التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

عدل عملی

عدل کا معنی ہے ہر شءکو اپنے موزوں مقام پر رکھنا اور حق دار  کو حق دینا عدل مخلوق کے درمیان اللہ کا میزان ہے ۔عدل ہی کی بدولت آسمان وزمین کو بقاء حاصل ہے اور عقل کے جملہ احکام میں سے وجوب عدل سے واضح تر کوئی دوسرا حکم نہیں ۔گویا وجوب عدل وحسن احسان اورحرمت ظلموقبیح عدوان عقل کے بدیہی اور ضروری فیصلوں میں سے ہیں ۔عدل تمام خوبیوں کی جڑ ہے خواہ وہ خوبیاں نفسی ہوں یا معاشرتی وتمدنی اور ظلم تمام برائیوں کا منبع ہے خواہ انفرادی ہو یا اجتماعی اور میزان عدل کی  موافقت انسا ن کی دنیاوی ودینی ہر دو زندگیوں میں اس کو ارتقاء کی ضامن ہے اور ظلم اس کے برعکس ہر دونوں لحاظ سے سے اسکی پستی کا موجب ہے ۔غرضیکہ عدل کی خوبیاں حدوشمار سے باہر ہیں جس طرح کہ ظلم وعدوان کی برائیاں حطیہ حساب وشمار سے باہر ہیں ۔دنیا میں جن قوموں نے کسی حد تک معراج بلندی پر قدم رکھا ان کے دیگر اسباب ترقی وکمال میں سے عدل وانصاف کے اصول  پیش پیش  تھے اور جب بھی ان کو کمال ارتقا ء کے بعد تنزلی کے برے دن دیکھنے نصیب ہوئے تو دوسرے اسباب تنزلی  میں سے ظلم وعدوان کا دخل زیادہ تھا ۔پس انسانی شرافت کا معیار عدل ہے اوران کی خست اور پستی کا سب سے بڑانشان ظلم وعدوان ہے یہ دور جس سے ہم گزر رہے ہیں ظلم وجود کا دور ہے نہ شخصی نہ انفرادی سطح پر موجودہے اورنہ تدبیر منزل عدل کی مقدس زندگی سے آشنا ہے اور نہ نوعی تمدن میں عدل کی حکومت ہے انسان کامعاشرہ عدل وانصاف کی گردن پر چھری پھیرنے کو اپنی بہت بڑی کامیابی تصور کرتاہے اسے شرافت کانام دیکر خوش ہوتاہے ۔

اپنے نفس پر ظلم اولاد پر ظلم بیوی پر ظلم حتی کہ ماں باپ پر ظلم اسی طرح سارے معاشرے میں اپنے بیگانے سب ایک دوسرے کے ظلم کے شاکی نظر آئے گے کہیں عدل کانام تک سننے میں نہ آئے گا سلطان رعایا کے ظلم کا شاکی اور رعایا کو صاحبان اقتدار کے ظلم کا شکوہ ہے اور یہ ظلم ابھی منازل ترقی طے کررہاہے اورساری دنیا اس چکی میں پستی جارہی ہے لوگوں میں عدل کانام صرف برائے نام ہے ۔

آہ جہاں درد ہیں جودل کو بے تاب کرتے ہیں آنسوہیں جوآنکھوں میں چھلک جاتےہیں مایوسی موت کا منظر سامنے لاتی ہے اورصرف امید ہے جو دل کو سہار ا دیتی ہے کہ ایک وقت آئے گا حق کا بول بالا ہوگا ۔عدل کی بساط  بجھی ہوگئی اورامام عادل تخت حکومت پر جلوہ فگن ہوگا آہ کس قدر وہ پرکشش جاذب نظر منظر ہوگا ۔جب عدل کا دور اور انصاف کا طور بسنے والوں کے لئے جنت کا سماں پیدا کرئے گا اورکس قدر خوش بخت لوگ ہونگے جو اپنے امام عادل کے سایہ میں امن واطمینان کا سانس لیتے ہوئے شکر پروردگار میں رطب اللسان ہوں گے ۔اے اللہ اپنی حجت کے ظہور وفرج میں تعجیل فرما جس کی بدولت جو روظلم سے پر دنیا عدل وانصاف کا گہوارہ بنے گئی اورہمیں توفیق سدید مرحمت فرما کہ ہم ان کے غلام بننے کی سعادت حاصل کرسکیں ۔

ایک تبصرہ شائع کریں