التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

حدیث شب معراج

بروایت ینابیع المودۃ ابن مسعود  سے مروی ہے کہ حضورؐ رسالتمآبؐ  ارشاد فرماتے ہیں معراج پر جاتے ہوئے جب میں چوتھے آسمان  پر پہنچا تو یاقوت احمرکا ایک مکان دیکھاجبرئیل نے بتایاکہ یہ البیت المعمور ہے اور وہاں مجھے نمازکے لئے کہاگیاتو تمام نبیوںکو خدانے جمعکیا اورانہوں نے میرے پیچھے صف باندھ لی چنانچہ میں نے انکو دورکعت  نماز پڑھائی جب سلام پڑھ چکا تو اللہ کی جانب ایک قاصد آیا  کہ اے محمدؐ خدا سلام کے بعد فرماتاہے سل الرسل علی مارسلتھم من قبلک فقلت معاشرالرسل علی مابعثکم ربکم قبلی فقالت الرسول علی نبوتک وولایتہ علی بن ابی طالب  ان رسولوں سے پوچھئے  کہ تجھ سے پہلے یہ کیوں رسول بناکر  بھیجے  گئے ہیں  تو میں نے پوچھا  اے گروہ رسل تمہارے  رب نے تم کو مجھ سے  پہلے کیوں کوبھیجا تھا توکہنے لگے کہ تیری نبوت پر اور علیؑ بن ابی طالب کی ولایت پر نیز سورہ زخرف میں آیہ مجیدہ واسئل من ارسلنا من قبلک  میں جہاں حکم ہے کہ اے رسول اپنے سے گزشتہ انبیاء  سے پوچھو اس آیت مجیدہ کی تاویل میں کافی عرصہ تک لوگ سرگرداں رہے کہ جن سے پوچھنے کا حکم ہے وہ موجود نہیں تو حکم یوں دیا گیاہے اور اگر پوچھنا ممکن ہے تو کیسے ؟ چنانچہ یہ سوال ایک مرتبہ امام م محمد باقر علیہ السلام سےہوا اور امام جعفر صادق سے بھی ہوا جیساکہ بحارالانوار ج 4 میں موجود ہے اور آئمہ نے یہی  جواب دیاکہ یہ آیت زمین پر نہیں اتری بلکہ شب معراج البیت المعمور پر یہ اۤیت اتری ہے اور فخرالدین رازی نے بھی اس بات کو تسلیم کیاہے اور روایت غالبا ابن عباس سے نقل کی ہے کہ شب معراج البیت المعمور پر یہ اۤیت اتری جب سب انبیاء سامنے موجود تھے تو حضورؐ نے انبیاء سے اس لئے نہ پوچھا کہ انہیں ان کا جواب معلوم تھا پس بات راز پوشیدہ رہ گئی لیکن اۤئمہ اہل بیتؑ سے صاف طور پر مروی ہے  چنانچہ تفسیر برہان میں بھی موجود ہے کہ حضورؐ نے سب انبیاء سےدریافت فرمایاکہ تم کس چیز پر مبعوث ہوئے ہو تو سب نے یہی جواب دیاکہ ہم تین اقراروں  پر مبعوث ہوئے ہیں اللہ کی توحید تیری نبوت اور علی ابن ابی طالب  کی ولایت اور تفاسیر اہل سنت میں تفسیر نیشاپوری سے بھی اسی طرح منقول ہے  پس اس روایت سے  حضرت علیؑ کی فضلیت عیاں ہے کہ انبیاء  کی بعثت حضرت علیؑ کی ولایت کے اقرار پر ہوئی اور کتاب ینابیع المودۃ ملا سلیمان حنفی نقشبندی میں بھی صاف موجود ہے لم یبعث نبی قط الا بولاء علی بن ابی طالب کہ کوئ  نبی مبعوث نہ ہوا مگر ساتھ ولایت علیؑ بن ابی طالب کے اور یہ شرف صحابہ میں سے کسی  کو حاصل نہیں ہوالہزا خلافت نبوی کا ان کے علاوہ  کوئ بھی حقدر  نہیں ہے

ایک تبصرہ شائع کریں