التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

افعال کا حسن و قبح عقلی ہے

تمام اصحاب عقل و ارباب دانش مذکورہ بالا عقیدہ سے لے کر زا رہیں اور اہل اسلام کے متعدد گروہ باوجود باہمی و کلی و جزی اختلافات کے عقیدہ مذکورہ کے بطلان پر متفق ہیں ہم وضاحت کرنے کے بعد وجدان سلیم کا اس کا فیصل مقرر کریں گے دیکھئے افعال خارجہ میں بعض حواس ظاہر یہ سے ملائم ہیں اور بعض ناملائم بلکہ تمام موجودات خارجہ کی ہی دو قسمیں ہیں کان قمری و بلبل کی آواز سے مانوس ہے لیکن گدھے کی آواز اور بجلی کی کڑک سے غیر مانوس قوت لامسہ نرم چیزوں سے مانوس سخت سے متنفر قوت شامہ خوشبو سے مانوس ہے بدبو سے اس کو کڑاہٹ ہے اور  اسی طرح قوت باصرہ کی مختلف اشکال سے اور  قوت ذائقہ کی مختلف ذائقوں سے یہی نسبت ہے بلکہ تما م موجودات عالم کی یہی کیفیت ہے کہ کسی سے انس اور کسی سے نفرت اور ان تمام حواس کے رئیس حضرت عقل کی بھی حالت ہے جو بدن انسانی میں رسول باطنی کی حیثیت رکھتا ہے جب ہر قوت اپنے آثار سے پہچانی جاتی ہے آنکھ دیکھنے سے کان سننے سے ناک سونگھنے سے اور زبان بولنے سے وعلی ہذا القیاس تو عقل بھی آثار سے پہچانی جانی چاہئے اس کی وضاحت یوں سمجھئے کہ حواس خمسہ ظاہرہ یا حواس باطنہ یہ سب نفس کے آلات ہیں اور نفس کے ادراک کے ذرائع ہیں نفس انہی ذرائع و اسباب سے اشیا کا علم حاصل کرتاہے پس کسی چیز کی طر ف اقدام کرتا ہے او ر کسی سے روکتا ہے اور اللہ نےچونکہ انسان کو نیکی و بدی کی دورائیں دکھلائی ہیں کہ نیکی کےراستوں کو اختیار کر کے کسب کمال کی طرف قد م برھائیں اور برائی کو چھوڑ کر پستی کے گڑھے میں گرنے سے بچ جائیں اور بعض اوقات خود نفس اچھائی و برائی کا فیصلہ کرنے سے قاصر ہوتاہے کیونکہ حواس اگرچہ اپنی اپنی رپورٹ صحیح پیش کرتے ہیں لیکن یہ نفس نفع و نقصان یا نیکی و بدی یا دوست و دشمن یا ملائم و منافر میں غلبہ شہوات یا اختلاف احوال کی وجہ سے فیصلہ نہیں کر سکتا بلکہ بعض اوقات اچھائی کو چھوڑ کربرائی کی طر ف مائل ہو جاتاہے اسی طرح نفع کی بچائے ضرر کی کھج جا تا ہے وعلی ہذا القیاس تو خدا وند کریم نے جو محسن حقیقی ہے اپنے کمال لطف و کرم اور فضل و احسان سے اس کو ایک ایسی قوت کاملہ عطا فرمائی جسے قوت عاقلہ کہاجا تاہے تاکہ اس سعادت و شقاوت میں فرق پیدا کر سکے اور اس جگہ نفع و نقصان سے ہماری مراد صرف وہ نہیں جس کو حواس ظاہریہ ہی پر کھ سکتے ہیں جیسا کہ ہم نے ابھی ذکر کیا ہے اور خوشبو و بدبو یا تلخ و شیریں وغیرہ کا حواس ظاہرہ کے ذریعے سے پرکھ لینا بڑی بات نہیں کیونکہ یہ تو حیوان بھی کر سکتے ہیں بلکہ اس مقام پر ہماری مراد ہے بلند ی اور پستی کی راہوں میں امتیاز پیدا کر نا اور خست و کرامت کے ذرائع معلوم کرنا اور یہی چیز بعض کی بعض پر فضیلت کی موجب ہوا کرتی ہے اور یہی چیز انسان اور حیوان کے درمیان امیتاز کا بڑا نشان ہے بس عقل ہی وہ قوت ہے جس کے ذریعے سے انسان سعادت ترقی اورعلم و معرفت کی بلندیوں کی طر ف اقدام کرنے کا اہل ہوتا ہے اور اسی قوت کے ذریعے سے انسان نیکی و بدی اور صحت و فساد میں تمیز کر سکتا ہے اور اخلاق شریفہ و عادات خسیسہ کے درمیان یہی قوت امتیاز دیتی ہے پس علو و ارتقاع اور عزو شرف کا زینہ یہی قوت قدسیہ ہے


ایک تبصرہ شائع کریں