التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

خدا کاجسم ہونا باطل ہے

خدا کے تجسم کا بطلان

خداوجب یہ ثابت ہواکہ وہ مبدا المبادی اور علت اللعل ہے تو اسمیں تمام کمال کی صفات کا ہونا اوراس سے تمام صفات نقص کا دور ہونا خودبخود واضح ہوجا تاہے بنا بریں خدا کا جسم ہونا یا نہ ہونا یاکسی جسم کا عرض ہونا محال ہے ۔کیونکہ یہ دونو  چیزیں تغیروزوال اور حدوث مکان کا پیش خیمہ ہیں اور واجب الوجود ان سے اجل وارفع ہیں لیکن اہل اسلام میں ایک ایسا فرقہ بھی پیدا ہوا ہے جو اللہ کے جسم کے قائل ہیں اور خصوصا صوفیوں میں یہ عقیدہ فاسدہ کافی حد تک مقبول ہے وہ لوگ اپنے خوابوں میں بھی اللہ کو جسم بشری کےسانچہ میں دیکھنے کی حکایات بیان کیا کرتےہیں یہ لوگ معرفت پروردگار سے بہت دور ہیں اورقرآن مجید کی جن بعض آیات سے ان لوگوں کو اشتباہ ہوتاہے مثلاآدم کی خلقت کے متعلق فرماتا ہے ۔ اے ابلیس تونے اسکا سجدہ کیوں نہ کیا جس کومیں نے اپنےدونوں ہاتھوں  سے بنایا ۔اورجنہوں نے سچ مچ ہاتھ سمجھ کر خدا کو جسم دار کہہ دیا وہ مجسمہ کہلا ئے ۔اسی طرح کن فیکون کے لہجہ میں تکوین پروردگار کو صحیح معنوں میں نہ سمجھاتے ہوئے مجسمہ نے سچ مچ کی زبان سمجھ کر اللہ کا جسم مان لیا اور کافر ہوئے اور غالی اور مفوضہ لوگوں نے اس کی زبان اور جسم کو محال قرار دئے کر محمد وآل محمد کو کن کہنے والا ثابت کرکے ان کو خالق عالم قرار دیے دیا اور شرک کے جال میں جا پھنسے حالانکہ یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ جب خدا نے خود ان کو پیدا کیا تھا اس وقت کن کہنے والا کون تھا ؟ پس جس طرح تفریط میں کافر ہوئے اسی طرح غالی افراد میں مشرک ہوگئے پس اس کا حل یہ ہے کہ پہلی جگہ دو ہاتھوں سے مراد قدرت واردہ ہے اوردوسری جگہ کن سے مراد لفظ کن نہیں ۔بلکہ ہمارے سمجھانے کےلئے یہ لفظ کہہ دی گئی ہے ورنہ مقصد یہ ہے کہ میں جس چیز کوپیدا کرنا چاہوں بس ارداہ کرتاہوں کہ ہو جا تو چیز ہوجاتی ہے جس طرح ہم میں سے کوئی انسان کسی چیز کوکہے ہوجا اور وہ فورا ہوجائے گویا یہ اس کی کمال قدرت اور سرعت خالق یہ نفاذ ارادہ کی تعبیریں ہیں ورنہ لفظ کہنے کی کیا ضرورت ہے ایک مقام پر ارشاد خداوندی ہے {عربی}وہ دن کے پنڈلی سے کپڑا اتارا جائے گا اور لوگوں کو سجدہ کی دعوت دی جائے گئی تو مجسمہ نے اس کو جسم سمجھا اور خدا کو ایک اچھی خاصی شکل وجسامت میں قید کرکے اس کے سامنے سجدہ ریز ہونے کے قائل ہوئے ۔حالانکہ یہ فقرہ سختی کو ظاہر کرنے کے مقام پر مستعمل ہوتاہے ایک حماسی شاعر نے کہا ہے {عربی}یعنی جنگ نہایت سخت حالت پر پہنچ گئی ۔آیت مجیدہ میں بھی روز قیامت کی سختی وشدت مقصود ہے ایسے ہی {عربی}میں چونکہ رسول کا ہاتھ بیت کرنے والوں کے ہاتھوں پر تھا اور رسول کا کام خدا اپنی طرف منسوب فرماتاہے کیونکہ وہ بغیر رضائے پروردگار کوئی کام نہیں کرتےتھے ۔پس رسول کے ہاتھ کو اللہ نے اپنا ہاتھ کہہ دیا ۔

خلاصہ یہ کہ مجسمہ کا مذہب باطل ہے اور تجسم کے قائل کافر ہیں اور قرآن مجید یا احادیث میں جہاں بھی ایسے الفاظ ملیں جہاں خد اکے جسم ہونے کے متعلق شائبہ ہوتاہوتو وہ واجب التاویل ہیں کیونکہ اولہ قطعیہ سے خدا کا جسم وجسمانیت سے مبرا وپاک ہونا ثابت ہے اور تاویل سے مراد ایسی تاویل جو آل محمد سے منقول ہو اور عقل قبول کرے نیز اولہ توحید سےٹکرانے والی نہ ہوں ۔غالیوں اور مفوضہ کی طرح تاویل نہ ہو کہ تجسم کے قول سے بچکر شرک میں جاکودے بارش سے بچنے کے لئے پرنالے کے نیچے کھڑا ہونا اسی کوکہتے ہیں ۔یادرکھئے کہ حضرت علی کی محبت میں دیوانہ پن غلو کے رنگ میں نہیں ہونا چاہِے بلکہ اس محبت کی دیوانگی کا رخ حضرت علی کی سیرت کی طرف  ہونا چاہئے پس علی کی محبت میں نماز واجب کے ساتھ ساتھ نوافل اداکرلیا کریں ۔ان کی محبت میں اعمال ناشائستہ سے توبہ کرلیں اس کی محبت کے جوش میں اپنے مال سے زکواۃ ادا کریں اور اگر حج واجب ہے تو وہ ادا کریں ۔بہرکیف محبت کو شریعت کے سانچہ میں ڈھال کراپنی دیوانگی کا ثبوت دینا چاہیے حضرت علی کی محبت میں دیوانگی صرف عقائد کو مسنح کرنے اور عقیدہ توحیدپر ہاتھ صاف کرنے کے لیے نہیں ہونی چاہیے۔

ایک تبصرہ شائع کریں