یہ حدیث کتب صحاح میں موجود ہے اور حد تواتر تک پہنچی ہوئی ہے اس حدیث کے موضوع پر بڑی بڑی ضخیم کتابیں لکھی جاچکی ہیں چنانچہ مولانا سید حامد حسین قبلہ لکھنوی اعلیٰ اللہ مقامہ نے عبقات الانوار کی ایک ضخیم جلد میں صرف حدیث ثقلین ہی کو موضوع بحث قرار دیا مسند احمد تفسیر ثعلبی صحیح مسلم وغیرہ سب کتب میں یہ حدیث موجود ہے اگر چہ روایات کے الفاظ مختلف ہیں لیکن اس مفہوم میں سب شریق ہیں کہ حضور نےفرمایا تھا انی تارک فیکم الثقلین کتاب اللہ وعتراتی اھلبیتی ماان تمسکتم بھما لن تضلوابعدی میں تم میں دوگرانقدر چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ایک اللہ کی کتاب اور دوسری میری عترت جب تک تم ان دونو سے تمسک کئے رہو گے ہرگز ھرگز میرے بعد گمراہ نہ ہوگے یہ حدیث تمام صحابہ کرام کو حضرت علیؑ اور باقی اہل بیتؑ سے تمسک کرنے کی وصیت ہے اور ہم ثابت کرچکے ہیں کہ اہل بیت سے مراد حضرت علیؑ وفاطمہؑ وحسنؑ وحسینؑ ہی ہیں جیسے آیت تطہیر کے بیان میں مختصرا گزر چکاہے پس انکو قرآن کا قرین بنانا ان کی خلات پر نص ہے ایک حیث میں علی مع القرآن والقرآن مع علی فرمایا چنانچہ یہ حیث پہلے گزر چکی ہے پس حدیث کی دلالت خلافت پر عیاں راچہ بیان کی مصداق ہے
التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔
یہاں کلک کریں
علامہ حسین بخش جاڑا کی تصانیف ، تفسیر انوار النجف، قرآن مجید کی بہترین تفسیر ، لمعۃ الانوار، اس میں شیعہ عقائد ، اصحاب الیمین، شہداء کربلا کے بارے ، مجالس کا مجموعہ، مذہب شیعہ کی حقانیت پر مدلل کتاب ، احباب رسول، کتاب اصحاب رسول کا جواب ، اسلامی سیاست، اصول دین کی تشریح پر مفصل بحث ، امامت و ملوکیت ، خلافت و ملوکیت کا جواب ، معیار شرافت، اخلاقیات ، انوار شرافت، خواتین کے مسائل، انوار شرعیہ، مسائل فقہیہ ، اتحاد بین المسلمین پر مبنی مناظرہ ، نماز امامیہ، شیعہ نما زکا طریقہ اور ضروری مسائل