توحید صفات
یعنی وہ تمام صفات کمال
کا جامع ہے اور تمام صفات اس کی عین ذات ہیں اگر صفات کو اس کی ذات سے الگ مانا
جائے تو تعدد احتیاج لازم آئے گا اوراس کی تمام صفات میں بھی اتحاد موجود ہے پس وہ
ایک ذات ہے جو جمیع صفات کمال کی مظہر ہے ۔
توحید درافعال
یعنی خلق رزق موت حیات
اورامور تکونتیہ کا کملہ نظام اور اس میں چھوٹی بڑی تمام صنعتیں وحکمتیں اس کی
تدبیر اتم کی مرہون منت ہیں پس اس کاکوئی شریک نہیں نہ ذاتی طور پر اور نہ تفویض
کے طریقے سے بس وہی ایک سب اقتدار کا واحد مالک ہے ۔
توحید درعبادت
یعنی عبادت صرف اسی ایک
کے لیے ہے اس کے علاوہ کسی دوسرے کی عباد ت کرنا نا جائز ہے البتہ مقام دعا میں
محمد وآل محمد کا وسیلہ دعاوں کی مقبولیت کا ذریعہ ہے ۔
اللہ کی کنہ ذات کا علم ناممکن ہے
اتنا تو معلوم ہوگیا کہ
اس عالم حادث کا ایک موجد ہے جوازلی و ابدی ہے اور واجب الوجود ہونے کے علاوہ تمام
صفات کمال کا جامع ہے ۔اور وہ واحد دیکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ۔لیکن اس سے آگے
قدم رکھتے ہوئے اس کی کنہ ذات کا معلوم کرنا ناممکن ہے اوراس کا ادراک نہ کسی ملک
مقرب کے بس میں ہے اورنہ کسی نبی ومرسل اور ولی مرشد کی قدرت میں ہے اسی لئے تو سب
کے سب یہ اعتراف کرتےرہے ہیں ۔عربی :۔ترجمعہ :۔ہم نے تجھے اس طرح نہیں پہچانا جس
طرح حق معرفت ہے ۔
پس نہ اس کی ذات کی کنہ
پہچانی جاسکتی ہے اور نہ اس کی صفات کی کنہ جانی جاسکتی ہے کیونکہ کے اس کے صفات
عین ذات ہیں چنانچہ ابھی ابھی ثابت ہوچکا ہے ذراحضرت امیرالمومین کی زبانی سنیئے
:۔آپ ایک خطبہ میں ارشاد فرماتےہیں :۔عربی :۔ترجمعہ :۔اس اللہ کے لیے حمد ہے جس کی
مدح کو کرنے والے نہیں پہنچ سکتے ۔اور جس کی نعمتوں کو گننے والے نہیں شمار کرسکتے
اور جس کا حق کوشش کرنے والے نہیں ادا کرسکتے اور وہ جس کو ہمتوں کی بلندی نہیں پا
سکتی اورنہ اس کی حقیقت کی تہہ تک عقل ودانش کی غوطہ زنی پہنچ سکتی ہے وہ جس کی
صفت کی مقرر حد نہیں اورنہ اسکی تعریف کے لفظ معین ہیں نہ فانی زمان اورنہ طولانی
مدت {اسکی صفت کے لیے کافی ہیں }
انسانوں میں ادراک کے
ذرائع پانچ حواس ہیں قوت باصرہ قوت سامعہ قوت شامہ قوت ذائقہ قوت لامسہ باصرہ صرف
رنگ کو ادراک کرتی ہے سامعہ آوازوں کو معلوم کرتی ہے شامہ خوشبووبدبو جان سکتی ہے
ذائقہ سے تلخ وشیریں کا پتہ چلتا ہے ۔اور لامسہ سے گرم وسرد یا نرم وسخت معلوم
کیاجاتاہے اورحضرت حق سبحانہ ان سب سے بلند وبالا ہے نہ اسکا رنگ نہ آواز نہ
خوشبووبدبو نہ تلخ وشیریں نہ گرم وسرد اور نہ نرم وسخت بلکہ ان تمام کفیات وحالات
کا خالق ہے ۔جب یہ نہ تھیں وہ تھا اور قوائے باطنہ میں سے نہ وہم کی اس تک رسائی
ہے ۔نہ خیال کی پہنچ جس طرح عالم سفلی کی مخلوق اس کی حقیقت کنہ کے ادراک سے عاجز
ہے اسی طرح عالم بالا اورئلا اعلی کی مخلوق ہوگا اور بھی اسکی کنہ معلوم کرنے سے
قاصر ہے کیونکہ جو ذہن میں آئے گا وہ ذہن کی مخلوق ہوگا اور محدود ہوگا اوراللہ اس
سے اجل وارفع ہے اسکی معرفت اسکے افعال وآثار سے ہوتی ہے اوراس کی ذات میں گھسنا
تحیراضطراب کا باعث ہے کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے :۔
اے برتراز قیاس وخیال
وگمان ووہم
وزہر چہ گفتہ اندو شنید
یم وخواندہ ایم
ترجمعہ :۔اے وہ جو قیاس
وخیال وگمان وہم سے بھ برتر ہے اور ہراس صفت سے بلند ہے جو لوگوں نے بیان کی اورہم
نے سنی یاپڑھی ۔