ہمارا عقیدہ ہے کہ حضرت علیؑ سے حضرت مہدی علیہ السلام تک تمام آئمہ چونکہ حضرت رسالتمآبؐ کے صحیح جانشین تھے لہذاابتدائے عمر سے آخرعمر تک ہر صغیرہ وکبیرہ گناہوں سے پاک ومبرا تھے بلکہ ان سے ترک اولی کا صدور بھی نہیں ہوتا تھا نیز یہ کہ اپنے اختیار سے معصوم تھے فرشتوں کی طرح ترک گناہ پر مجبور نہ تھے کیونکہ فرشتوں کا گناہ نہ کرنا ان کاکمال نہیں اس لئے کہ وہ گناہ کرہی نہیں سکتے اگر یہ کہاجائے کہ آئمہ بھی فرشتوں کی طرح گناہ کرنے پر طاقت نہین رکھتے تھے تو پھر یہ کمال نہ ہوگا کمال تب ہوگاکہ انسان ایک غلطی کرسکتا ہو اور پھر اپنے اختیار سے اس کو نہ کرے جیسے کہ حضرت امیرا علیہ السلام فرماتے تھے کہ میں معاویہ کی طرح چالاکی وفریب کاری اگر چاہوں توکرسکتا ہوں لیکن مجھے میرا دین ایسی چیزوں سے روکتاہے اور اسکو روکنے والی کوئی شیئے نہیں ہے لہذا بعض لوگوں کے ذہن میں جو چیز سمائی ہوئی ہے کہ آئمہ طاہرین علیہم السلام گناہ نہیں کرسکتے تھے یہ امامت کی شان کو نہ پہچاننے کا نتیجہ ہے پس صحیح عقیدہ یہ ہے کہ امامت کی عصمت نبی کی طرح اختیاری ہے ن کہ اضطراری مثل ملائکہ پس انکی عصمت کی شان ملائکہ کی عصمت کی شان بلند تر ہے نیز انکی عصمت سابق انبیاء سے بھی بلند تھی کیونکہ گزشتہ انبیاء سے ترک اولیٰ ہوسکتاتھا جیساکہ حضرت آدم نے ترک اولیٰ کیا لیکن آئمہ طاہرین علیہم السلام سے ترک اولیٰ نہ ہوتا تھا اور عام طور پر ان کا دستور تھا کہ جب ان کےسامنے اطاعت پروردگار کے دوپہلوہوں تو یہ اس پہلو کو اختیار فرمایاکرتے تھے جس میں مشقت زیادہ ھو
التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔
یہاں کلک کریں
علامہ حسین بخش جاڑا کی تصانیف ، تفسیر انوار النجف، قرآن مجید کی بہترین تفسیر ، لمعۃ الانوار، اس میں شیعہ عقائد ، اصحاب الیمین، شہداء کربلا کے بارے ، مجالس کا مجموعہ، مذہب شیعہ کی حقانیت پر مدلل کتاب ، احباب رسول، کتاب اصحاب رسول کا جواب ، اسلامی سیاست، اصول دین کی تشریح پر مفصل بحث ، امامت و ملوکیت ، خلافت و ملوکیت کا جواب ، معیار شرافت، اخلاقیات ، انوار شرافت، خواتین کے مسائل، انوار شرعیہ، مسائل فقہیہ ، اتحاد بین المسلمین پر مبنی مناظرہ ، نماز امامیہ، شیعہ نما زکا طریقہ اور ضروری مسائل