اگر ایک خدا کے علاوہ دوسرا بھی اس کا شریک کار ہوتا تو قطع نظر اس سے کہ یہ نظام فساد کا شکار ہو کر موت کی آغوش میں جا پہنچتا ہم کہتے ہیں دو خدا ماننے کی صورت میں تین شقیں سامنے آتی ہیں ۔
1.
یا تو ہردواپنے اپنے مقام پرکامل
اور اس نظام اتم کی تخلیق پر پوری طرح قادر ہوں
گے
2.
یا دونو انفرادی حیثیت سے ناقص ہو
ں گے
3.
یاایک کامل اور دوسرا ناقص ہو گا
او رناقص کامل کاممد و معاون ہو گا
اور یہ تینوں شقیں باطل ہیں پہلی اس لئے کہ اگر وہ دونوں اپنے اپنے مقام
پر کامل ہوں تو ان میں سے ہرایک کا نظام
الگ الگ ہونا چاہییے بس ایک نظام کاہونا ایک خدا کے وجود کا پتہ دیتا ہے اور دوسری
شق اس لئے باطل ہے کہ دو ناقص مل کر ایک نظام کے خا لق نہیں بن سکتے کیونکہ ناقصوں
کی اجتماعی مساعی میں نقص کااضافہ ہو گا نہ کہ ان میں کمال پیدا ہوگا علاوہ ازیں
ناقص و مدبر نہیں بن سکتا پس خدا ایک کامل ذات کا نام ہے جس کا کارنامہ یہ نظام
اکمل سامنے موجود ہے اورتیسری صورت بھی باطل ہے کیونکہ خد اتو وہی ہو گاجو کامل ہے
اور اسے ناقص سے اگر امداد لینے کی احتیاج ہو تو وہ کامل نہ رہے گا پس اس تقریب سے
شریک باری عزا سمہ کی نفی ہو گئی اللہ سبحانہ نے اپنے کلام بلاغت نظام میں باربار اپنی
توحید کا اعلان فرمایا اور سب کے سب انبیا
بھی اسی ایک خدا کی جانب سے مبعوث ہوئے اگر کوئی دوسرا ہوتا تو وہ بھی اپنی
طرف سے کوئی نمائندہ بھیجتا بہرکیف شریک باری کا تصور صر ف عقل کے اندھے اوردانش و
خرد سے کورے ہی کر سکتے ہیں ورنہ کوئی صاحب فکر و نظر تعدد آلہہ کا قا ئل ہوسکتا
ہی نہیں کیونکہ کتاب نفسی اورکتاب آفاقی کا مطالعہ اسی سلسلہ میں ہر دلیل سے بے
نیاز کر دیتا ہے اور خداوند قدوس نے عقل و
فطرت کے اس واضح ترین مسئلہ کو صرف تائید و ارشاد کے طورپر مختصر لفظوں میں اس طرح
بیان فرمایا کہ ہر کس و ناکس کے ذہن میں آسانی سے سما سکے چنانچہ ارشاد فرمایا لو
کان فیھما الھتہ الا اللہ لفسدتاب یعنی اگر آسمان اور زمین میں اللہ کے علاوہ
کوئی اور خدا بھی ہوتے تو ان کے باہمی اختلاف کی وجہ سے عالم علوی و سفلی
کانظام ٹکر ا کر ختم ہوجا تا