التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

ملائکہ پر ایمان

ملائکہ کی تعریف یہ کی جاتی ہے کہ وہ اجسام نوریہ ہیں جو کتے اور سور کے علاوہ ہر شکل کواپنا سکتے ہیں چنانچہ جبرئیل کے متعلق وارد ہے کہ وہ خدمت نبوی میں دحئیہ کلبی کی شکل میں حاضر ہوتا تھا بہر کیف مطلب کی ثابت کرنے کے لئے احادیث کا یا اجماع علمائ کا سہارا لینا انتہائی کمزوری ہےجب کہ قرآ ن مجید میں ان کاصراحت سے ذکر موجود ہے پس ملائکہ کے وجود کا منکر قرآن کا منکر ہے اوروہ بلا ریب کافر ہے ملائکہ کی تعداد سوائے اللہ کے کوئی نہیں جان سکتا ان کی خلقت حضرت آدم علیہ السلام سے بہت پہلے کی ہے حضرت امیر علیہ السلام نہج البلاغہ میں ارشاد فرماتے ہیں کہ ان میں سے جو قیام کی حالت میں ہیں وہ سجدہ نہیں کرتے اور جو رکوع میں ہیں و ہ قیام نہیں کرتے گویا عبادت کی اہم چار حالتوں میں وہ منقسم ہیں قیام قعود رکوع اور سجود ایک سے دوسری حالت پر منتقل نہیں ہوتے اور انسانوں کو یہ شرف حاصل ہے کہ ان کی عبادت نماز فرشتوں کی عبادت کی ہرچہار حالتوں پر مشتمل ہے بروایت انوارنعمانیہ امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے صرف آسمان کے فرشتے زمین کی مٹی کے ذرات سے تعداد میں زیادہ ہیں اور آسمان میں کوئی قد م رکھنے کی جگہ نہیں جہاں کوئی فرشتہ تسبیح و تقدیس پروردگار میں مشغول نہ ہو اور زمین میں کوئی انگوری یامٹی کا روڑا ایسا نہیں جس پر کوئی فرشتہ موکل نہ ہو پس وہ اپنی کارکر دگی یومیہ بارگاہ خالق پیش کرتے ہیں اور ہر یوم اہل بیت کی ولایت کا اقرار کرتےہیں  او ر ہمارے محبوں کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں اور ہمارے دشمنوں پر لعنت بھیجتے ہیں

ملائکہ کی کثرت تعداد کے متعلق تفسیر لوامع التنزیل میں کتاب جواہر القرآن سے منقول ہے کہ آدمی جنوں کا دسواں حصہ ہیں اور یہ سب مل کر بحری مخلوق کا دسواں حصہ ہیں اور ان سب سے زمین کے ملائکہ دس گنا ہیں  اور اگر ان سب کو ملایا جائے تو آسمان اول کے فرشتے ان سے دس گناہیں اور ان سب کے مجموعے سے دوسرے آسمان کے فرشتے دس گناہیں وعلی ہذا لقیاس سات آسمانوں تک پھر ساتوں آسمانوں اور زمین کے سب فرشتے مل کر کرسی کے فرشتوں کا دسواں حصہ ہیں اور ان سب سے سر اوقات عرش میں سے ایک سراوق کے فرشتے دس گنا زیا دہ ہیں اور سر اوقات کی تعداد چھ لاکھ ہے اور یہ سب عرش کے فرشتوں کا دسواں حصہ ہیں آسمانوں میں کوئی قدم رکھنے کی ایسی جگہ نہیں ہےجہاں سجود یا قیام میں کوئی ملک موجو د نہ ہو اور وہ سب تسبیح و تقدیس پرور دگار میں مشغول ہیں اور سب مل کرعرش کے طواف کرنے والوں کے مقابلہ میں ایسے ہیں جیسے ایک قطرہ سمندر کے مقابلہ کے مقابلہ میں پھر لوح کے فرشتے جن کاسردار اسرافیل ہے اور پھر جبریل کےماتحت کام کرنے والے پس اللہ کے لشکروں کو سوائے اس کے اور کوئی نہیں جا ن سکتا وما یعلم جنود ربک الا ھو ہمار ا عقیدہ یہ ہے کہ ملائکہ معصوم مخلوق ہے اور وہ نوری یفعلون ما یومرون یعنی جو کچھ حکم دیا جاتاہے بس وہ ہی بجالاتے ہیں وہ ایک چشم زدن میں بھی اپنےپروردگار کی مخالفت نہیں کرتے لہذا ملائکہ کے متعلق بعض بعض الزامات جھوٹے انسانوں سے زیادہ وقعت نہیں رکھتے اور ہمارا عقیدہ ہے کہ سب فرشتے محمد ؐ وآل محمدؐ کے غلاموں کی حیثیت رکھتے ہیں تمام ملائکہ سے چار فرشتے افضل ہیں جبرائیل میکائیل اسرافیل اور عزرائیل اور جبرائیل ان سب سے اشرف و افضل ہیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں