خداوند کریم کی دلیل اثبات و دلیل توحید سے تو یہ واضح ہو گیا ہے کہ وہ تمام صفات کمال کا جامع ہے اور چونکہ عدل بھی صفات میں سے ایک صفت ہے بلکہ یہ صفت تمام صفات میں سے شرف و کمال اور عزو جلال کی محور و مدار ہے اسی بنا پر تمام مسلمان باوجود یکہ مختلف مکتبہ فکرکی جماعتوں سے ذات حق سبحانہ فی الجملہ صفت عدل سے متضف ہے اور وجود باری کے ثبوت کے بعد نظام عالم اکبر میں تدبر خود بخود اس امر اکا اعلان ہے کہ وہ ذات جس نے اس عالم کو ن و مکان کو گوناگوں صالح و حکم کے ماتحت مخصوص تدبیر و تقدیر سے پیدا کیا اور اس کو باقی رکھا ہے وہ ذات عادل ہے کیونکہ پہلے ہم بتا چکے ہیں کہ اس کا معنی ہے ہر چیز کواپنے مناسب و موزوں مقام پر رکھتا تواس کے نظام اتم میں تفکر سے بڑ ھ کراورکون سی برہان وجود کی ناقابل تردید دلیل ہےاسی طرح یہی نظام اپنی پوری خوبیوں اور مصلحتوں کےساتھ اس ذات کے عدل کی بولتی ہوئی زبان ہے گویا جس طرح اس کا عادل ہونا بھی اظہر و بیش ہے جس طرح ظلم ہرقسم کےعیبوں کی جڑ ہے اسی طرح عدل تمام صفات حسنہ کی جڑ ہے جس طرح ظلم کی برائی محتاج بیان نہیں اسی طرح عدل کا اثبات بھی توضیح الواضحات میں سے ہے پس خدا کا عادل ہونا ایک بد یہی مسئلہ ہے
التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔
یہاں کلک کریں
علامہ حسین بخش جاڑا کی تصانیف ، تفسیر انوار النجف، قرآن مجید کی بہترین تفسیر ، لمعۃ الانوار، اس میں شیعہ عقائد ، اصحاب الیمین، شہداء کربلا کے بارے ، مجالس کا مجموعہ، مذہب شیعہ کی حقانیت پر مدلل کتاب ، احباب رسول، کتاب اصحاب رسول کا جواب ، اسلامی سیاست، اصول دین کی تشریح پر مفصل بحث ، امامت و ملوکیت ، خلافت و ملوکیت کا جواب ، معیار شرافت، اخلاقیات ، انوار شرافت، خواتین کے مسائل، انوار شرعیہ، مسائل فقہیہ ، اتحاد بین المسلمین پر مبنی مناظرہ ، نماز امامیہ، شیعہ نما زکا طریقہ اور ضروری مسائل