التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

غلط الزام کا جواب

چونکہ اہل اسلام میں بڑے بڑے  علماء آئمہ  اہلبیتؑ کے مقابلہ میں طفل مکتب کی حیثیت کرکھے ہیں لہذاآئمہ  طاہرینؑ کے بعض فرامین جب  انکے ذہن نارساسے دور ہوتے ہیں تو ان میں ان کے متعلق ایک بغاوت سی پیدا ہوجاتی ہے پس جب شیعہ انکےسامنے آئمہ طاہرین  کے علمی ذخائر میں سے کوئی نکتہ پیش کریں تو وہ فورا کہہ دیتے ہیں کہ شیعہ اپنے آئمہ  کو عالم الغیب مانتے ہیں  یہ انکی فہم ناقص اور علم قاصر کا ہی دھوکہ ہے کہ بعض ایسی چیزیں جو آئمہ کے نزدیک قرآن مجید کے طواہر میں سے ہوتی ہیں ان لوگوں کی دقت نظر کے باوجود  انکے اذہان میں معمہ کی حیثیت رکھتی ہیں اور شیعہ جب ایسی چیزوسں کو بیان کریں تو انہیں یقینا یہ باتیں اجنبی معلوم ہوتی ہیں پس وہ بلادریغ اسے علم غیب سے تعبیر کرتے ہیں مثال کے طور پر خلیفہ ثانی کے سامنے دوماؤں میں لڑکی اور لڑکے کے متعلق جھگڑے کا مقدمہ پیش ہوا ان دونو میں سے ہر ایک لڑکے کی دعویدار تھی خلیفہ سے جب فیصلہ نہ ہوسکا تو سرکار ولایت کے دردولت پر جبہ سائی کی آپ  نے ایک حجم کی دوشیشیاں منگواکر دونو عورتوں کو ایک ایک شیشی  دے دی کہ اس میں وہ اپنا دودھ بھر دیں چنانچہ دونوں کو وزن کیاگیا اور جس کا دودھ زیادہ وزنی نکلا  اس کے حق میں لڑکے کا فیصلہ کردیا اور دوسری کو لڑکی  دے دی جب آپ سے وجہ پوچھی گئی تو آیت وراثت  سے استدلال فرمایاکہ خدانے مرد کو عورت سے دگنا حصہ دینے  کاحکم دیاہے لہذامرد کی خوراک عورت سے زیادہ ہو نی چایہے بنابریں سینہ مادر میں لڑکے کی غذاوزنی اور لڑکی کی غذا ہلکی اس نے مقرر کی ہے  کہتے ہیں آپ سے  فرمایا جس طرح ہاتھ کی انگلیوں کو شمار کرنے کی تمہیں ضرورت نہیں اس لئے کہ وہ ہر وقت تمہارے پاس اور سامنے ہیں اسی طرح مسائل قرآ نیہ  ہمارے سامنے ہیں ہمیں تامل وفکر کی ضرورت  نہیں ہے

اسی طرح آپ سے ایک شخص نے درد شکم کی شکایت کی کہ کافی علاج کراچکاہوں  لیکن آرام نہیں ملتا آپ نے فرمایا  اس کا نسخہ قرآن مجید میں موجود ہے  وہ حیران ہوا تو آپ نے فرمایا شہد لے لو اور بارش کا پانی لے لو پھر عورت کے حق مہر میں سے کوئی شئی لے کر  ان میں ملا لو اور اس کو پی لو چنانچہ اس نے عمل کیا تو تندرست ہوگیا آپ نے اس نشخہ کی ترتیب اس طرح بیان فرمائی کہ قرآن میں شہد کی تعریف میں ہے کہ یہ شفاہے بارش کا پانی مبارک ہے اور عورت اپنے مہر سے کوئی چیز  ہبہ کرے تو وہ ھنیءا مریا ہے پس تینوں مل جائیں تو کیوں نہ شفاہو

اسی طرح امام محمد تقی علیہ السلام  سے چور کی سزا کی حد پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا صرف ہاتھ کی انگلیاں کاٹی جائیں – وجہ پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا مساجد اللہ کی نشانیاں میں اور ہتھلیاں چونکہ جائے سجدہ ہیں لہذاان کو سزا سے مستثنیٰ  قرار دے کر باقی حصہ پر حدجاری ہے کی جائے

بہر کیف چانکہ آل محمدؐ کے حادی علوم کے مقابلہ میں دنیاکے علماء  عام مبتدی کی حیثیت رکھتے تھے لہذاوہ ایسی باتوں کو علم الغیب سمجھنے لگ جاتے تھے جس طرح آج کل کی نئی تحقیقات علم غیب کے ظرف سے ہی توبرآمد ہورہی ہے  جو مسائل کل تک عقدہ لایخل تھے  آج معرض التفات سے بھی گرگئے ہیں مادہ وطبیعت کے بہت سے سربستہ راز آج عیاں ہوچکے ہیں  گویا معلومات کے غیبی خزانے روزبروز کھلتے جارہے ہیں اور ترقی کرنے والے آگے بڑھتے چلے جارہے ہیں اور ان کی ترقیاں جہاں ختم ہوں گی حجت زمانہ کا قدم آگے ہوگا اور جو معلومات کے خزانے انکی آخری اورانتہائی کوشش کے بعد بھی سربستہ راز کی طرح مخفی رہیں گے وہ بمشیت پروردگار حجت خدا کے سامنے آشکار ہوں گے پس جو علوم ان کےسامنے ایک واضح حقیقت کی طرح ہوں گ ے اس دنیا کی ترقی کی آخری منازل پر پہنچنے والے بھی اسے غیبی معلومات سے تعبیر کریں گے

شیعہ کا عقیدہ ہے کہ علم غیب صرف اللہ کے لئے ہے اور اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو جس قدر عطافرمائے وہ اس قدر غیب کا عالم ہوتاہے اور محمدؐوآل محمدؐ  کو تمام کائنات میں سے زیادہ علم عطافرمایا اور بہت سے غیبی علوم ہیں جو باقی انبیاء کی بہ نسبت بھی محمدؐ وآل محمد ذیادہ  جانتے ہیں اب ہم یہ  نہیں بتاسکتے کہ انکے پاس غیب کا کتنا علم تھا یہ خود اللہ ہی جانتاہے اور آنے والا وقت بتائے گا کہ علم غیب میں سے امام کو کسقدر عطاہوتاہے ہاں اس قدر ضرورہم کہتے ہیں کہ انکے پاس اتنا ہے کہ اور کسی کے پاس نہیں اور خدا نے انکو اپنے سب بندوں سے زیادہ عطافرمایاہے

ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء     اگر کوئ شخص شیعوں کی طرف اس  سے زیادہ کوئی بات منسوب کرے تو وہ جھوٹا ہے علوم شرعیہ میں انکاعلم کلی ہے کیونکہ یہ ہاعی ہیں لہذاکسی مسیلہ میں عاجز آجانا انکے شایان شان نہیں ہے لیکن علوم تکونییہ میں جس قدر ضرورت ہواور مصلحت خداوندی ہو انکو علم ہوتاہے اور جتنا خدا چاہے جب چاہے دے سکتاہے ہر وقت ہر شئیی  کا علم اور ہر جزوی کا علم صرف خدا کی ہی صفت

ہے وھو بکل شئیی علیم   پس شیعہ محمدؐ وآل محمدؐ  کو جس طرح کسی دوسری صفت

میں خداکا شریک نہیں مانتے اسی طرح صفت علم میں بھی وہ ان کو خداکا شریک نہیں جانتے بلکہ ان کے علم کو عطیہ پروردگار سمجھتے  ہیں اور شیعوں کے نزدیک وہ شخص مشرک ہے جو اپنے کسی پیرومرشد کویاکسی بڑے سے بڑے ہادی  کو خدائی صفات میں شریک جانتاہو

ایک تبصرہ شائع کریں