انسان چونکہ مدنی الطبع ہے اور باہمی افہام و تفہیم کے لئے ایک ذریعے کا محتاج ہے اور سوائے کلام کے زیادہ مفید اور کارآمد کوئی ذریعہ نہیں ہے لہذا انسان اپنے مافی الضمیر کو دوسروں تک پہنچانے کیلئے کلام کا محتاج ہے ورنہ اگر اجتماعی و تمدنی زندگی نہ ہوتی تو کلام کی بھی ضرورت نہ ہوتی حیوانات میں سے بعض حیوان دوسرے بعض حیوانات کواپنے مافی الضمیر سے مطلع کرتے ہیں لیکن و ہ حروف سے مرکب الفاظ کے ذریعے سے وعلی ہذا القیاس او ر ان کا یہ طریقہ ان کا کلام کہا جاسکتا ہے اسی طرح جنات و ملائکہ کا ہاہمی کلام ان کی اپنی نوعیت سے ہو گا پس موجودات عالم میں سے ہر ایک کے ساتھ اللہ کا کلام کرنا ان کی اپنی نوعیت اور جداگانہ استعداد کے لحاظ سےہے بعض خطابات میں اس کے قول و کلام سے مراد تکوینی ہےجس طرح زمین و آسمان یا ان جیسی روح و ارادہ سے خالی مخلوق سے عہد اطاعت طلب کر نا پس ان کاجواب دینا یا قبول کرنا بھی اطاعت تکوینیہ ہے لیکن صاحبان روح و ارادہ اورارباب عقل و دانش مثلا جناب و ملائکہ و انسان وغیرہ سےاس کا کلام کرنے سےمراد ہر وہ طریقہ ہے جس سے اس کا اوامرونواہی کا مطلب سمجھا جا سکے پس انسانوں سے اس کا کلام حروف سے مرکب ہونے والے الفاظ کے ذریعہ سے ہی ہو گا جوا ن کی تفہیم کے لئے کارآمد ہے بہرکیف موجودات عالم کی ہر صنف و نوع سے کلام ان کی انفرادی حیثیت سے ان کےمخصوص انداز میں مقصد کی تفہیم کا نام ہے پس حضرت موسی علیہ السلام کا کلیم اللہ ہونا با اعتبار مجاز نہیں بلکہ حقیقت ہے اور ان کےساتھ کلام کرنے سے جواب و الہام یا نزول ملک کے ذریعہ سے کلام کرنانہیں ورنہ حضرت موسی کی خصوصیت نہ رہے گی کیونکہ باقی انبیا بھی ان طریقوں سے نوازے گئے تھے البتہ یہ جائز نہیں کہ اس کا کلام زبان سے نکلے ہوئے حروف ہون کیونکہ ایسی صورت میں حددث لازم آتاہے ااور خدا اس سے پاک ہے بلکہ یہاں کلام کرنے سےمراد ہے کلام کا ایجاد کرنا خواہ اس کا طریقہ اور لب و لہجہ کوئی ہو اور نیز اس کے کلام کی کنہ کو جاننا اور اس کی کماحقہ کیفیت سے مطلع ہونا امکان سے باہر ہے البتہ یہ صفت صفات ذات سے نہیں جس طرح علم قدرت حیات وغیرہ بلکہ صفت فعل ہے جو کہ محدث ہے چنانچہ قرآٓن کو بھی اللہ کا کلام کہا جاتاہے بہرکیف جہاں یہ فرمایا ہے کہ اللہ کسی بشر سے کلام نہیں کرتا اس سےغالبا زبان سےکلام کرنا مقصود ہے اور جہا ں یہ ہے کہ موسی سےاس نے کلام فرمایا یا حضور سے شب معراج کلام ہوا اس سے مرادکلام کا ایجاد کرنا ہے خواہ کسی شئیی سے ایجاد کرے خواہ کوئی بھی لہجہ اختیار کیا گیا ہو پس دونو آیتوں میں کوئی منافات نہیں ہے۔
التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔
یہاں کلک کریں
علامہ حسین بخش جاڑا کی تصانیف ، تفسیر انوار النجف، قرآن مجید کی بہترین تفسیر ، لمعۃ الانوار، اس میں شیعہ عقائد ، اصحاب الیمین، شہداء کربلا کے بارے ، مجالس کا مجموعہ، مذہب شیعہ کی حقانیت پر مدلل کتاب ، احباب رسول، کتاب اصحاب رسول کا جواب ، اسلامی سیاست، اصول دین کی تشریح پر مفصل بحث ، امامت و ملوکیت ، خلافت و ملوکیت کا جواب ، معیار شرافت، اخلاقیات ، انوار شرافت، خواتین کے مسائل، انوار شرعیہ، مسائل فقہیہ ، اتحاد بین المسلمین پر مبنی مناظرہ ، نماز امامیہ، شیعہ نما زکا طریقہ اور ضروری مسائل