التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

حقوق الناس میں عدل کامیزان

یعنی وہ حقوق جو مخلوق پر عائد ہوتے ہیں اور یہ اس قدر زیادہ ہیں کہ جزئیات تو بجائے خود ان کے کلیات کو شمار کرنا بھی مشکل ہے اور حق یہ ہے کہ ان کی تفصیل حکمت عملیہ کی دو قسموں تدبیر منزل اور سیاست مدینہ میں بیان کی جائے لیکن وہاں ان کا بیان نہ ہونے کے برابر ہے اور علمائے اعلام  رضوان اللہ علہیم نے بھی ان حقوق کو حق بیان عطا نہیں فرمایا البتہ  مطا اب منتشرہ اور حقائق متفرقہ کے طور پر کچھ علم فقہ کی کتابوں میں اور کچھ علم الاخلاق کے دفاتر میں یہ بکھرے ہوئے موتی مل جاتے ہیں بہر کیف جس طرح حقوق نفس کے متعلق اہتمام کے ساتھ علم الاخلاق کی تدوین ہوئی ہے اس طرح حقوق معاشرہ خواہ تدبیر منزل ہو یا سیاست مدینہ 100 س علیہ السلام کے بیان کردہ کلیات کوپیش کرتے ہیں جو حقوق معاشرہ میں عدل کے میزان کی وضاحت کے لئے کافی ہیں ویسے توآپ کے خطبات مکاتیب و مواعظ میں یہ مطالب آپ کو دررمنثورہ کی طرح جداجدا ملیں گے لیکن ان سب حقوق میں ایک جامع کلمہ جسے عدل کا ضابطہ و کلیہ کہنا چاہیئے وہ وہی ہے جوآپ نےاپنے وصیت نامے میں اپنے فرزند دلبند جناب امام حسن  مجتبے کو تلقین فرمایا  فرزند گرامی اپنے اور اپنے غیر کےدرمیان اپنے نفس کو ہی میزان قرار دو پس غیر کے لئے وہی کچھ پسند کرو جو تجھ کو پسند ہواور غیر کے لئے تم ایسی چیز کو قطعا پسند نہ کرو جو تمہیں خو د ناپسند ہو جس طرح تمہیں اپنی ذات پر غیر کا ٖظلم پسند نہیں اسی طرح اپنی جانب سے تم بھی غیر پر ظلم کو پسند نہ کرو جس طرح تم کو غیر سے احسان محبوب ہے اسی طرح تم بھی غیر پر احسان کرنا محبوب رکھو پس جو غیروں سے بری لگتی ہےوہ اپنے نفس کےلئے روانہ رکھو

ایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں

صاحبان خیر یعنی  نیک لوگوں سے قرب اختیار کرو تاکہ تمہار ا شمارانہیں میں سے ہواپنی مقبوضہ چیز کی حفاظت غیر کی مقبوضہ چیز کی طلب سے بہتر ہے یا اسو نا امیدی کی تلخی لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بہتر ہے پاکدامنی سے کما کر کھانا فجور کی دولت مندی سے بہتر ہے اور کمزور پر ظلم کرنا بد ترین صفت ہے سلسلہ کلام کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا ذلیل مددگار نہ ہونا ہونے سے بہتر ہوتا ہے اسی طرح بخیل دوست کا وجود کوئی خوبی نہیں رکھتا بھائی کی قطع رحمی کے بعد بھی اس کی صلہ رحمی کا بوجھ اپنے نفس پر ڈالو بھائی کی روگردانی کے بعد بھی اس سے قرب و محبت کے ساتھ پیش آو اس کے بخل کے مقابلہ میں سخاوت اس کی سختی کے مقابلہ میں نرمی اور اس کے جرم کے مقابلہ میں قبول عذر کاسلوک کرواور اس طرح معلوم ہو کہ تمہارا محسن اورتم اس کے احسان مند ہو لیکن یہ خیال رہے کہ اس قسم کا برتاو بے محل نہ ہو اور نااہل سے  نہ ہو ۔

حقوق معاشرہ میں آپ کا پہلا جملہ عدل و انصاف کی جان اورعلوم و معارف کے بیش قیمت خزانہ کا آبدار موتی اور گلدستہ فصاحت و بلاغت کا مہکتا ہوا پھول ہے اپنے اور غیر کے درمیان اپنے ہی نفس کو میزان قرار دو اللہ کی توحید کی قسم گردش افلاک کی ناسازگاریاں اور دورزباں کی نیر نگیاں ایسے انقلابات کو سامنے لائیں کہ عقل و خرد کا ناطقہ بنداور عدل انصاف کا دفتر مقضل ہو گیا ملکہ طائر ہوش و حواس منقار زیر پر نظر آیا نیز شرم حیا غیرت و حمیت انسانی اور شرافت و دیانت بشری نے سر جھکا لیا جب ورطہ ناسوت کی نا اہل مخلوق عالم لاہوت کے قدسیوں سے ٹکرائی رجس و نجاست کا پلندہ آسمان عصمت و طہارت کےآستانہ داروں سے الجھا جہالت و حماقت کے گندیدہ ظلماتی تالابوں میں مدتوں غوطہ زنی کرنے والوں نے علم و فضل اور شرف و کمال کی صاف و شفا ف لذیدو شیریں نورانی آبشاروں سے سیراب ہونے والوں کو اپنے جیسا سمجھ لیا حتاکہ ناصاف و محدود دپانیوں کے کناروں پر پٹاخیں مارنے والے مینڈک قلزم بلاغت اور سلسبیل فصاحت کی طرف ترچھی نگاہیں ڈالنے لگے خدا کی قسم اگر خاندان عصمت کی زبان حق ترجمان سے نکلے ہوئے ان موتیوں کو میزان عدل کے  پلڑے میں رکھا جائے اورپوری دنیا کے علما و حکما ءکے پر از حکم ارشادات و خطبات دوسروں پلڑے میں  ہوں تو ان کا ایک جملہ جھکتا ہوا نظر آئے گا اگر اسلام کے پاس صداقت و حقانیت کی اور  کوئی دلیل نہ ہوتی تو حضرت امیر علیہ السلام جناب رسالت مآب اوران کی آل اطہار  علہیم السلام کے یہ اور اس قسم کےدیگر معجز بیان و حق ترجمان جملے جنہوں نے کوزہ میں سمندر کو بند کر کے پیش کیا ہے اسلام کی ضرورت اور اس کے علو و ارتفاع کے ثبوت کے لئے کافی تھے کیونکہ جو شخص ایسے عربوں میں پیدا ہو کر پروان چڑھا ہو جن کو علوم و معارف سے دور تک کا واسطہ نہ تھا اور پھر یکایک ان کی زبان درفشاں سے علوم و معارف کے ایسے شاہکار خزائن آشکار ہوں جن پر بے پناہ براہین حکمیہ اوراولہ عقلیہ کا سایہ ہو اس کی صداقت کاایسا بلند اور پائیدار مینار ہے جس کا نہ انکار ہو سکتا ہے اور نہ کبھی اس کو جھکایا جاسکتا ہے کیونکہ ظاہری طور پر انہوں نے نہ تحصیل علوم میں سیرو سیاحت کی نہ دور  دراز کے سفر طے کر کے کسی معلم کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا نہ کسی حکیم سے درس حکمت سیکھا اور نہ کسی مدرسہ میں داخلہ لیابایں ہمہ علم کا عالم یہ  کہ عمر بھر علوم سیاسیہ اور معارف وبنیہ کے وہ دریا بہائے کہ میں سچ کہتا ہوں اگر اولین و آخرین کے حکما ءماہرین علوم اور ہر طبقہ کےاساتذہ فنون اکٹھے ہو جائیں اور دنیا بھر کے فصحاءو بلغا ءجمع ہو کر ایک دوسرے سے تعاون بھی کریں تاہم حضرت امیر علیہ السلام کےایک خطبہ کے برابر مواد علمیہ نہیں لا سکتے اور نہ اس قدر فصاحت کی چاشنی پیدا کر سکتے ہیں کہ لذت و لطافت کے لحاظ سے سننے والوں کواپنا دیوانہ بنا دے اور معافی و حقائق کا تسلسل وروانی انہیں اپنا گردیدہ و پروانہ بنا لے بلکہ آخر کار ان کے لئے اعتراف عجز کے بغیر کوئی او چارہ نہ ہو گا

آپ کے خطبات و مواعظ کا اگر آپ جائزہ لیں گے تو ذوق سلیم آپ کو بتائے گا کہ آپ مسلسل بارش یا سیلاب رواں یا موج دریا بن کر کس طرح بڑھتے چلے جا رہے ہیں آپ کا بیان اگرچہ فی البد یہی ہوتا ہے لیکن سیاست وروانی براہین کی پختگی اور معانی کابے پناہ ذخیرہ اس کے دامن میں ہوتاہے ایسا معلوم ہوتاہے کہ نور و سرور کا چشمہ ہے یا شراب طہور کی ایک نہر ہے جو تشنگان علوم کی سیرابی اوربیمار ان روح کی شفا یابی کے لئے چھلک رہی ہے اور اسلام کی صداقت کی اس سے بڑھ کر اور کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ  اس کے ہیرو اور رہبر اس جیسے تھے جہاں ایک طرف یہود و نصاری کے علما و فضلا پر تعجب ہو تا ہے کہ انہوں نے براہین واضحہ کے باوجود دامن اسلام سے رابطہ قائم نہ کیا تو دوسری طرف ان لوگوں کی عقلوں پربھی رونا آتا ہے جو ایسی شخصیت کو نظر انداز کر کے دوسروں کو سابق اسلام کہنے پر مصر ہو گئے اور غضب بالائے غضب یہ کہ جو لوگ فضل و شرف میں ان کے گردراہ کو نہیں پہنچ سکتے ان کو ان کے برابر سمجھنے لگ گئے خداوند کریم ان کو ہدایت فرمائے بات کہاں سے کہاں تک چلی گئی ہم معاشرتی عدل کے بارے میں حضرت امیر المومنین علیہ السلام کے کلمات نقل کر رہےتھے آپ نے اپنے مواعظ میں بہت کچھ اس خطیب کے متعلق فرمایا بھائی چارے کے حقوق کی تفصیلات بیان کیں اور اہل قبیلہ ازواج و ملازمین کے حقوق اور ان کی حدود واضح کیں بلکہ رہن سہن کے جملہ حدود تلقین فرمائے خدا جسے توفیق دے وہ ان کا مطالعہ کرے حضرت امیر علیہ السلام اور  ان کی اولاد طاہرین کے کلمات  میں اس قسم کا  مواد کثرت سے ملتا  ہے حتاکہ کوئی حق ایسا نہیں جس کو انہوں نے تشنہ بیان چھوڑا ہو لیکن یہ یاد رہے کہ اس بارے میں جامع کلمہ وہی ہے جوآپ نے اپنے وصیت نامہ میں فرمایا ہے اپنے اور غیر کے درمیان اپنے ہی نفس کو میزان قرار دو اور یہ کلمہ حضرت رسالت مآب اور دیگر آئمہ سے بھی بکثرت منقول ہے جو شخص غور و فکر کر کے حقائق و معانی تک دسترس حاصل کرے اسے یقین ہو گا کہ سوائے انہی کی ذوات مقدسہ کے اس صفت کاخارج میں اور کوئی بھی مصداق نہیں ہم جب اپنے حالات کا جائزہ لیتے ہیں تو آج کل کی مسموم فضا میں اتنا بھی غنیمت معلوم ہوتا ہے کہ انسان اپنا شردوسروں سے روک لے دوسروں کونفع پہنچایا تودرکنار ہماری حالت  یہ ہے کہ قہر و غلبہ کے بل بوتہ پراپنے میں انسانیت کو فراموش کر کے درندگی کامظاہرہ کرتے ہوئے دوسروں کواپنے ظلم و تشدد کے ناخنوں سے نوچنے کےدرپے ہوتے ہیں اور اپنے ایمانی بھائیوں کی ہتک عزت کے لئے ا ن  کے عیبوں کی قبریں کھودنے میں خوشی محسوس کرتےہیں بنابریں ہمیں ان فضائل سے کیا واسطہ اور معاشرہ میں عدل کےتقاضوں کوپورا کرنے سے کیا غرض حد تو یہ ہے کہ اس زمانہ والوں کے سامنے اس قسم کی باتیں بھی سبکی کا باعث سمجھی جاتی ہیں اور انسان نما مخلوق ایسی باتو ں کو ٖخرافات کا درجہ دیتی ہےہم نےمیزان عدل کے متعلق حضرت امیر علیہ السلام کے ہی کلمات پر اکتفا کی ہے جو اصول عدل کے متعلق حضرت امیرعلیہ السلام کے ہی کلمات اکتفا کی ہے جواصول عدل  کے جامع ہیں تاکہ ان پر مطلع ہونے والا یقین جان لے کہ وہی امام عادل صدیق اکبراور فاروق اعظم تھے کوئی دوسرا نہ اس کے ہم پلہ ہے اور نہ ان مقدس القاب کا اہل خدا کرے استقامت و اعتدال کا وقت جلد آئے ظلم و تعدی اور جو روجفا کی رگ حیا کٹے امیدیں پوری ہوں اور عدل و انصاف کا علم اپنی پوری شان و شکوہ کے ساتھ بلند ہوا و رفضا آسمانی میں لہراتا ہوا ساری دنیا دیکھے مظلوموں کی فریاد سننے والا آئے اور تشدد و استبداد کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ظلم و تعدی کی کند چھریوں سے کٹے ہوئے قبر و غضب کے بےدرد قدموں میں روندے  ہوئے اور شرو فساد کی خونخوارچکی میں پسے ہوئے لوگ دامن و اطمینان کاسانس لے سکیں آہ وہ کس قدر پر کیف دورہو گا جسے کان سنتے ہیں اورکتنا پرآشوب زمانہ ہے جسےآنکھیں دیکھتی ہیں ۔

ایک تبصرہ شائع کریں