معیار
کے مطابق احکام شرعیہ نیا نیا جامہ پہن کر آتے رہےتھے اگر چہ بنیادی نقطہ نظر ایک
ہی رہا جسے اسلام کہتے ہیں جب انسانیت ترقی کی منازل طے کرچکی اور اپنے معراج کمال
تک پہنچ گئی پس خدا وند کریم نے ایک جامع نصاب تبلیغ بھیج کر نبوت کا سلسلہ بند کر
دیاکیونکہ نبوت کی ضرورت نئے نصاب لانے کے لئے تھی جب آخری نصاب کی جامع کتاب
قرآن پہنچ گئی تو پھر نئے نبی کی ضرورت ہی کیا رہی ؟ چنانچہ فرمایا ان ھذا
القرآن یھدی للتی ھی اقوم یعنی یہ قرآن انتہائی سیدھے اور زیادہ مضبوط راستہ کی
ہدایت فرماتاہے اندازہ کیجئے جس کو خود خدا انتہائی سیدھا افعل التفضیل کے صیغہ سے
تعبیر فرمائے تو اس میں تغیر و تبدل کا امکان ہی کیا ہو سکتا ہے تو جب قرآن آخری کتاب ہو اور تکمیل نفوس انسانیہ کا آخری
کورس ہوتو اس کے لانے والا نبی بھی کمالات انسانیہ میں آخری حد امکان پر فائز ہو
کر نوع انسانی کا آخری مسلم و مدرس ہو گا جس کا طرز تعلیم اور طریق تبلیغ تاثیر
کے لحاظ سےا س قدر ہمہ گیر ہو گا کہ نوع انسانی کا آخری صف تک تفاوت استعدادات و
اختلافات اذہان کے باوجود سب کے لئے قابل پذیرائی ہو ورنہ دامن انتخاب ذات علیم و
قدیر پر چہل یا عجز کا بد نما داغ لگ جائے جو شان علم و قدرت کے خلاف ہے پس اس نے
نبی وہ بھیجا جس کے متعلق ارشا د فرمایا تبارک الذی نزل الفرقان علی عبدہ لیکون
للعلمین نذیرا بابرکت ہے و ہ ذات جس نے اپنے بندہ پر فرقان کو نازل کیا تاکہ وہ سب
جہانوں کے لئے نذیر ہو تو معلوم ہواکہ ان کی نبوت عالم امکان کی آخری حد تک ہے
کیونکہ قرآن کی تعلیمات سے بڑھ کر نہ انسانوں میں صلاحیتیں ہو سکتیں ہیں او نہ
قرآن کے معیار سے اوپر صلاحیت کا امکان ہو سکتاہے کیونکہ اس کی تعلیم اقوم ہے اور
اقوم کا معنی ہے درستی اور مضبوطی کا آخری حد پس حضرت رسالت مآب نوع انسانی کے
ارتقائی آخری نصٓب کے آخری مدرس ہیں اور ان کے بعد نہ کسی کی گنجائش ہے نہامکان پس
ااپ خاتم الانبیا ہیں مرزا غلام احمد قادیانی کو چونکہ نبی بننے کا ش وق تھا لہذا
اس نے جب دلائل کے لحاظ سے بھانپا کہ یہاں نبوت کی کوئی گنجائش نہیں تو اس نے عوام
کو دھوکے میں ڈالنے کے لئے اس میں ایک تھوڑی سی ترمیم کر دی کہ مستقل نبی نہیں آسکتا ظلی بروزی یا امتی نبی کے آنے میںکوئی ہرج نہیں اور میں
وہی ہوںتواس کا جواب یہ ہے کہ جب نبی شریعت کی گنجائش نہیں او رحضور ﷺ کی شریعت کی
ہی توضیح و تشریح کا فریضہ ادا کرنا ہےتو آپ کے بعد آپ کے اوصیا و خلفا طاہرین
علہیم السلام اور ان کے بعد امت کے تمام
علماءپر یہ فریضہ عائد ہے تاہم ان میں سے کسی کونبی کا لقب نہیں دیا جاسکتا اور
جناب رسالت مآب کا لا نبی بعدی کا فرمان کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہو گا کسی ظلی
بروزی اور امتی نبی کیلئے قدم رکھنے کی اجازت نہیں دیتا نیز جزوی نبی کا آنا
تدریجی طر ز تعلیم کے بھی منافی ہے کیونکہ ایک بڑے کالج سے اس کے انچارج کے چلے
جانے کے بعد ایک ادنی طالبعلم اس کی جگہ پر نہیں کھڑا کیا جا سکتا
یہاں ایک سوال پیدا ہوتاہے کہ حضر
ت عیسی علیہ السلام کی دو بارہ تشریف آوری کس حیثیت سے ہو گی اگر وہ بحیثیت نبی
تشریف لائیں گے تو عقیدہ ختم نبوت باطل ہوتاہے اور اگر بحیثیت نبی نہیں بلکہ عام امتی
کی حیثیت سے تشریف لائیں گے تو عہد ہ نبوت کہاں جائے گا کیا ایک نبی سے عہدہ نبوت
بلا قصور لیا جا سکتا ہے اور اگر نہیں تو پھر امتی بن کر کیسے آئیں گے؟تواس کا
جواب یہ ہے کہ وہ بے شک تشریف لائیں گے اور بیت اللہ کی زمین ان کے لئے چشم براہ
ہو گی بیت اللہ کی چھت پر سے اتریں گے اور حضرت
مہدی علیہ السلام کے پیچھے نماز بھی پڑھیں گے لیکن جس طرح حضرت موسی کا خضر
کی شاگردی اختیار کر لینا نہ ان کی توہین تھا اور نہ منافی نبوت تھا یہاں بھی ان
کا حضرت قائم علیہ السلام کے پیچھے نماز پڑھنا نہ منافی عزت ہے اور نہ باعث توہین
ہے اور بطریق حل یوں سمجھئے کہ ایک چھوٹے مدرسہ کا مدرس اعلی ایک بڑی یونیورسٹی
میں اگرآ جائے تو اس کی مدرس اعلی کی
حیثیت وہاں کوئی دقعت نہیں رکھتی بلکہ بڑی یونیورسٹی کے طالب علم بھی استعداد میں اس سے زیادہ ہوا
کرتے ہیں چہ جائیکہ وہاں کے پروفیسر یاپرنسپل بنابریں حضرت عیسی ایک قوم کے مدرس
دین تھے اور مبلغ اسلام اور حضرت مہدی علیہ السلام بسلسلہ نیابت خاتم الانبیا پوری
عالمی پونیورسٹی کے چانسلر ہوں گے پس ا س صورت میں حضرت عیسی اگر ان کاامتی ہو تو
ان کی ذات میں کونسا نقص یا کونسی
توہین ہوگی یہ اس طرح ہے جس طرح مڈل سکول
کا مدرس اعلی یونیورسٹی کے چانسلر کے مقابلہ
میں طالب علم ہوتاہے بلکہ ان کیلئے ان کے پیچھے نماز پڑھنا باعث فخر ہو گا اور یہ
ان کی ترقی ہے نہ کہ تنزلی اور صاحبان عقل و دانش خود ہی اس میں بنظر انصاف غور کر
یں تو بات کے سمجھنے میں نہ کوئی گنجلک ہے نہ د شواری
نیز ان کا حضرت مہدی کے
پیچھے نماز پڑھنا بھی ایک بہت بڑی قوم کو تبلیغ
کرنے کے لئے ہو گی اور اسی بنا ءپر ارشاد ہے کہ کوئی اہل کتاب نہ رہے گا
مگر یہ کہ آپ پر ایمان لائےگا نیز یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام
کےپیچھے ان کا نماز پڑھنا اس قوم کے لئے بھی ہدایت ہو گا جنہوں نے ان کو خدا یا خدا
کا بیٹا سمجھ رکھا تھا پس ان کی اقتدار
میں ان کی تبلیغ کا را ز مضمر ہے پس آخری نبی کے امتی بن کر اپنی امت کے
لئے نبوت کا فریضہ انجام دیں گے او ر اپنی امت کو صحیح اسلا م کا راستہ دکھائیں گے
نیز ایک طرح سے وہ مسلمانوں کوبھی درس دیں گے کہ جس نبی کے آخری جانشین کے پیچھے
میں نماز پڑھ رہا ہو ں اس نبی کے پہلے جانشین کو پس پشت ڈالنا غلطی ہے حضرت کی
جانشینی کا حق صرف اسی خاندان کو ہی حاصل ہے جو دولت عصمت اپنے دامن میں رکھتا ہو