التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

باقی آئمہ کے متعلق نص

ینابیع المودۃ سے بروایت جابر منقول ہے نہ کہ  جب آیت  اولوالامر اتری تو میں نے بارگاہ نبوی میں عرض کی یارسول اللہ عرفنااللہ ورسولہ فمن اولوالامر الذین قرن اللہ طاعتھم بطاعتک  (ترجمہ)  یارسولؐ  اللہ ہم نے اللہورسول کو توجان لیاہے فرمایئےوہ اولوالامر کون ہیں  جن کی اطاعت کو خدا نے آپ کی اطاعت  کے ساتھ ملایا ہے تو آپ نے فرمایا ھم خلفائی یاجابر وائمۃ  المسلمین بعدی وہ میرے خلیفے ہیں اے جابر اور میرے بعد مسلمانوں کے امام ہیں ( پھر ا ٓپ  نے ان کے نام گنوائے ) ان  کا پہلا علیؑ  بن ابی طالب پھر حسنؑ پھر حسین ؑ پھر علی بن الحسینؑ  پھر محمد بن علیؑ جو تورات میں باقر کے لقب سے ملقب ہیں اے جابر  تجھے  اسکا زمانہ نصیب ہوگا ان سے ملنا تو میرا سلام پہنچادینا پھر صادق جعفر بن محمد پھر موسیٰ بن جعفر پھر علیؑ بن موسیٰ پھر محمدبن  علیؑ پھر علی بن  محمد پھر حسنؑ بن علیؑ پھر وہ ہوگا جس کا نام اور کنیت میرے نام اور کنیت جیسی ہوگی وہ اللہ کی زمین میں اس  کی حجت ہوگا اور اس کے بندوں میں اس کا خلیفہ ہوگا اور حسنؑ بن علیؑ کا فرزند ہوگا  

 ذالک الذی یفتح اللہ  علی یدیہ  مشارق الارض ومغاربھا  الخ   وہ ہوگا کہ خداوندکریم  اس کو مشرق ومغرب پر فتح دے گا

اہل سنت کے مورخین اس امر پر متفق ہیں کہ حضورؐ نے اپنے بعد آئمہ کی تعداد بارہ فرمائی تھی اور پھر فرمایاتھا کہ وہ سب قریش سے ہوں  گے چنانچہ سیوچی نے تاریخ الخلفاء میں اس امر کااعتراف کیاہے لیکن چونکہ دروازہ اہل بیت کو تعصب وعناد کی بناء پر چھوڑ بیٹھے لہذا باوجود انتہائی تگ ودوکے انہیں وہ بارہ خلیفے مل نہ سکے اور وہ اسلامی وملوکی حکومتوں میں امتیاز نہ کرسکے جس کی بدولت وہ ایسے دلدل میں جاپھنسے جس سے نکلنا مشکل ہوگیا اور چونکہ انکو گھٹی  میں یہ چیز بلائی  گئی کہ خبردار کسی صحابیکے متعلق زبان کشائی نہ کرنا کیونکہ حضورؐ نے فرمایااصحابی کاالنجوم میرے سارے اصحاب مثل ستارگان  آسمان  کے ہیں جس کے پیچھے چلو گے ہدایت پاؤگے حالانکہ معنوی لحاظ سےیہ فقرہ بالکل مہمل ہے لیکن صرف بعض صاحبان  اقتدار کی بحائی اقتدار  کی خاطر چونکہ اس کی پردہ پوشی  کے لئے کسی خوشامدی آدمی  نے یہ فقرہ حضورؐ کی طرف  منسوب کردیا تو سب نے آنکھیں بند کرکے قبول کرلیا اور یہ کسی نے نہ سوچاکہ کسی کی اچھائی یابرائی کا معیار بھی ہوناچایئے اگر سب کے سب ہادی ورہبیر اور نیک ہیں تو بخاری شریف کی حوض والی حدیث کاکیا مطلب  ہے کہ حوض سے کئی لوگوں کو ہٹایا  جائے گا تو میں کہوں گا یہ تو میرے صحابی ہیں پس جواب ملے گا تمہیں کیاپتہ انہوں نے تمہارے بعد کیا کیا گل کھلائے تھے  یہ لوگ پچھلے پاؤ ں گمراہ ہوچکے تھے اور حضورؐ نےعمارکو صاف لفظوں میں فرمایا تھا کہ میرے بعد فتنے ہوں گے پس اگر سب لوگ مل کر ایک وادی میں ہوں اور صرف علیؑ دوسری وادی میں ہوں تو علیؑ  کاساتھ نہ چھوڑنا کیونکہ  وہ تمہیں گمراہی میں نہ پڑنے دیں گے تفسیر انوار النجف ج 5 پھر علیؑ کو حق کےساتھ کہنا قرآن کےساتھ کہنا اپنے علم کا درکہنا اور اپنے جیساکہنا کیا محض زبانی جمع خرچ اور جزباتی نعرہ ہے ؟ صرف اجماع اور دھاندلی نے اچھے خاصے محققین کی آنکھوں پرپر دے ڈال رکھتے ہیں  وہ صرف یہ فقرہ کہہ کر خاموش ہوجاتے ہیں اور عقل کے منہ میں لگام دے دیتے  ہیں کہ خبردار صحابہ کے متعلق کچھ نہ کہو ہاں بے شک اچھے کو اچھاکہو اور برے کو براکہو جو قابل اطاعت ہے اس کی اطاعت کرو اور جو قابل نفرت ہے اس سے نفرت کرو اگر اور کہیں نہیں تو معاویہ وعلیؑ کی لڑائی  میں تو اس مفروضہ حدیث کی قلعی کھل گئی تھی  جبکہ دونوں طرف سے صحابی کافی تعداد میں قتل ہورہے تھے البتہ  ایک لحاط سے اس روایت کودرست بھی کہاجاسکتاہے  اور وہ اس طرح کہ بیشک وہ سب کے سب ستارگان آسمان کی طرح تھے لیکن ستارے کچھ نحس بھی تو ہیں لہذا مقصد یہہے کہ میرے صحابہ میں سے کچھ نیک اور کچھ بد ہوں گے اور جسکے پیچھے  لگوگے وہ ہدایت کرے گا خواہ جہنم کی طرف لیکن اگر علیؑ کے پیچھے رہو گےتو وہ سیدھی جنت کی راہ بتائے گا چنانچہ عمار نے علیؑ کا راستہ لیا اور جنگ صفین میں علیؑ کیجانب رہا اور آخر کار درجہ شہادت پر فائز ہوا اویس قرنی علیؑکےساتھ رہا اورجنگ صفین میں شہید ہوا چنانچہ عمار کو حضورؐ نے یہ بھی پیشین گوئی کی تھی کہ تو گمراہ اور باغی جماعت کے ہاتھوں ماراجائے گا اور مناقب خوارزمی سے منقول  ہے کہ آپ نے فرمایاتھا جب فتنہ رونما ہوتو علیؑ کاساتھ دینا کیوں وہی حق وباطل  کےدرمیان فرق کرنے والا ہے میرے اس طویل بیان کا مقصد یہ ہے کہ صرف اصحابی کالنجوم   والی فرضی حدیث نے جس کو عقل سلیم تسلیم کرنے کے لئے ہر گز تیار نہیں بڑے بڑوں  کو عقل وفکر کےراستہ سے ہٹایا ہے کہ وہ اس چکر میں پڑکر رسولؐ کریم کے  فرمودہ بارہ خلفائے امت کی تعیین نہ کرسکے ورنہ اگر اقتدار کی محبت ہاہوکی دھاندلی اور کورانہ تقلید کا جوا گردن سے اتار پھینکتے  اور عقل وفراست  کو فکر ونظر کی پشت پر سوار کرکے حقایقت کاجائزہ لینے کےلئے معمولی محنت بھی کرتے تو راستہ بڑا صاف تھا اور انکو علٰؑ سےلے کر مہدی تک بارہ امام آسانی  سے مل جاتے اور یہی جنت جانے کےلئے  صراط مستقیم ہے تفسیر برہان میں کسی مقام پر ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے مقام حسرت میں ارشاد فرمایاکہ تعجب کی بات ہے لوگوں کو صرف دوگواہوں سے حق مل جایا کرتاہے اور علیؑ کو ایک لاکھ بیس ہزار گواہوں کی موجود گی کے باوجود حق نہ دیا گیا یعنی خم غدیر  میں جبکہ علیؑ کی خلافت وولایت کا حضورؐ نےاعلان فرمایا تھا وہاں کم ازکم اس وقت ایک لاکھ بیس ہزار کا مجمع تھا بہر کیف ارباب بصیرت اور صحاب نظر وتدبر  کےلئے انصاف کی رائیں کھلی ہیں  اور حق کے دامن میں بہت کچھ گنجائش ہے اور جب علیؑ کی خلافت حقہ کا دامنہاتھ میں آجائے توپھر راہ گم ہونے کا ڈرہی ختم ہوجاتاہے کیونکہ پھر ہرامام نے اپنے بعد والے امام کو اعلانیہ نامزد فرمایا اور اپنا وصی بنایا اور بعد میں چونکہ اقتدار کا چکر موجود نہ تھا ورنہ ہرامام کے بعد دوسرے امام کی تعیین میں نصوص ونامزد گیوں کو چیلنج  کیاجاتا حضرت امیرالمومنین علیہ اسلام نے تمام اہل بیتؑ کوجمع فرماکر حضرت امام حسنؑ کو اپنا وصی وجانشین مقرر فرمایا اور امام حسینؑ علیہ السلام  نے بوقت آخر اپنے فرزند امام علی زین العابدین علیہ السلام کو اپنا وصی مقرر فرمایا اس مقام پر روایات میں ہے کہ حجرت محمد بن حنفیہ  نے بھی دعویٰ کیا تھا اور حقیقیت یہ ہے کہ آپ  خود مدعی نہ تھے بلکہ بعض لوگوں کو اشتباہ تھا چنانچہ امام علی زین العابدین علیہ السلام اور حضرت محمد بن حنفیہ  نے مکہ میں حجراسود کےسامنے کھڑے ہوکر حجراسود کو فیصل مقرر کیااورحجراسود نے بلسان فصیح حضرت امام علی زین العابدین علیہ السلام کے حق میں گواہی دی تو حضرت محمد بن حنفیہ نےجھک کرمعافی مانگی اورتمام  لوگوں  کےدلوں میں جو اشتباہ تھ اوہ رفع ہوگیا امام علیؑ زین العابدین  علیہ السلام نے اپنے فرزند امام محمد باقر علیہ السلام کو وصی بنای انہوں  اپنے بعد کے لئے اپنے فرزند امام موسیٰ کاظم علیہ السلام  کو وصی بنایاانہوں نے اپنے فرزندامام علی رضاعلیہ السلا مکو اپناوصی قرار دیا  انہوں نے اپنے فرزند امام محمد تقی علیہ السلام کو اپنا قائمقام بنایاانہوں نے اپنے فرزند علی نقی علیہ السلام کو اسرار امامت  سپرد فرمائے اور اپنا وصی مقرر کیا انہوں نے اپنے فرزند حضرت امام صاحب العصر حجت عج اللہ فرجہ علیہ السلام  کو اپنا جانشین مقرر کیا جوبامر خداغائب ہیں اور باذن خداظہور فرمائیں گے اور زمین خداکوجوروعتساف اور ظلم واستبداد سے صاف کرکے دین خداکا جھنڈا بلندکرتے ہوئے  امن واطمینان سے اس کو پر کویں گے خوشاحال وہ لوگ جو اس دور عدل میں امام عادل کے زیر سایہ زندگی کے لمحات بسر کریں گےپروردگار عالم سے بفضل محمدؐ وآل محمدؐ  شب وروز یہی دعاہے کہ ہمیں اس حکومت عادلہ کا دور نصیب فرمایئے  اور اس امام عادل کو جلد بھیج کربے وارثدین کی سربلندی کا سامان فراہم فرمائے ان کی تشریف  آوری  سے بہت اجڑے ہوئے گھر آباد ہوں گے دین کالٹا ہوا کھیت خوب سرسبز وشادات ہوگا حق  والوں پر آئی  ہوئی خزاں ختم ہوگی اور موسم بہارایمان والوں کےقلوب میں مسرتوں وخوشیوں کاسماں پیداکرے گا


ایک تبصرہ شائع کریں