خداوند کریم اپنے لطف و کرم سے انسانوں کی اصلاح کی خاطر جن برگزیدہ لوگوں کو دینی منشور دے کر بھیجتا ہے وہ نبی و رسول کہلاتے ہیں اور ان کے اس عہدہ جلیلہ کا نام نبوت یا رسالت ہو تا ہے جس پر وہ من جانب خدا فائز ہوتے ہیں پس خداوند قدوس کے وجود و توحید و عدل و باقی صفات کمال کے اعتراف کے بعد نبوت انبیا پر ایمان لانا ضروری ہے اور اس عقیدہ کا ثبوت بھی عقلی طریقہ پر نہایت آسان ہے ہم پہلے یہ بیان کرتے ہیں کہ نبوت کی ضرورت کیوں ہے
اس سے قبل ہم ثابت کر چکے
ہیں کہ حیوان اور انسان میں امتیاز دینے والا انسانوں میں ایک ملکہ موجود ہے جس
عقل کہا جا تا ہے پس جب وہ عقل فطری اپنی ابتدائی منازل سے آگے بڑھتا ہے اور
غوروفکر کے میدان میں قدم رکھنے کی صلاحیت
اپنے اندر پاتا ہے تو پہلا مسئلہ جو فطرت
سلیمہ اسے ڈھونڈنے اور حل کرنے پر مجبور کرتی ہے یہ ہے کہ ہمارا امبداءکیا ہے اور
ان علل و اسباب کی انتہا کہاں تک ہے جسے مبداءاور اول اور فیاض مطلق کہا جائے اور یہ کہ اس نے ہمیں کیوں پیدا کیا
ہے ؟ اور یہ کہ اس ناپائیدار مقام رہائش
کی غورو خوض اور دوڑ دھوپ جب مبداءاول تک پہچی اور وجود خدا اس کی صفات اور اس کی
توحید تک سمجھنے کی توفیق مل گئی تو عقل نے فیصلہ کیا کہ میرا کوئی لائحہ عمل ہونا
چاہیے تاکہ بازگشت اور انجام میں بھلائی ہو پس جب فیاض مطلق کے لطف نے عقل کو اس
حد تک پہچنے کی تو فیق دی تو عقل اس سے آگے بڑھنے سے معذور تھی پس وہ
اس سے مزید ایک لطف کی خواہشمند تھی جو اسے آگے بڑھائے اور مبداءاول کی معرفت کی
تفصیلات غرض خلقت کے حقئق اور بازگشت کے متعلق مفصل معلومات فراہم کرے اور ایک
ایسا دستور عطا فرمائے جس کی بدولت
انسان اپنے فطری و انسانی فرائض ادا کر کے
رف و کمال کے مراتب تک رسائل حاصل کر سکے اور اس لفط کا نام نبوت ہے ۔
انسان اپنے اوپر نعمات متکاثر ہ
کی بارش دیکھ کر عقل کو خود بخود متوجہ پا تا ہے کہ یہ نعمات مجھ ر کیوں ہیں یہ
لمبی چوڑی زمین بلند آسمان آفتاب
عالمتاب ماہتاب ہوائیں باشیں سبزیاں اور جماد و نابت و حیوانات گویا کائنات
میں بری و بحری تمام قدرتی ذخائر جن سے
میں صبح و شام استفادہ کر تا ہوں نہ مجھے کوئی روکنے والا ہے نہ کوئی پابندی عائد
کرنے والا ہے آخری یہ سب احسانات و نعمات جو میرے اوپر ہیں ان کا موجد میں تو
نہیں ہوں لہذا جس نے مجھے یہ عطا فرمائیں وہ کون ہے ؟ نیز یہ کہ ان نعمات کے استعمال
میں مطلق العنان ہوں یا مجھ پر کچھ حدود کی پاسداری بھی عائد ہے ؟ لہذا سچنا پڑتا ہے
کہ محسن کے حقوق کیا ہیں اور اس کے شکر کا طریقہ کیا ہے ؟ پس ضرورت محسوس ہوئی کہ
وہ مبدا فیاض جس نے میرے
اوپر نعمات و احسانات کی اس قدر بارش نازل فرمائی ہے اس کی نعمت ایک یہ بھی
ہونی چاہیے کہ اپنا نمائندہ بھیجے جو حقوق اللہ حقوق نفس حقوق منزل اور حقوق تمدن
کی حدود سمجھائے تاکہ ہم نعمت کا بدلہ احسان سے دیں اور کفر ان تک نہ پہچیں
تاکہ زوال نعمات کا موجب نہ بنیں اور مقام
باز پرس میں رسوائی سے بچ سکیں
انسان نے منصہ شہور پر قدم رکھتے ہی جس فطرت کا اظہار کیا وہ ہے جذب مرغوب و دفع مکروہ
یعنی عقل حیوانی کے زمانہ میں فطرت
انسانیہ مرغوب و مطلوب کی ہوس اور مکروہ سے نفرت کا اظہار کر رہی تھی پھر جب عقل
نے آنکھ کھولی تو اس فطر اولیہ کو مزید تقویت پہچی اور اس فطری مطلب کے حصوصل کے لیے زیادہ سے زیادہ راہیں ہموار ہونے لگیں اور اسباب و علل کی تلاش
کے ذرائع اور وسیع ہو گئے پس عقل طلب کمال
و عزت نفس کو تمام مرغوبات و مطلوبات میں سے اہمیت دینے لگی حتی کہ باقی سب
مرغوبات کو اسی مرغوب کا زینہ قرار دیا اور مطلوب کی تحصیل کے لیے ہر حائل کو
سامنے سے دور کرنا بھی ضروری تھا پس
انسانی فطرت میں جذب و دفع کے جذبات فساد و فتنہ کا سبب بن گئے پس فطرت کو ایک
ایسے ہادی کی ضرورت محسوس ہوئی جو مرغوبات و مکروہات میں حدود بند ی کرے جس کی بنا عدل و انصاف کے اصولوں پر ہو اور عدل
وانصاف کے اصولوں پر مبنی نظا م کی توقع ایسے لوگوں سے نہیں ہو سکتی جو خود جلب
منفعت کے دیوانے ہوں پس فطرت کا تقاضا جس کی عقل ترجمان ہے یہ ہے کہ م بدا فیاض کی
ہی جانب سے کوئی نمائندہ ہم پر مسلط ہو جس کے ہاتھ میں اس جانب سے عطا کر دہ
مکمل دستور انسانی ہو جس کی موافقت سے انسانی کمال و عزت کی منازل کو باہمی تصادم
کے بغیر حاصل کر سکے
وجوہات مذکورہ بالا کی روشنی میں عقل
اس فیصلہ تک پہنچی کہ ضروری ہے خدا ایسے بندے اپنے نمائندے بنا کر بھیجے جو
انسانوں کو صحیح انسانی لائحہ عمل تعلیم کریں جو حقوق اللہ حقوق نفس اور حقوق
العباد کے جملہ حدود پر حاوی ہو کہ انسان جس طرح مبدا اول اور محسن فیاض کو معرفت
کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرے اسی طرح فروعی اعمال کے ضابطہ پر بھی عمل پیرا ہو سکے
جس کے نتیجے میں نوع انسانی جہاں حق نعمت پروردگار کے ادا کرنے پر موفق ہو وہاں
جورواعساف کچی و انحراف اور طلم و استبداد کے پر خطر امن سوز اور وحشیانہ انداز سے
اجتناب کرتے ہوئے بجائے تو حش و بہمیت کے پر بہار پر سکون اور پر امن زندگی گزار سکے کفران نعمت کے بجائے اوائے حق نعمت ہو اختلاف و انتشار کی جوگہ محبت و پیار وہو
افتراق اتفاق سے بدل جائے سفاکی و بے باکی صلح
و آشتی سے تبدیل ہو جائے بے حیائی کی جگہ حیا اور ظلم و تشدد کی جگہ عدل و
مروت لے لے اسی طرح خود غرضی کی جگہ
رواداری اور نفس پرستی کی جگہ خمگساری آج آ جائے گویا حیوانیت و درنگی کی بجائے
شرافت و دیانت امانت اور نجابت رونما ہو پس کما حقہ انسانیہ کا بول بالا ہو اور زمین خدا عدل و انصف اور امن و اطمینان کا گہوراہ ہو